کوارٹرفائنل کی طرف پیشقدمی، پاکستان نے یواے ای کو روند ڈالا

Pakistan Ne Uae Ko Roond Dala

قومی بلے بازوں کی فارم میں واپسی ، مصباح ، احمد شہزاد کا شاندار کھیل

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری جمعرات مارچ

Pakistan Ne Uae Ko Roond Dala

کرکٹ ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم نے ابتدائی دو میچز میں شکست کھائی تاہم اُن دو شکستوں کے بعد لگاتار دو کامیابیاں حاصل کرلی ہیں تاہم اب آخری دو میچز باقی ہیں جو پہلے دو میچز کی طرح بہت مشکل ہیں۔ قومی ٹیم نے گزشتہ روز یواے ای کو 129رنز کے وسیع مارجن سے شکست دیکر کوارٹرفائنل تک رسائی کیلئے اپنی امیدیں برقرار رکھی ہیں اور شائقین کی مایوسی کم کرنے کی اچھی کوشش کی۔ کپتان مصباح الحق کی عمدہ کارکردگی کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے چار میچز میں تین نصف سنچریاں بنا ڈالیں۔گراونڈز کے چاروں طرف شاندارشارٹس لگانے والے مصباح الحق نے ایک بار پھر کپتان ہونے کا حق ادا کردیا۔ میانوالی سے تعلق رکھنے والے مصباح الحق کی بیٹنگ نرالی ہے۔ورلڈکپ میں ہمیشہ بیٹنگ لائن نے دھوکادیا ،چلا توصرف کپتان کا بلا۔

(جاری ہے)

بھارت کے خلاف پہلے میچ میں کپتان نے عمدہ اننگ کھیلی اور 74رنز بنائے۔ویسٹ انڈیز کے خلاف تو قسمت نے ساتھ نہ دیا۔ لیکن زمبابوے کے خلاف مصباح الحق مرد بحران ثابت ہوئے اور73 رنز بناکر پاکستان کی ڈوبتی کشتی کو کنارے تک پہنچایا۔گزشتہ روز یو اے ای کے خلاف میدان میں اترے کپتان تو پھر گراونڈ کے چاروں طرف کْھل کر شارٹس کھیلتے نظر آئے اور ورلڈ کپ میں تیسری نصف سنچری بناڈالی اور مجموعی طور پر 65 رنز سکور کئے۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے خلاف اگر نہیں چلے تو صرف ناصر جمشید۔ ناصر نے چھوٹی ٹیم کے خلاف بھی نہ چلنے کی اپنی پرانی روایت کو برقرار ہی رکھا۔ویسٹ انڈیز کے خلاف صفر، زمبابوے کے خلاف صرف ایک رن اوریو اے ای کے خلاف تو کمال ہی ہوگیا۔ناصر جمشید نے بدترین پرفارمنس کی ہیٹ ٹرک کرلی۔ ناصر جمشید کی وکٹ لینا بولرز کے لئے آسان ٹارگٹ ہوگیا۔تین میچز اور صرف پانچ رنزبنانے والے ناصر جمشید کی اب اگلے میچز میں سلیکشن مشکل ہوگئی ہے،حالیہ پرفارمنس کے بعد ٹیم مینجمنٹ بھی سوچنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ اس چلے ہوئے کارتوس نے دوبارہ نہ چلنے کی قسم کھا رکھی ہے جس کا واضح ثبوت گزشتہ روز میچ میں مل گیا۔قومی کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ نے حیران کن کھیل پیش کرتے ہوئے رواں ورلڈکپ میں پہلی بار اور مجموعی طو رپر22میچز کے بعد بالآخر 300رنز کاہندسہ عبورکرہی لیا۔ پاکستانی بیٹنگ لائن طویل عرصے کے بعد فارم میں نظر آئی۔ پاکستان نے یواے ای کیخلاف 339رنز بنائے کو ورلڈکپ مقابلوں میں پاکستان کا دوسرابڑامجموعہ ہے۔پاکستانی ٹیم نے7میچز کے بعد 300رنز کا ہندسہ عبورکیا۔پاکستان نے آخری مرتبہ14دسمبر2014ء میں شارجہ کے مقام پر نیوزی لینڈکیخلاف ون ڈے سیریز کے میچ میں 364رنز بنائے تھے جس میں پاکستان نے 147رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔نیپئرکے میک لین پارک میں کھیلے گئے گروپ بی کے میچ میں متحدہ عرب امارات نے ٹاس جیت کر پہلے پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی تو ناصر جمشید ایک بار پھر ٹیم میں مشکلات کے بھنور میں پھنسا کر پویلین پہنچ گئے، انہوں نے صرف چار رنز بنائے۔ناصر جمشید کی شاٹ سلیکشن بدستور ٹھیک نہیں ہوسکی اور وہ ہرمیچ کی طرح اس بار بھی اپنی وکٹ خود گنوا کر پویلین لوٹے۔ احمد شہزاد اور حارث سہیل نے دوسری وکٹ کے لیے 160 رنز کی پارٹنر شپ قائم کر کے پاکستان کے بڑے سکور کی راہ ہموار کی، ایسی پارٹنر شپ پورے ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم کو درکار رہی لیکن بلے باز ناکام رہے ۔احمد شہزاد 93 اور حارث 70 رنز بنا کر آوٴٹ ہوئے۔وکٹیں گرنے کے باوجود مصباح الحق اور صہیب مقصود نے سکور بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا، صہیب نے آوٴٹ ہونے سے قبل 45 رنز بنائے جبکہ مصباح الحق نے 65 رنز کی اننگ کھیلی۔ مصباح الحق کی رواں ورلڈکپ میں یہ تیسری نصف سنچری تھی ، کپتان نے ثابت کردیا کہ وہ ٹیم کیلئے کھیلتے ہیں اور ٹیم کے واحد قابل اعتبار بلے باز ہیں۔اختتامی اوورز میں عمر اکمل اور شاہد آفریدی کی جارحانہ بلے بازی کی بدولت پاکستان نے 339 رنز کا مجموعہ سکور بورڈ پر سجا کر متحدہ عرب امارات کو جیت کے لیے 340 رنز کا بڑا ہدف دیا۔شاہد خان آفریدی ون ڈے کرکٹ کیریئر کے 8 ہزار رنز مکمل کرنے والے چوتھے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ۔جواب میں متحدہ عرب امارات کی ٹیم شروع سے مشکلات کا شکار ہو گئی اور 25 رنز پر تین وکٹیں گنوا بیٹھی۔تین وکٹیں گرنے کے بعد یو اے ای نے ہدف کے تعاقب کے بجائے 50 اوورز کھیلنے کی حکمت عملی بنائی جو کامیاب رہی۔خرم خان اور شیمان انور نے چوتھی وکٹ کے لیے 83 رنز جوڑے، خرم 45 اور شیمان 62 رنز بنا کر آوٴٹ ہوئے۔یو اے ای کے بلے بازوں نے پاکستانی باوٴلرز کا جواں مردی سے سامنا کیا اور انہیں آل آوٴٹ نہ کرنے دیا۔مقررہ اوورز میں متحدہ عرب امارات کی ٹیم نے8وکٹوں کے نقصان پر 210 رنز بنائے اور اس طرح پاکستان نے 129 رنز کے بڑے مارجن سے فتح حاصل کر لی۔پاکستان کی جانب سے شاہد آفریدی، سہیل خان اور وہاب ریاض دو دو وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باوٴلر رہے جبکہ راحت علی اور صہیب مقصود نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ احمد شہزاد کومین آف دی میچ قراردیا گیا۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments