فٹبال ورلڈکپ ، جرمنی نے فاتح عالم کا تاج اپنے سر سجا لیا

Football World Cup Germany Fateh Alaam

میسی کچھ بھی نہ کرسکے، میراڈونا ثانی بننے کا خواب ادھورا رہ گیا برازیل کے ہاتھ سے ورلڈکپ بھی گیااور عزت بھی، ورلڈکپ میلے کے چند واقعات پر ایک نظر

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری منگل فروری

Football World Cup Germany Fateh Alaam
اعجازوسیم باکھری: فیفا فٹبال ورلڈکپ ٹورنامنٹ کی سب سے فیورٹ ٹیم جرمنی نے جیت لیا۔ جرمنی نے 24سال بعد فائنل جیتا اور ارجنٹائن 24سال بعد فائنل کھیلنے میں کامیاب ہوا۔ 1990ء میں بھی جرمنی نے ارجنٹائن کو شکست دیکر فاتح عالم کا خطاب حاصل کیا تھا اور 2014ء میں بھی ایک بار پھر جرمنی نے ارجنٹائن کو 24سال پرانی شکست کا بدلہ لینے کا موقع دینے کی بجائے ایک اور شکست جنوبی امریکی ٹیم کے ماتھے پر سجا دی۔

جرمن ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ میں اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ کھیلا اور پورے فیشن کے ساتھ عالمی چیمپئن بننے کا تاریخ ساز کارنامہ سرانجام دئیے۔ جرمن ٹیم کے گول کیپر سے لیکر دفاعی کھلاڑیوں نے بھی کمال کھیل پیش کیا جبکہ میڈفیلڈرز اور فارورڈز نے تو بے مثال کھیل پیش کرکے ارجنٹائن کو فائنل میں روند ڈالا۔

(جاری ہے)

24سال بعد لیوئنل میسی ارجنٹائن کو فائنل تک لے آئے تو ایک شور سے مچ گیا میسی 1986ء کی طرح میراڈونا ثانی بن کر اپنی ٹیم کو عالمی چیمپئن بنوائیں گے لیکن میسی کے سارے خواب ایکسٹرا ٹائم کے اختتام سے سات منٹ پہلے ماریو گوٹیز نے خاک میں ملا دئیے۔

موریو گوٹیز کو تجربہ کار سٹرائیکر اور عالمی ریکارڈ یافتہ کلوزے کی جگہ میدان میں اتارا گیا۔22سالہ کھلاڑی نے 36سالہ کلوزے کی جگہ میدان میں اترتے ہی حریف گول پوسٹ کو ہدف نشانہ بنا لیا اور ٹیم کمبی نیشن سے خوبصورت پاس کو اپنے سینے پر روکا اور فلائنگ کک سے ارجنٹائنی دفاع پاش پاش کردیا۔ فٹبال مقابلوں میں بہت کم مواقع ایسے دیکھنے کو ملتے ہیں جبکہ کوئی سٹرائیکر اپنے سینے پر پاس روکے اور ایک لمحہ تاخیرکیے بغیر بال کو پوسٹ کی راہ دکھا دے۔

ماریو نے بھی ایسا ہی کیا اور چند لمحات میں جرمن قوم کا ہیرو بن گیا۔ ماریوکا گول بھی خوبصورت تھا اورگول کرنے کے بعد کا منظر بھی قابل دید تھا۔ ماریو کا گول اس لحاظ سے خوبصورت تھا کہ اس میں سکیل اور کوالٹی نظر آئی اور شائقین کولمبیا کے روڈیگز کا گول بھول گئے جو روڈیگز نے ناک آؤٹ مرحلے میں کیا۔ جرمن ٹیم نے فائنل میں ارجنٹائن کے سامنے چیمپئنزکی طرح کھیل پیش کیا۔

ارجنٹائن اور میسی کے فینز کا خیال تھا کہ ان ٹیم فائنل میں فیورٹ ہے لیکن برازیل کو ذلیل کرنے کے بعد جس طرح جرمن ٹیم کا طوطی بول رہا تھا اور ایونٹ کی خطرناک ٹیم کا درجہ لاہم الیون کو حاصل ہوگیا تھا اس کے مقابلے میں اکلوتے میسی اور ان کی ٹیم فیورٹ کی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔ ہاں، فائنل معرکہ مزید سخت ہوتا اگر ارجنٹائنی سٹار ڈی ماریا بینچ پر نہ بیٹھے ہوتے۔

ڈی ماریا کوارٹرفائنل میں زخمی ہوگئے جس کا ارجنٹائن کو شدید نقصان پہنچا۔ ڈی ماریا اگر میسی کے ساتھ میدان میں ہوتے تو یہ دونوں لاویزی اور ہیوگیان کے ساتھ ملکر کلوزے، ملر، اوزل، گوٹیز، کروز، سمیع خدیرہ، شوائن سٹائیگر کی ٹیم کڑی ٹکر دیتے لیکن اس کے باوجود بھی ارجنٹائن نے جرمن ٹیم کیخلاف شاندار فٹبال کھیلی۔ سابق ورلڈ چیمپئن کپتان میراڈونا کا فائنل کے اختتام پر کہنا تھا کہ ہمارا پرچم شکست کے باوجود بھی بلند ہے اور انہیں فخر ہے کہ ارجنٹائنی کھلاڑیوں نے اپنی قوم کو رسوا نہیں ہونے دیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ارجنٹائن نے شاندار فٹبال کھیلی اور اگر میچ پنالٹیز پر چلا جاتا تو شاید جرمنی کو اتنی آسان فتح نہ ملتی۔ فیفا فٹبال ورلڈکپ 2014ء کئی لحاظ سے یاد رکھا جائیگا۔ ٹورنامنٹ میں کئی نشیب و فراز دیکھنے میں آئے، دفاعی چیمپئن سپین اور 2006ء کی عالمی چیمپئن اٹلی پہلے ہی راؤنڈ کے مہمان بنے جبکہ سپرسٹارز سے سجی برطانوی ٹیم بھی پہلے ہی راؤنڈ میں گھر روانہ ہوئی اورکرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال بھی سرتوڑکوششوں کے باوجود اگلے مرحلے تک نہ پہنچ سکی۔

کمزور سمجھی جانیوالی الجزائر ٹیم نے ناک آؤٹ مرحلے کیلئے کوالیفائی کیا تو کولمبیا نے کوارٹرفائنل میں برازیل کے ساتھ ٹکر لی۔ یوروگوائے کے سٹکرائیکر سواریز کو حریف کھلاڑی کو دانتوں سے کاٹنے پر 9میچز کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ڈیاگو میراڈونا نے فیفا پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ ’فیفا کی جانب سے دی گئی سزا شرمناک ہے اور فیفا کو مداحوں کے جذبات کا کوئی خیال نہیں ہے۔

بس اس بات کی کسر وہ گئی تھی کہ سواریز کو ہتھکڑیاں پہنا دیتے اور گوانتانامو بھیج دیتے۔میرا ڈونا گزشتہ ورلڈکپ میں ارجنٹائن کے کوچ رہے ہیں اور ارجنٹائن کو کوارٹرفائنل میں جرمنی نے 4-0سے شکست دیکر گھر کی راہ دکھا دی تھی۔ میراڈونا اس ورلڈکپ میں سٹیڈیم میں تو نظر نہیں آئے البتہ وہ ٹی وی پر خوب تبصرے نگاری کرتے رہے۔ فائنل کے اختتام پر میراڈونا نے میسی کو گولڈن بال دئیے جانے اور ٹورنامنٹ کا بہترین پلیئر کا ایوارڈ دئیے جانے پر خوب تنقید کی۔

میراڈونا کا کہنا ہے کہ ان کے پسندیدہ کھلاڑی لیونل میسی عالمی کپ کے ’گولڈن بال‘ ایوارڈ کے حقدار نہیں تھے۔میراڈونا کے بقول ’میں میسی پر زمین و آسمان نچھاور کر سکتا ہوں، لیکن جب مارکیٹنگ یا کاروباری دنیا کے لوگ چاہتے ہیں کہ میسی کو وہ ایوارڈ دے دیا جائے جس کا وہ حقدار نہیں ہے تو میرے نزدیک یہ بات غلط ہے۔یہ سچ ہے کہ گروپ میچوں میں میراڈونا کی طرح 10 نمبر کی شرٹ پہننے والے لیونل میسی چارگول کرنے میں کامیاب رہے لیکن ناک آوٴٹ مرحلے میں وہ کوئی گول نہیں سکے۔

سوٴٹزر لینڈ کے خلاف فتح میں میسی نے اہم کردار ادا کیا تھا جس کی بدولت ارجنٹائن عالمی کپ کی آخری 16 ٹیموں میں شامل ہو گیا، لیکن اس کے بعد ہالینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں میسی مشکل کا شکار نظر آئے۔اسی طرح جرمنی کے خلاف فائنل میچ میں اگرچہ میسی مخالف ٹیم کے لیے کبھی کبھی خطرہ بنتے رہے لیکن انھوں نے اپنی ٹیم کو برتری دلانے کا ایک موقع ضائع کر دیا جسے شائقین نے برادشت نہیں کیا۔

ایورارڈ کے بعد میراڈونا کا مزید کہنا تھا: ’ مجھے نظر آ رہا تھا کہ جب میسی کو ایوراڈ لینے کے لیے بْلایا گیا تو وہ سٹیج پر نہیں جانا چاہ رہے تھے۔ میراڈونا کا کہنا تھا کہ ’گولڈن بال‘ ایوراڈ کے اصل حقدار کولمبیا کے جیمز راڈریگز تھے کیونکہ برازیل میں ان کا کھیل سب سے اچھا تھا۔تاہم میراڈونا نے جرمنی کے خلاف اپنی قومی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انھیں فخر ہے کہ ارجنٹائن اتنا اچھا کھیلا۔

’ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے بھی اپنا پرچم بلند رکھا’جرمنی ارجنٹائن کی دفاعی لائن میں غلط فہمی کی وجہ سے جیت گیا لیکن میچ کے دوران ایسا کوئی وقت نہیں آیا کہ جب جرمنی ہم سے بہتر کھیلا ہو۔ جرمنی کے کھلاڑیوں نے ہماری ٹیم کی عزت کی، اور یہ عزت ہمارے لڑکوں نے خود میدان میں کمائی ہے۔ حالیہ ورلڈکپ میزبان برازیل کیلئے بہت بھیانک خواب ثابت ہوا۔

برازیلین ٹیم نے ناک آؤٹ مرحلے میں کمال کھیل پیش کیا، ماہرین برازیل کو چیمپئن کا درجہ دے رہے تھے ، نیمار اور سلوا نے اپنی ٹیم کو اس مقام تک لاکھڑا کیا جہاں برازیلین ٹیم کو ہونا چاہئے تھا لیکن قسمت نے برازیلین ٹیم کے ساتھ وہ کھیل کھیلا جس کا برازیلین ٹیم کے حریفوں نے بھی خواب میں بھی نہیں دیکھا ہوگا۔ سیمی فائنل میں جرمنی کیخلاف پہلے تیس منٹوں میں پانچ گول جب ہوئے تو کلیجہ حلق میں آگیا۔

ڈیاگو سلوا برازیل کے کپتان ہیں اور برازیلین ٹیم کے سب سے کامیاب دفاعی کھلاڑی ہیں، سلوا کو کولمبیا کیخلاف کوارٹرفائنل میں ییلو کارڈ دکھا کر اگلے میچ سے برطرف کردیا گیا تھا جبکہ کولمبین ٹیم نے نیمار کی کمرپر گہری چھوٹ لگاکر اسے ٹورنامنٹ سے ہی آؤٹ کردیا۔ جرمنی کیخلاف سیمی فائنل میں برازیلین ٹیم ان دو سٹارز کے بغیر میدان میں اتری تو یوں لگا جیسے بے دانت شیر گیدڑوں کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں اور بہت بری طرح چت ہوگئے۔

برازیل کی شکست پر سب سکتے میں تھے ، ہارنے والے بھی جیتنے والے بھی، برازیلین کوچ شکست پر مستعفی ہوگئے جبکہ ہالینڈ کیخلاف تیسری پوزیشن کے میچ میں بھی برازیلین ٹیم تین صفر سے مات کھا گئی اور ناقدین نے اسے برازیلین ٹیم کی موت قرار دیا تاہم حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ سب کو یقین ہے کہ برازیلین ٹیم دوبارہ اپنے اصلی روپ میں آئے گی اور ماضی کی طرح سب سے نمایاں کھیل پیش کریگی۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments