برے دن اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں

Bure Din Apne Anjaam Ko Pohanchne Wale Hain

زمبابوے ٹیم 19مئی کو پہنچے گی، پانچ میچز کی سیریز طے۔۔۔۔۔ چھ سال بعد پاکستانی گراؤنڈز آباد ہونگے، پہلی بار انٹرنیشنل میچز ہونگے

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری ہفتہ مئی

Bure Din Apne Anjaam Ko Pohanchne Wale Hain

تین مارچ 2009ء کا دن پاکستان کرکٹ کی تاریخ کیلئے سیاہ ترین دن ہے۔ اس دن لبرٹی گول چکر میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر صرف حملہ نہیں ہوا تھا بلکہ یہ پاکستان کرکٹ کے مستقبل پر بھی کاری ضرب تھی جس کے گھاؤ چھ سال گزرنے کے باوجود نہیں بھر سکے۔ سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ جس طرح محض مہمان ٹیم پر حملہ نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ پر بھی حملہ تھا اسی طرح یہ حملہ شہرلاہور کے تقدس پر بھی ہوا کیونکہ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی غیرملکی ٹیم کو لاہور میں نشانہ بنایا گیا جس پر ہرشہری شرمندہ اور دکھی تھی تھا کہ اُس کے شہر میں مہمان کرکٹ ٹیم پردن دیہاڑے گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی تھی۔
چھ سال کرکٹ شائقین اور پاکستان کرکٹ بورڈ کیلئے انتہائی تکلیف کے عالم میں گزرے اور ہرگزرے سال پی سی بی نے امید دلائی کہ اگلے سال غیرملکی ٹیمیں واپس آئیں گی لیکن پی سی بی کی تسلیاں محض تسلیاں ہی رہیں کیونکہ بات پی سی بی کی تسلیوں سے آگے نکل چکی تھی۔

(جاری ہے)

بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھارت نے پاکستان آنے سے انکار کیا تو امیدیں دم توڑنے لگی لیکن پھر کینیا کرکٹ بورڈ نے پاکستانی شائقین کے اترے چہروں پر خوشی بکھرنے کے حامی بھری اور تو قدرے اطمینان ہوا کہ چلو ٹیسٹ نیشن نہ سہی کوئی ٹیم پاکستان تو آرہی ہے۔ کینیا ٹیم آئی اور پانچ ون ڈے کھیل کر چلی گئی اس کے بعد پی سی بی نے کوششیں مزید تیز کردیں اور اب پی سی بی کو پہلی کامیابی ملی ہے کہ زمبابوے جو کہ آئی سی سی کا فل ممبر بھی ہے اور ایک ٹیسٹ سٹیٹس کا درجہ رکھنے والی کرکٹ ٹیم بھی ہے پاکستان آنے پر راضی ہوگئی ہے ۔ اس بات میں تسلیم کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ زمبابوے ایک کمزور ٹیم ہے لیکن پاکستان کرکٹ پر چھائی مایوسی اور اداسی کو کم کرنے کیلئے زمبابوین ٹیم کی آمد کسی تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں ہے۔
زمبابوے ٹیم کی آمد کے پیش نظر قذافی سٹیڈیم اور نشترپارک میں سخت سکیورٹی کے انتظامات کرنے کیلئے حکمت عملی پر غور شروع کردیا گیا ہے۔اس بار غیرملکی ٹیم کیلئے سکیورٹی اس قدر سخت ہوگی کہ نشترپارک اور قذافی سٹیڈیم کے اطراف پرندہ بھی پر نہیں مار سکے گا، پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر سکیورٹی ادارے پر مکمل طور پر حرکت میں نظرآرہے ہیں اور پی سی بی سمیت پنجاب حکومت اور وقافی حکومت بھی اس سیریز کی کامیاب انعقاد کیلئے تمام تراقدامات بروئے کار لانے کی خواہشمند ہیں تاکہ آئی سی سی سمیت دیگر کرکٹ بورڈز کو یہ پیغام دیا جائے پاکستان غیرملکی ٹیموں کیلئے محفوظ ملک ہے اور یہاں سکیورٹی کی صورتحال اب وہ نہیں جو چند سال پہلے تھی۔ 4 مئی کو زمبابوین سکیورٹی کا وفد پاکستان آرہا ہے جو مہمان ٹیم کیلئے انتظامات کا جائزہ لے گا اور اس بات میں کوئی شک نہیں سکیورٹی وفد یہاں سے مطمئن ہوکر واپس جائیگا کیونکہ کینیا جب پاکستان آئی تھی تو سکیورٹی انتہائی سخت تھی اور اس بار بھی مہمان ٹیم کیلئے سکیورٹی سخت ہوگی جس سے شائقین کو تھوڑی تکلیف تو ہوگی لیکن اب اگر یہاں کرکٹ میچز دیکھنے ہیں تو شائقین بھی کو سخت سکیورٹی حصار کی عادت ڈالنا ہوگی۔
زمبابوین ٹیم شیڈول کے مطابق 19مئی کو لاہور پہنچے گی اور اس مختصر سیریز میں تین ون ڈے انٹرنیشنل اور دو ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچ کھیلے جائیں گے۔تمام میچز قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے۔دورے کے پہلے مرحلے میں دو ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل 22 اور 24 مئی کو کھیلے جائیں گے جس کے بعد 26، 29 اور 31 مئی کو ون ڈے انٹرنیشنل ہوں گے۔زمبابوے کی ٹیم یکم جون کو وطن روانہ ہو جائے گی۔ اس سیریز کی یقین دہانی پاکستان کرکٹ کیلئے بہت اہم موقع اور موڑ ہے، پی سی بی حکام کی یہ کاوش قابل تحسین ہے کہ وہ حالات جیسے بھی ہوں ایک انٹرنیشنل ٹیم کو وطن لانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ زمبابوین ٹیم کے دورے کے بعد پاکستان کا کیس مضبوط ہوجائیگا تاہم آئی سی سی کا اس سیریز میں کردار صرف اجازت کی حد تک ہے۔ آئی سی سی نے سیریز کیلئے اپنے امپائرز تک نہ بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ زمبابوین ٹیم پہلی انٹرنیشنل ٹیم ہے جو پاکستان آرہی ہے اس لیے آئی سی سی کی اس پہلے تجربے کا بغور جائزہ لے گی اور اس کے بعد آفیشلز کو پاکستانی میچز کیلئے بھیجنے پر غور کیا جائیگا۔ پی سی بی نے کوشش کی تھی کہ سیریز کے چند میچز کراچی میں بھی کھیلے جائیں لیکن ٹیکنیکل خرابیوں کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا حالانکہ پی سی بی پر اس حوالے سے تنقید ہوئی لیکن پی سی بی نے تمام میچز لاہور میں ہی کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی سی بی کو حالات بہتر ہونے کے بعد دیگر شہروں میں بھی میچز کروانے چائیں تاکہ پورے ملک میں کرکٹ بحال ہو۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments