ویسٹ انڈیزکی انگلینڈ کے ہوم گراؤنڈ پرپہلے ٹیسٹ میں جیت

Wi Won

اس میچ میں ویسٹ انڈیز کو 40 پوائنٹ حاصل ہوئے ریز دِی بیٹ ٹیسٹ سیریز کے پہلے ٹیسٹ کی اہم خبریں:

Arif Jameel عارف‌جمیل منگل جولائی

Wi Won
﴾ کورونا وائرس کا زور کم ہونے کے بعد پہلی سیریز کا یہ پہلا کرکٹ ٹیسٹ میچ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا گیا۔ ﴾ ٹاس کے بعد دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے30اسکینڈ گھٹنوں کے بَل بیٹھ کر" بلیک لائیوز مومنٹ"کی طرفداری کی۔ ﴾ دونوں ٹیموں کی طرف سے کورونا وباء سے شکار ہونے والوں اور چند روز پہلے ویسٹ انڈیز کے بلے باز ایورٹن ویکز کی95سال کی عمر میں انتقال پر ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔

﴾ مین آف دِی میچ ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلر شنین گیبرئیل ہوئے ۔اُنھوں نے میچ میں9 وکٹیں حاصل کیں۔ ﴾ میچ میں ویسٹ انڈیز کو جیت کی طرف ڈرامائی انداز میں واپس لانے والے اہم بلے بازجرمین بلیک وُڈ تھے۔ ﴾ انگلینڈ کی ٹیم کے اس میچ میں کپتان بین اسٹوکس نے کہا ہے کہ اب مجھے اندازہ ہو ا ہے انگلینڈ کے کپتان جو روٹ ٹیسٹ میچوں کے دوران راتوں کو کیوں نہیں سوتے تھے۔

(جاری ہے)

﴾ بین اسٹوکس کپتانی کا یہ پہلا تجربہ تھا کیونکہ جوروٹ اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کی وجہ سے اس میچ میں شرکت نہ کر سکے۔ کورونا وائرس ۔کویڈ19: انگلینڈ بمقابلہ ویسٹ انڈیز 3 میچوں کی ٹیسٹ سیریز انگلینڈ میں 8 ِجولائی2020ء تا 28 ِجولائی2020ء تک کھیلی جائے گی۔ یہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کی12 ویں سیریزاور دُنیا عالم میں پھیلی ہوئی وباء کورونا وائرس ۔

کویڈ19 کے دوران پہلی ٹیسٹ سیریز ہے۔ کورونا وباء کی وجہ سے دُنیا بھر میں احتیاطی تدابیر کے تحت تما م سرگرمیاں معطل کر کے لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھاجسکی وجہ سے کھیلوں کا شعبہ بھی متاثر ہو ئے بغیر نہ رہ سکا۔ اس سیریز کے آغاز سے پہلے تمام کھلاڑیوں کے کورونا کے ٹیسٹ لیئے گئے اور چند اہم تبدیلیوں کے ساتھ آئی سی سی نے یہ سیریز کھیلنے کی اجازت دی۔

مثلاًبال کو تھوک کے ساتھ چمکانے کی ممانت کر دی گئی۔ بصورت ِدیگر پنالٹی رکھی گئی۔ اسٹیڈیم میں بغیر تماشائیوں کے میچ کھیلنے کو ترجیح دی گئی اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور داد کیلئے ڈمی میوزک کے تحت تالیوں اور شور وغیرہ کا انتظام کیا گیا۔نیوٹرل امپائر کی جگہ مقامی امپائر تھے۔ ڈی آر ایس ریویوز اور ٹیسٹ میچ میں شرٹس پر اضافی لوگو لگانے کی سہولت بھی دی گئی۔

اسکے علاوہ یہ سہولت بھی رکھی گئی کہ اگر میچ کے دوران کسی کھلاڑی کوکوروناعلامات ظاہر ہو تی ہیں تو ریفری کی اجازت پر متبادل کھلاڑی ٹیسٹ میچ کا حصہ بن سکتا ہے۔ ایک روزہ اورٹی20 میں اس اطلاق نہیں ہو گا۔ پہلا ٹیسٹ میچ: انگلینڈ کے بندر گاہ پر شہر ساؤتھمٹن کے کرکٹ اسٹیڈیم دِی روز باؤل میں 8جولائی تا12جولائی2020ء کھیلا گیا۔انگلینڈ کے کپتان تھے بین سٹوکس اور ویسٹ انڈیز کے جیسن ہولڈر۔

ٹاس انگلینڈ نے جیتا اور بغیر کسی جھجک کے کپتان بین اسٹوکس نے بلے بازی کرنے کو ترجیح دی۔لیکن بارش اور کھیل میں سارادِن آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا اور دن کے اختتام پر انگلینڈ کا ایک وکٹ پر 35 اسکور تھا۔وہ وکٹ بھی صفر سکور پر ہی گِر گئی تھی۔دوسرا دِن تھا اور وکٹ پہلے دِن کی بارش کی وجہ سے متاثر تھی لہذا ویسٹ انڈیز کے کپتان باؤلر جیسن ہولڈر نے اُسکا بھر پور فائدہ اُٹھایا اور انگلینڈ کے6اہم بلے باز آؤٹ کر کے اُنکی کمر توڑ دی ساتھ دیا اُنکا فاسٹ باؤلر شنین گیبرئیل نے3پہلے اور ایک آخری کھلاڑی آؤٹ کر کے۔

انگلینڈ کی طرف سے پہلی اننگز میں نمایاں اسکور کرنے والے بلے باز تھے کپتان بین اسٹوکس 43 رنز اور وکٹ کیپر جو س بٹلر35 رنز اور انگلینڈ کا مجموعی اسکور تھا 204رنز۔ ویسٹ انڈیز کیلئے اچھا موقع تھا کہ احتیاط سے بلے بازی کرتے ہوئے پہلی اننگز میں اچھی برتری حاصل کر لیتے ۔گو کہ وکٹ پر موسم اثر انداز تھا اور انگلینڈ کی باؤلنگ لائن کیلئے ہوم وکٹ۔

دوسر ے دن چائے کے وقفے کے بعد ویسٹ انڈیز کی اننگز کا آغاز ہوا اورتیسرے دِن کے اختتام سے چند منٹ پہلے 318 رنز بنا کر آل ٹیم آؤٹ ہو گئی۔پہلی اننگز میں اوپنر کریگ بریتھویٹ اور وکٹ کیپرشین ڈورچ کے بالترتیب 65اور61رنز نے اُنکی ٹیم کو پہلی اننگز میں 114 رنز کی برتری دلوا دی۔انگلینڈ کی طرف سے کپتان بین اسٹوکس نے4اور فاسٹ اور تجربہ کار باؤلر جیمز اینڈرسن نے 3کھلاڑی آؤٹ کیئے۔

انگلینڈ نے دوسری اننگز کا آغاز تو تیسرے دن کے آخری لمحوں میں کر دیا لیکن چوتھے دن بلے بازوں نے احتیاط سے کھیلتے ہو ئے پہلے آہستہ آہستہ ویسٹ انڈیز کی برتری ختم کی اور پھر اسکور میں اضافہ کر نا شروع کر دیا ۔ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر جانتے تھے کہ اگر یہ زیادہ سکور کر گئے تو 5ویں دن وکٹ اُنکے باؤلرز کے حق میں ہو جائے گی لہذا اُنھوں نے اپنے سمیت 6باؤلرز آزمائے جن میں سے ایک دفعہ پھر شنین گیبرئیل نے اُن پر دھاوا بول دیا اور 5ویں دن کے آغاز میں ہی انگلینڈ کی آل ٹیم 313کے اسکور پر آؤٹ ہو گئی۔

شنین گیبرئیل نے5وکٹیں لیں اور انگلینڈ کی طرف سے اوپنر ڈوم سبلیے نے50،زک کرولے نے 76اورکپتان بین اسٹوکس نے46 رنز بنائے۔ کپتان بین اسٹوکس کو دو اننگز میں ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر نے آؤٹ کیا۔ ویسٹ انڈیز کیلئے انگلینڈ کی ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ میچ جیتنے کیلئے ہدف تھا 200رنز ۔لیکن جب27اسکور پر اُنکا تیسرا بلے باز ہوپ آؤٹ ہو اتو ایک دفعہ تو ہوپ یعنی اُمید ہی ختم ہو گئی کہ ویسٹ انڈیز اپنا ہدف پورا کر سکے گا۔

لیکن مڈل آرڈر بلے باز جرمین بلیک وُڈ نے کمال کی ذمہدارانہ بلے بازی کرتے ہوئے ہدف کی طرف بڑھنا شرو ع کیا جس میں پہلے اُنکا ساتھ دیا روسٹن چیس نے ،پھر وکٹ کیپر کیپرشین ڈورچ اور کپتان جیسن ہولڈر نے ۔میچ کی فتح لائن کے قریب جب مجموعی اسکور 189تھا تو جرمین بلیک وُڈ 95رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہو گئے لیکن اُنکی بلے بازی نے میچ کو ڈرامائی انداز میں بدل دیا ہوا تھا ۔

لہذا کپتان جیسن ہو لڈر اور اوپنر جون کیمبل نے انگلینڈ کی ہوم گراؤنڈ پر6 کھلاڑی آؤٹ پر 200رنز کا ہدف حاصل کر کے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں 4وکٹوں سے فتح کا جھنڈا گاڑ دیا۔انگلینڈ کے باؤلر آرچر نے3اور کپتان بین اسٹوکس نے2 کھلاڑی آؤٹ کیئے اور اُنکے تجربہ کار باؤلر جیمز اینڈرسن کوئی بھی وکٹ لینے میں ناکام رہے۔ اس میچ میں ایک دفعہ پھر غیر معیاری امپائرنگ دیکھنے کو ملی اور یہ سلسلہ آئی سی سی چیمپئن شپ کے آغاز سے ہی زیر ِبحث ہے۔

دوسرا انگلینڈ کی شکست کی وجہ اسٹیڈیم میں اُنکا ہوم تماشائی نہ ہو نا تھا جو اُنکو آخری دن شور مچا کر ہمت بڑھا سکتا تھا جبکہ دوسری طرف ویسٹ انڈیز کو ہوم تماشائی نہ ہونے کا فائدہ یہ ہوا کہ اُنھوں نے آخری دن جیت کا ہدف حاصل کر لیا۔اس میچ میں ویسٹ انڈیز کو 40 پوائنٹ حاصل ہوئے ہیں۔اگلا ٹیسٹ میچ 16ِجولائی 2020 ء کو اولڈٹریفورڈ مانچسٹر میں کھیلا جائے گا۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments