ٹیسٹ سیریز میں کھوٹے سکے چل پڑے

Test Series Main Khotte Sikke Chal Pare

اظہرعلی کی کپتانی میں کچھ نہ کرنے والے محمد حفیظ کا بلا مصباح کی کپتانی میں چل پڑا

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری ہفتہ مئی

Test Series Main Khotte Sikke Chal Pare

ایک طرف پی سی بی زمبابوے سیریز کی میزبانی کی تیاریوں میں مصروف ہے تو دوسری جانب پی سی بی تنقید کی زد میں بھی ہے۔ بنگلہ دیش کیخلاف جاری سیریز کے ابتدائی چار میچز جس میں تین ون ڈے اور ایک ٹی ٹونٹی شامل ہے میں پاکستانی ٹیم نے تاریخ کا بدترین کھیل پیش کیا، اس پر کرکٹ بورڈ اور ٹیم انتظامیہ پر کڑی تنقید کی گئی لیکن مجال ہے پی سی بی کے ماتھے پر اس تنقید سے کوئی بل آیا ہو۔ کرکٹ بورڈ پر تنقید کے ساتھ ساتھ چیف کوچ وقاریونس بھی ان دنوں تنقید نشتر کے زد میں ہیں، وقاریونس سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے اور اس پر پریشر ڈالنے کیلئے میڈیا کا بھی سہارا لیا جارہا ہے لیکن وقاریونس قومی ٹیم کے ایک ایسے کوچ ہیں جن کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا، قومی ٹیم نے بنگلہ دیش کیخلاف بہت بری کرکٹ کھیلی اور اس کا شکست کی صورت میں خمیازیہ بھی بھگتنا پڑا لیکن قومی ٹیم نے ٹیسٹ میچز میں کم بیک کیا اور محمد حفیظ کی صورت میں ڈبل سنچری بھی پاکستان کی جانب سے سکور کی گئی جبکہ نصف سنچریاں کرنے والے بھی تین تین تھے لیکن اوسط درجے کی باؤلنگ کے باعث بنگلہ دیش پاکستان کے پہاڑ سکور کے باوجود میچ میں کم بیک کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

(جاری ہے)

پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ تو ٹیسٹ سیریز میں چل پڑی لیکن باؤلنگ نے ایک بار پھر مایوس کیا اور اس سب سے بڑھ کر فیلڈنگ کارکردگی پر تو افسوس ہی ہے۔ بنگلادیش کے خلاف اظہر علی کی قیادت میں ون ڈے سیریز اور واحد ٹی ٹوئٹی میں شاہد آفریدی کی کپتانی میں شرمناک شکست کے بعد ٹیسٹ میں مصباح الیون چند تبدیل شدہ چہروں کے ساتھ میدان میں اتری لیکن قومی ٹیم نے فیلڈنگ میں ایک مرتبہ پھر اپنی روایت برقرار رکھی اور ایک کے بعد ایک کیچ چھوڑے جس سے بولرز بنگال ٹائیگرز کے سامنے بے بس دکھائی دیئے۔
بنگلادیش کے تمیم اقبال اور امرالقیس پہلے بازی کرنے آئے تو ابتدا میں ہی ذوالفقار بابر کی گیند پر محمد حفیظ تمیم اقبال کا انتہائی آسان کیچ نہ لے سکے جب کہ یاسرشاہ کی گیند پر شارٹ لیگ پر ون ڈے ٹیم کے کپتان اظہرعلی امرالقیس کا کیچ پکڑنے میں ناکام رہے، 2 کیچ چھوڑنے کے بعد ٹیم کو ایک اور موقع ذوالفقاربابرکی گیند پر ہی ملا جب لانگ آن پر کھڑے فیلڈر یاسر شاہ امرالقیس کا دوسرا انتہائی آسان کیچ لینے میں ناکام رہے۔ میچ میں عمدہ بولنگ کرنے والے ذوالفقار بابر نے چوتھا کیچ مومن الحق کا اپنی ہی گیند پر ڈراپ کیا جو بعد میں 80 رنز بنا کر آوٴٹ ہوئے۔ اس کارکردگی سے قومی ٹیم کی پستی میں چلی گی اور بنگلہ دیش ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ میں بھی بلندیوں پر نظر آیا۔ ہار جیت سے قطع نظر قومی ٹیم سے اچھی کرکاٹ کی توقع تھی جو پوری نہیں ہوئی، پاکستان بنگلہ دیش کیخلاف شکست تو کھا گیا لیکن انتہائی برے طریقے سے ہونیوالی شکست برادشت نہیں ہوتی اور شائقین آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ قومی ٹیم کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ زمبابوے اور بنگلہ دیش کیخلاف کھیل کر رواں سال انگلینڈ اور بھارت کیخلاف بڑی سیریز کیلئے تیاری کرے تاکہ قومی ٹیم ٹریک پر واپس آسکے مگر یہاں کمزور ٹیموں کیخلاف کارکردگی کا معیار اتنا گرچکا ہے کہ اب پاکستانی ٹیم کیلئے کوئی چھوٹی یا بڑی ٹیم نہیں ہے ، اس کارکردگی کو دیکھ کر تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان اب بڑی ٹیموں کیخلاف ہی کھیل رہا ہے کیونکہ اب ہمارے لیے کوئی چھوٹی ٹیم نہیں رہی۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments