پاکستان اور سری لنکا کے مابین دوسرا ٹیسٹ آج سے شروع

Pak Sri Lanka 2nd Test Starts 2day

قذافی سٹیڈیم میں تیز وکٹ بنا کر میچ کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش ہماری ٹیم نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے ،جیت کیلئے زیادہ امید نہ رکھی جائے ، یونس خان

اتوار 1 مارچ 2009

اعجاز وسیم باکھری : پاکستان اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیموں کے مابین دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کا آخری ٹیسٹ میچ آج سے لاہور میں شروع ہورہا ہے ۔سیریز کا پہلا ٹیسٹ انتہائی مردہ وکٹ پر کھیلا گیا جو بغیر ہار جیت کے ختم ہوگیا البتہ قومی ٹیم کے کپتان یونس خان نے متاثر کن بیٹنگ کا مظاہر ہ کرتے ہوئے 313رنز کی اننگز کھیل کر نہ صرف خود کو منوایا بلکہ اپنے باؤلرز کی ناکامی پربھی پردہ ڈال دیا۔

لاہور ٹیسٹ جیتنے کیلئے دونوں ٹیمیں پرعزم ہیں تاہم کراچی ٹیسٹ کے آخری روز قومی باؤلرز کی عمدہ کارکردگی کے بعد یقینی طور پر سری لنکن ٹیم پریشر میں ہوگی کیونکہ دانش کنیریا اور عمرگل نے آخری روز مہمان ٹیم کی پانچ وکٹیں حاصل کرکے پریشان کردیا تھا اسی لیے لاہور ٹیسٹ میں سخت مقابلے کی توقع ہے ۔

(جاری ہے)

توقع کی جارہی ہے کہ قومی ٹیم ایک تبدیلی کے ساتھ میدان میں اترے گی جہاں سہیل خان کی جگہ محمد طلحہ کو ٹیم میں شامل کیے جانے کا امکان ہے ۔

دونوں ٹیموں نے کراچی ٹیسٹ کے غیر نتیجہ ہونے کی ذمہ داری مردہ وکٹ پر ڈال کر پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں کی پریشانی میں اضافہ کردیا جس کے جواب میں پی سی بی انتظامیہ نے لاہور میں تیز وکٹ بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ٹیسٹ میچ نتیجہ خیز ثابت ہو۔کل جب سری لنکن اور پاکستانی ٹیم نے قذافی سٹیڈیم میں پریکٹس کی اس وقت پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران دونوں کپتانوں نے بتایا کہ وکٹ دیکھنے میں تیز لگتی ہے کیونکہ پچ پر گھاس صاف دکھائی دے رہی ہے اور کل شام تک بھی وکٹ پر گھاس موجود تھی اب نجانے ماضی کی طرح رات کو وکٹ سے گھاس صاف کردی جائیگی یا باؤنسی وکٹ پر میچ کھیلا جائیگا یہ میچ کی صبح ہی معلوم ہوگا کہ وکٹ کے ساتھ کیا سلوک کیاگیا ہے البتہ اس بات کی مکمل امید ہے کہ لاہور ٹیسٹ تیز وکٹ پر کھیلا جائیگا جہاں باؤلرز کو زیادہ مدد ملے گی ۔

لاہور ٹیسٹ کی وکٹ کس حد تک اہمیت اختیار کرچکی ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پی سی بی کے چیئرمین اعجازبٹ ، ڈائریکٹر اکیڈمی عامر سہیل اور چیف سلیکٹرعبدالقادر نے پچ پر جاکر وکٹ کا معائنہ کیا اور کیوریٹر کو خصوصی ہدایت کی کہ ڈیڈوکٹ بنانے سے گریز کیا جائے ۔اگر پی سی بی کی انتظامیہ اور کپتان یونس خان خلوص دل سے تیز وکٹ پر میچ کرانے کا پروگرام رکھتے ہیں تو یقینا لاہور ٹیسٹ کا نتیجہ نکلے گا گوکہ پاکستان اس میچ میں کامیابی حاصل کرے یا شکست ہو لیکن کرکٹ کی ترقی اور شائقین کی دلچسپی کیلئے میچ کا نتیجہ خیز ہونا لازمی ہے کیونکہ۔

اوّل تو پاکستان میں ٹیسٹ میچز کے دوران شائقین سٹیڈیم کا رخ کرنا گناہ تصور کرتے ہیں اور اوپر سے پاکستان میں ٹیسٹ میچوں کیلئے ڈیڈ وکٹیں تیار کرنے کی بڑی پرانی روایت ہے جس سے بلے بازوں کو سنچری کرنے کا موقع تومل جاتا ہے لیکن کرکٹ کو شدید نقصان پہنچتا ہے لہذا کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ مرلی یا مینڈس سے ڈرنے کی بجائے تیز وکٹ تیار کرے تاکہ میچ کا زرلٹ نکل سکے۔

قومی ٹیم 16ماہ بعد لاہور میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے جارہی ہے آخری بار2007ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلا گیا ،یہ وہی ٹیسٹ میچ تھا جس میں شعیب ملک کی قیادت میں انضمام الحق نے اپنے 18سالہ کیرئیر کا اختتام کیا ۔اس ہوم سیریز میں قومی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جب آگے جاکر قومی ٹیم بھارت کے خلاف بھی ٹیسٹ سیریز میں مات کھا گئی اس کے بعد قومی ٹیم کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلی اور اب جاکر سری لنکا کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا ہے۔

کراچی ٹیسٹ کے بعد میرا خیال تھا کہ پاکستان لاہور ٹیسٹ میں سری لنکا کو شکست دینے کی سرتوڑ کوششیں کریگا تاہم گزشتہ روز پری میچ پریس کانفرنس میں یونس خان نے یہ کہہ کر سب کو حیران کردیا کہ ”میری ٹیم نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے لہذا اس سے جیت کی توقع نہ رکھی جائے “یونس خان شاید یہ بھول گئے کہ ٹیم میں صرف سہیل خان ایسے کھلاڑی ہیں جو پہلی بار میدان میں اتارے گئے جبکہ دیگر تمام کھلاڑی پانچ سال سے زائد مدت کا تجربہ رکھتے ہیں اسی وجہ سے یونس خان کی اس انوکھی بات کی سمجھ نہیں آسکی ۔

حالانکہ مجھے یاد ہے جس روز یونس خان کو کپتان بنایا گیا تھا تو وہ لاہور قذافی سٹیڈیم میں قائداعظم ٹرافی کا میچ کھیلے رہے تھے توشام کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاتھا کہ سری لنکانے ہمیں ون ڈے سیریز میں بہت بری طرح شکست دی ہے لہذا ہم انہیں ٹیسٹ میں اسی طرح شکست دینا چاہیں گے جس طرح انہوں نے ہمیں ون ڈے سیریز میں ہرایا لیکن کل کی پریس کانفرنس میں یونس خان کا لب و لہجہ ہی کچھ اور تھا ۔

اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ صرف کرکٹ کرانا چاہتی ہے تو پھر یونس خان صحیح کہتے ہیں کہ اس ٹیم سے کوئی امید نہ لگائی جائے اور اگر ہم نے عالمی کرکٹ میں دوبارہ عروج حاصل کرنا ہے اورناکامیوں کے بھنور سے نکلنا ہے تو میرٹ کو ترجیح دینا ہوگی اور کپتان کو اس بات کا احساس دلانا ہوگا کہ وہ 16کروڑ پاکستانیوں کی کرکٹ ٹیم کا قائد ہے اور اسے یوں قوم کے جذبات کے ساتھ نہیں کھیلنا چاہیے بلکہ جیت کیلئے لڑنا چاہیے کیونکہ انہیں خانہ پری کیلئے نہیں کامیابیاں حاصل کرنے کیلئے کپتان بنایا گیا ۔

یونس خان گوکہ بڑے کھلاڑی ہیں لیکن انہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس طرح اپنے کھلاڑیوں کی میڈیا میں تذلیل کریں کہ یہ ابھی ناتجربہ کار ہیں اور ان سے امید نہ لگائی جائے ۔خان صاحب کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ قومی ٹیم کے کپتان بن چکے ہیں اور انہیں اس طرح کی ”صاف گوئی “سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ فتح کی متمنی ایسے بیانات نہیں دیتے جس سے اپنی ٹیم مورا ل ڈاؤن ہو۔بہرحال یونس خان کی باتیں اپنی جگہ ماہرین لاہور ٹیسٹ میں شاندار مقابلے کی توقع کررہے ہیں اور اگر وکٹ پر گھاس برقرار رکھی گئی تو شائقین کو شاندار کرکٹ دیکھنے کو ملے گی کیونکہ دونوں ٹیموں کی کوشش ہے کہ وہ ٹرافی اپنے نا م کریں۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments