ملکی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب،پاکستان کی ہاکی ”ٹوٹ “گئی

Mulki Tareekh Ka Or Siyah Baab

پاکستان اولمپکس سے باہر، اگلے 8سال کوئی پاکستانی اولمپئن نہیں بنے گا۔۔۔۔۔۔ آئرلینڈ کرکٹ میں ہرایا تھا تو کوچ باب وولمر شرمندگی سے مر گیا، اب ہاکی میں آئرلینڈ سے ہارنے کے بعد کوچ، صدر یا سیکرٹری کیا صرف استعفیٰ بھی دیں گے ؟؟

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری پیر جولائی

Mulki Tareekh Ka Or Siyah Baab

پاکستان ہاکی اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزررہی ہے۔ یہ الفاظ لکھنے میں شاید آسان ہوں اور پڑھنے میں بھی شاید اثر نہ چھوڑیں لیکن ان پر غور کرکے ان کی شدت کو محسوس کرنا انتہائی تکلیف دہ ہوگا کہ اگلے آٹھ سال پاکستان کوئی اولمپئن نہیں بنائے گا اور نہ اگلے آٹھ برسوں میں کوئی پاکستانی اولمپئن بننے میں کامیاب ہوگا۔ جو ٹیم ، جو فیڈریشن اور جو حکومت اگلے آٹھ سال کوئی ایک اولمپئن نہیں بناپائے گا اس کے بارے میں کیا کچھ لکھا جائے۔ اگر پاکستان ہاکی کا ماضی دیکھا جائے تو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ اولمپکس میں تین بار کی چیمپئن ٹیم 2016ء کے اولمپکس کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکے گی۔ اس بدترین کارکردگی کے پیچھے فیڈریشن کی نااہلی اور کھلاڑیوں میں شوق کی کمی نمایاں ہے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ پہلے ہاکی ورلڈکپ سے باہر ہوئے اور اب اولمپکس کیلئے بھی ٹیم کوالیفائی نہیں کرسکی۔

(جاری ہے)

ذمہ داروں کا تعین کرنے والا کوئی نہیں اور ہاکی کی بہتری کیلئے کوئی کچھ کرنے والا نہیں۔ بدترین حالات میں آچکے ہیں لیکن فیڈریشن کے عہدیدار آج بھی ہشاش بشاش ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان پر ہاتھ ڈال کر کسی نے کیا کرلینا ہے۔ جب احتساب کا عمل ختم ہوجائے اور کوئی سوال نہ کرنے والا ہو تو قومیں ایسے ہی شرم کے مقام تک پہنچ جاتی ہیں اور آج پاکستان ہاکی شرم کے اسی مقام پر ہے جہاں زمین میں دھنس جانے کو ترجیح دی جاتی ہے لیکن پاکستان ہاکی فیڈریشن نے نہ تو پہلے کبھی ایسی جرأت دکھائی اور نہ ہی اب توقع ہے کہ صدر یا سیکرٹری مستعفی ہونے کو ترجیح دیں گے۔ بلجیم میں جو کچھ ہوا اس کا تماشہ پوری دنیا نے دیکھا۔ورلڈ لیگ ہاکی کے اہم میچ میں آئرلینڈ نے پاکستان کو شکست دے دی جب کہ پاکستان اس شکست کے بعد اپنی تاریخ میں پہلی بار اولمپکس کھیلنے سے بھی محروم ہوگیا۔بیلجیم کے شہر اینٹروپ میں کھیلے گئے اہم ترین میچ میں پاکستان نے کھیل کا آغاز تیزی سے کیا اور آئر لینڈ کے گول پوسٹ پر تابڑ توڑ حملے کیے تاہم ٹیم کے فارورڈز ایک بھی موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے جب کہ آئر لینڈ کے گول کیپر نے شاندار کھیل کا مظاہر کرتے ہوئے کئی یقینی گول بچائے۔ کھیل کے دوران پہلے 3 کوارٹر تک دونوں ٹیمیں گول کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں تاہم چوتھے کوارٹر کے پہلے ہی منٹ میں آئر لینڈ کے فارورڈ ایلن ساودرن نے گول کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلادی جس کے بعد گرین شرٹس نے گول کرنے کی بھر پور کوشش کی لیکن قسمت کی دیوی ان پر مہربان نہ ہوئی۔جب ریفری نے کھیل کے خاتمے کا اعلان کیا توآئرلینڈ کو پاکستان پر ایک گول کی برتری حاصل تھی جب کہ پاکستان کی جانب سے کوئی گول بھی نہ ہوسکا جس کے باعث قومی ٹیم کو 0-1 سے شکست ہوئی اور اس کے ساتھ ہی گرین شرٹس کے ریو ڈی جینیرو 2016 کے اولمپک کھیلنے کے امکانات بھی ختم ہوگئے لیکن اس فتح کے ساتھ آئر لینڈ کے اولمپک کھیلنے کی امید روشن ہوگئی جسے اب پانچویں پوزیشن کے لیے ملائیشیا یا فرانس سے مقابلہ کرنا ہوگا۔یاد رہے کہ پاکستانی ہاکی ٹیم 1948 سے اولمپک مقابلوں کا حصہ رہی ہے اور 67 سالہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان اولمپک کا حصہ نہیں ہوگا جب کہ گرین شرٹس نے ا?خری بار 1984 میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا جس کے بعد سے پاکستان اولمپک میں گولڈ میڈل حاصل نہ کرسکا۔2007ء میں آئرلینڈ نے پاکستان کو کرکٹ ورلڈکپ میں اپ سیٹ شکست دے کر عالمی کپ سے باہر کردیا تھا اور شرمندگی سے کوچ باب وولمر اپنی جان سے چلے گئے۔ اب آئرلینڈ نے پاکستان کو شکست دیکر المپکس باہر کردیا ہے۔ کیا کوچ ، صدر یا سیکرٹری کی شرمندگی سے جان نکل جائے گی۔ نہیں یہ تو استعفیٰ دینے کی بھی جرأت نہیں رکھتے ان کی جان کیا نکلنی ہے۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments