سلیکٹڈ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کو سیاسی اور اقتصادی دلدل میں پھنسا دیا ہے، سید شاہ محمد شاہ

ملک میں سویلین مارشل لاء نافذ ہے، مسلم لیگ کے قائد میاں نوازشریف نے کسی ڈھیل اور ڈیل کو مسترد کر دیاہے ،اگرچہ مولانا فضل الرحمن کے اسلام آباد لاک ڈائون میں شرکت کے بارے میں فیصلہ 30 ستمبر کو مجلس عاملہ کرے گی لیکن مسلم لیگ (ن) ہر طرح ان کے ساتھ ہے بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کسی طرح بھی پیچھے نہیں رہیں گے، ہم سب جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، پریس کانفرنس سے خطاب

اتوار ستمبر 23:10

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 ستمبر2019ء) مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر سید شاہ محمد شاہ نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کو سیاسی اور اقتصادی دلدل میں پھنسا دیا ہے، ملک میں سویلین مارشل لاء نافذ ہے، مسلم لیگ کے قائد میاں نوازشریف نے کسی ڈھیل اور ڈیل کو مسترد کر دیا ہے، حکومت نے اپوزیشن کی یکجہتی پیدا کرنے کی کوششوں کو بار بار سبوتاژ کرکے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اگرچہ مولانا فضل الرحمن کے اسلام آباد لاک ڈائون میں شرکت کے بارے میں فیصلہ 30 ستمبر کو مجلس عاملہ کرے گی لیکن مسلم لیگ (ن) ہر طرح ان کے ساتھ ہے، بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کسی طرح بھی پیچھے نہیں رہیں گے، ہم سب جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے عمران خان کے ہر حربے کی مزاحمت کی جائے گی۔

(جاری ہے)

وہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر سینیٹر نہال ہاشمی، ایم این اے کھیئل داس کوہستانی، اکبر گجر، قمر راجپر، راجہ انصاری، کلیم شیخ اور دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔ ایک سوال پر سید شاہ محمد شاہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے منشور الگ الگ ہیں ہم آئندہ ایک دوسرے کے خلاف الیکشن میں بھی حصہ لیں گے لیکن ہم سب جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز اور نوازشریف کوئی بھی پیچھے نہیں رہے گا، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں جتنے بھی گروپ بن جائیں لیکن جو نوازشریف کے ساتھ ہیں وہی مسلم لیگی ہیں باقی سب چور ہیں، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے آئین کے آرٹیکل 149 کی آڑ میں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے جو ہتھکنڈے استعمال کرنے کا جو عندیہ دیا ہے وہ قابل مذمت ہے مسلم لیگ اس کی مزاحمت کے لئے سب سے آگے کھڑی ہو گی، انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف سے جیل کے دروازے کھول کر رہنمائوں کی ملاقاتیں کرائی گئی ہیں پس پردہ بھی رابطے کئے گئے ہیں لیکن انہوں نے کسی ڈیل کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عوام کے حق حاکمیت اور آئین کے خلاف کسی بات کو قبول نہیں کریں گے، اگر حکومت اور دیگر قوتوں کو کوئی بات کرنی ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ نوازشریف کے خلاف سازشوں میں ملوث تمام لوگ سرعام عوام سے معافی مانگیں، انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن ہمارے سیاسی اتحادی ہیں انہوں نے اسلام آباد آزادی مارچ کا جو اعلان کیا ہے اس میں شرکت کے بارے میں سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی 30 ستمبر کو اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں حتمی فیصلہ کرے گی لیکن ہم مولانا فضل الرحمن کے ساتھ قدم بہ قدم چلیں گے وہ ہمارے ایم آر ڈی کے دور کے ساتھ اور مولانا مفتی محمود کے بیٹے ہیں جنہوں نے جمہوری اصولوں کے لئے وزارت اعلیٰ کو لات مار دی تھی، انہوں نے کہا کہ سندھ بھر میں ڈویژنل ورکرز کنونشن جاری ہیں، ہم عوام سے بھی رابطے مضبوط کر رہے ہیںآئین قانون اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی، انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیر کے ایشو کے حوالے سے مشرقی سرحدوں پر خطرناک حالات ہیں جبکہ مغربی سرحدوں پر بھی دہشت گردی وقفے وقفے سے جاری رہتی ہے، سلیکٹڈ حکومت نے پاکستان کو سیاسی اور اقتصادی دلدل میں دھکیل دیا ہے کچھ قوتیں ہمیشہ جمہوریت کو سبوتاژ کرتی رہی ہیں اور طویل مارشل لائوں کے ذریعے جمہوری نظام کو تباہ کیا جاتا رہا ہے، اس وقت بھی ملک میں سویلین مارشل لاء کی کیفیت ہے مملکت کا چوتھا ستون میڈیا جس کا بڑا شکار ہے، مریم نواز سمیت حزب اختلاف کے رہنمائوں کا میڈیا میں بلیک آئوٹ کرایا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت اور وزیراعظم کو ملک پر مسلط کیا گیا ہے اس سے پہلے 2014ء میں ایسا ماحول دھرنوں اور ڈانس پروگرام کے ذریعے پیدا کیا گیا کہ اسلام آباد کا لاک ڈائون کیا گیا، پارلیمنٹ کو یرغمال بنایا گیا، طاہرالقادری نے کفن پہن کر قبریں کھودنا شروع کیں اور اس طرح پاک چین اکنامک کوری دوڑ کا عظیم اقتصادی منصوبہ جو نوازشریف نے شروع کیا گیا اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، انہوں نے کہا کہ 50 ارب ڈالر انوسٹمنٹ کے سی پیک منصوبے کو بڑی حد تک سبوتاژ کر دیا گیا ہے، معاشی حالات تباہ کن ہیں، مہنگائی کی سطح ہر دن گزرنے کے ساتھ بلند ہو رہی ہے اور عوام کی اکثریت کے لئے دو وقت کی روٹی حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے جب بھی کشمیر کے بارے میں یکجہتی پیدا کرنے کی کوشش کی حکومت نے اسے سبوتاژ کیا، عین پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران مریم نواز کو گرفتار کیا گیا اور اس وقت نوازشریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ سمیت پوری قیادت بے بنیاد الزامات کے تحت جیلوں میں ہے، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف کرپشن سمیت کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا خصوصاً جج کی ویڈیو آنے کے بعد یہ ثابت ہو گیا ہے کہ نوازشریف کوٹ لکھپت جیل میں بیگناہ یرغمال ہیں۔

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments