پاکستان ہار گیا،آئی سی سی نے چیمپئنزٹرافی ایک سال کیلئے ملتوی کر دی

Champions Trophy 1 Saal K Liye Multavi

امریکی پالیسیوں کو جاری رکھنے سے پاکستان میں کھیلوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے حکومت پاکستان کیلئے چیمپئنزٹرافی کا چھن جانا آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے

پیر 25 اگست 2008

اعجاز وسیم باکھری : پاکستان ایک بار پھر ہار گیا ۔آئی سی سی نے پاکستان میں پھیلی بدامنی کی وجہ سے چیمپئنزٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ کو ایک سال کیلئے ملتوی کرکے پاکستان کرکٹ کو بندگلی میں لاکھڑا کیاہے اور ٹورنامنٹ کے نہ ہونے سے پاکستان میں کرکٹ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔گوکہ یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ کیلئے کوفی تکلیف دہ اور نقصان دہ ثابت ہوگا لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے ہمیں قبول کرناہوگا کہ پاکستان میں پھیلی بدامنی اس بات کی اجازت نہیں دے رہی کہ یہاں کوئی بڑا ایونٹ کرایا جاسکے۔

کیونکہ حالات بدل چکے ہیں نظام بدل چکا ہے لیکن امریکہ نواز پالیسی نہیں بدلی گئی جس کی وجہ سے آج یہ دن دیکھنا پڑا ہے۔پاکستان میں اس وقت خود کش حملے تواتر کے ساتھ ہورہے ہیں جس کی بنیادی وجہ سے وفاقی حکومت کی سوات اور باجوڑ پر وحشیانہ بمباری ہے جس کا ردعمل ہمیں کبھی کراچی ،کبھی لاہور اور کبھی واہ کینٹ میں خود حملوں کی صورت میں دیکھنا پڑتا ہے۔

(جاری ہے)

جب پاک فوج قبائلی علاقوں میں بھاری توپ خانوں سے حملہ آور ہوتی ہے تووہاں کے مقامی لوگ جو بھاری اسلحہ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں تو مقابلہ نہیں کرسکتے مگر وہ پیٹ کے ساتھ بم باندھ کر شہروں کی طرف رخ کرتے ہیں اور ویسے ہی یہاں بے گناہ شہریوں کو قتل کرکے وہی کچھ کرتے ہیں جو پاکستانی افواج قبائلی علاقوں میں کررہی ہے ۔جب ایسے حالات ہوں تو کیونکر کوئی غیرملکی ٹیم یہاں کھیلنے آئے گی اور کیسے یہاں کھیل کے میدان آباد ہونگے؟۔

موجودہ حکمران جب اقتدار کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے تو ایک ہی بات کی رٹ لگائی ہوئی تھی کہ ہم قبائلی علاقوں میں خود جاکر ان لوگوں کے مسائل کا حل تلاش کرینگے تاکہ ہم ان پر حملہ آور نہ ہوں اور وہ ہم پر ،مگر کیا ہوا،روز اوّل سے وہی کچھ کیا گیا جو مشرف گزشتہ پانچ سال سے کررہاتھا ،اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم اپنی مرضی سے کچھ نہیں کررہے مشرف بھی امریکہ کی خوشنودی کیلئے سب کچھ کررہاتھا اور اب نئی حکومت بھی وہی کچھ کررہی ہے جو امریکہ بہادر کی خواہش ہے۔

شاید ہمارے حکمران یہ بھول گئے ہیں کہ قبائلیوں کو شکست دینا مشکل ترین کام ہے کیونکہ ہمارے سامنے روس کا حشر بھی موجود ہے اور امریکہ کا خوار ہونا بھی ،لہذا ہمیں خود اپنی پالیسی بنانا ہوگی اور ترقی کیلئے قبائلی علاقوں میں امن انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اگر وہاں امن ہوگا تو یہاں شہروں میں امن ہوگا نجانے پاکستان کو کس نظر لگی ہوئی ہے کہ وہ امریکہ کی غلامی سے چھٹکارہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہورہا اوریہی وجہ ہے کہ ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے اور معیشت تباہ رہی ہے۔

آج غیرملکی ٹیموں نے کرکٹ کھیلنے کیلئے آنے سے انکار کردیا ہے کل کو جو سرمایہ کار یہاں موجود ہیں وہ بھی پاکستان چھوڑ کرچلے جائیں گے اور حالات مزید ابتر ہوجائیں گے۔ پاکستان میں چیمپئنزٹرافی کا نہ ہونے نہ صرف کرکٹ شائقین کیلئے ایک دکھ کی خبر ہے بلکہ پاکستانی کھلاڑی بھی مایوس ہوگئے ہیں۔ایک سپورٹس صحافی ہونے کے ناطے جب مجھے اس بات کی خبر ملی کہ چیمپئنزٹرافی پاکستان میں نہیں ہورہی ہے تو مجھے ذاتی طور پر اس کا بہت شدید دکھ پہنچا کہ کب تک ہم یوں تماشہ بنیں رہیں گے۔

کتنے بڑے دکھ کی بات ہے کہ ہمارے ہاں کوئی آکر کھیلنے کو تیار نہیں ہے ہم کسی کو کیا الزام دیں ،ملکی حالات ہم سب کے سامنے ہیں ۔آئی سی سی نے فیصلہ کیا ہے کہ چیمئنزٹرافی اب اگلے سال اکتوبر میں دبئی سپورٹس سٹی میں کھیلی جائیگی جو کہ ایک محفوظ جگہ ہے ۔چیمپئنزٹرافی کا پاکستان میں نہ ہوناپاکستان کرکٹ کیلئے ایک ایسا سانحہ ہے جس پر ہر پاکستانی رنجیدہ ہے اور ہمارے حکمرانوں کیلئے یہ سانحہ آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے ،البتہ ہاں اگر وہ اس سانحہ کی اہمیت کو نہ سمجھیں یہ الگ بات ہے کہ مگر اس سانحہ سے پاکستان ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے چلا گیا ہے ۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہم ذاتی مفادات کو چھوڑ کر پاکستان کیلئے سوچیں اور امریکہ کی پالیسی کو ترک کرنا ہوگا ورنہ پاکستان غریب سے غریب تراور دنیا کا غیر محفوظ ترین ملک بن جائیگا ۔کاش ہمارے حکمرانوں کویہ احساس ہوجائے کہ پاکستان مشکل دور سے گزررہا ہے اوروہ اپنی سیاسی دوکان چمکانے کی بجائے اس غریب ملک کے بارے میں سوچیں جو تباہی کے قریب پہنچ چکا ہے اور اب جس طرح کے لوگ ا س پر قابض آگئے ہیں حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے ۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments