سوشل میڈیا کا فواد عالم۔۔۔ تحریر: محمد وارث

Social Media Ka Fawad Alam

فواد عالم جنھوں نے زندگی کی 33 بہاریں دیکھ لی ہیں پاکستان کی طرف سے کرکٹ کھیلنے کا آغاز 2007 میں سری لنکا کے خلاف کیا تھا

جمعہ جولائی

Social Media Ka Fawad Alam
برطانیہ کی کرکٹ ٹیم کی متنازعہ جیت کے بعد عالمی کپ اختتام پذیر ہوتے ہی جہاں دنیا کی پروفیشنلز ٹیمیں باہمی سیریز کھیلنے میں مشغول ہو گئیں وہیں پاکستان ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی حسب معمول تنازعات کی زد میں ٹوئٹر کے ٹاپ ٹرینڈز بن گئے۔ ٹوئٹر بھی کیا کمال کی چیز ہے، کسی کو کیا خبر تھی کہ 2006 میں جنم لینے والا ٹوئٹر اتنی اہمیت اختیار کر جائے گا کہ اس کی بدولت اب لوگوں کی زندگیوں کے فیصلے ٹوئٹر پر ہوا کریں گے۔

چند روز قبل ٹویٹر پر پاکستانی کرکٹر امام الحق کا خوب ذکر چل رہا تھا جہاں ان کے ذاتی نوعیت کے مبینہ واٹس ایپ پیغامات کے سکرین شارٹس شائع کیے گئے تھے۔ اس کے بعد امام الحق کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیااور مسلسل ٹوئٹر میں ان کا نام ٹاپ ٹرینڈز میں رہا۔ ابھی امام الحق کا قصہ ختم نہیں ہوا تھا کہ نیا ٹرینڈ بن گیا فوادعالم ایکسپوزڈ۔

(جاری ہے)

پہلے تو یہ دلِ ناتواں گبھرایا بہت کہ پھر یہ ہمارے معصوم کھلاڑیوں کو بدنام کرنے کی کوئی عالمی سازش ہوگی لیکن یار دوستوں سے خبر ملی کہ یہاں قصہ کچھ اور ہی ہے۔ یہ ٹرینڈ تو فواد عالم کے حق میں ہے لیکن یہاں بہت معذرت کے ساتھ کہ مہربان نے آتے آتے بہت دیر کر دی۔ فواد عالم جنھوں نے زندگی کی 33 بہاریں دیکھ لی ہیں پاکستان کی طرف سے کرکٹ کھیلنے کا آغاز 2007 میں سری لنکا کے خلاف کیا تھا۔

پاکستان کی طرف سے انھوں نے اب تک 38 ایک روزہ میچ کھیل رکھے ہیں جن میں ان کی اوسط ایک اچھے کرکٹر کی طرح 40 کی ہے اس میں 6 نصف سنچریاں اور ایک سنچری بھی شامل ہے جبکہ ٹیسٹ کرکٹ میں وہ اب تک صرف تین ٹیسٹ ہی کھیل پائے ہیں جن میں ان کی اوسط 42 کے لگ بھگ ہے اور ایک سنچری بھی شامل ہے، اسی طرح ٹی ٹونٹی وہ 24 کھیل پائے ہیں جن میں ان کی اوسط 17 کی ہے۔

ان کو اگر صحیح وقت پر صحیح موقع ملتا تو یقیناً ان کی کارگردگی اور بھی اچھی ہوتی۔ خاکسار کو فواد عالم کے ساتھ اتنی ہی ہمدردی ہے جتنی اس وقت ٹوئٹرذ حضرات کو ہے کیونکہ بدقسمتی سے فواد عالم کو کرکٹ میں وہ حق نہیں دیا گیا جس کے وہ مستحق تھے۔ حالیہ دور کی بدلتی کرکٹ کو دیکھتے ہوئے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فواد عالم موجودہ کرکٹ میں فٹ آتے بھی ہیں کہ نہیں؟ موجودہ کرکٹ، کرکٹ کم اور پاور ہٹنگ زیادہ ہوگئی ہے اس میں صرف وہی بلے باز کامیاب ہے جس کے پاس پاور ہٹنگ ہے۔

پاور ہٹنگ کی بدولت آج کل کی ایک روزہ کرکٹ میں 300 سے 400 رنز بنانا معمولی بات ہو گئی ہے۔ اگر ہم اس تناظر میں دیکھیں تو فواد عالم نے 38 ایک روزہ میچز میں اب تک صرف 59 چوکے اور 6 چھکے لگائے ہیں اسی طرح ٹی ٹونٹی کرکٹ کی بات کریں تو اس میں ان کے24 میچز کے حساب سے چوکوں کی تعداد 7 اور چھکوں کی تعداد بھی 7 ہی ہے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارگردگی عالمی کپ میں سب نے دیکھ ہی لی ہے، سوائے چند ایک کھلاڑیوں کے باقی ٹیم تو عالمی معیار پے پوری ہی نہیں اترتی اور کئی کھلاڑی تو ایسے ہیں جن کی ایک روزہ کرکٹ میں جگہ ہی نہیں بنتی لیکن وہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ ٹیم میں موجود ہیں۔

اب وقت آگیا ہے کہ قومی ٹیم کا انتخاب دور حاظر کی کرکٹ کے مطابق کیا جائے فخرزمان آصف علی، حارث سہیل اور بابر اعظم جیسے کھلاڑیوں کی اشد ضرورت ہے جو دور حاضر کی کرکٹ پہ پورا اترتے ہیں۔ اگلے برس آسڑیلیا میں ٹی ٹونٹی کا عالمی کپ ہونے جا رہا ہے پاکستان کو ابھی سے اس بڑے ٹورنامنٹ کی تیاری شروع کرنی چاہیے اور خداراہ ایسے دانش وروں سے دور رہنا چاہیے جو خرم منظور جیسے کھلاڑیوں کو ٹی ٹونٹی میں سلیکٹ کروا لیتے ہیں زرا سوچیے جب آسٹریلیا میں بٹلر، گیل، پولارڑ، رسل، مورگن، روئے، آصف علی، بین سٹوکس، وارنر، اور میکسول جیسے بلے بازوں کے چھکے کرکٹ گراؤنڈ سے بھی باہر گر رہے ہونگے تو اس وقت فواد عالم اور خرم منظور جیسے بیچاروں پہ ترس تو آ ہی رہا ہوگا؟

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments