لاہور چیمبر بارٹر ٹریڈ لسٹ پر اپنی تجاویز دے‘ایرانی قونصل جنرل

لاہور چیمبر بارٹر ٹریڈ لسٹ پر اپنی تجاویز دے‘ایرانی قونصل جنرل
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اکتوبر2021ء)پاکستان میں ایرانی قونصل جنرل محمد رضا ناظری نے کہا ہے کہ کرونا کے حوالے سے پاکستان نے ایران کو تاحال سی کیٹگری میں رکھا ہے جس کی وجہ سے فلائٹ آپریشن اور باہمی تجارت بری طرح متاثر ہورہے ہیں، پاکستان ایران کو فوری طور پر سی کیٹگری سے نکالے ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے صدر میاں نعمان کبیر، سینئر نائب صدر میاں رحمن عزیز چن اور نائب صدر حارث عتیق سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر کیا۔

ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ایرانی سائیڈ سے ایسی کوئی پابندی نہیں ہے لہذا پاکستان بھی ایران کے لیے کرونا کے حوالے سے سی کیٹگری ختم کرے۔ انہوں نے کہا کہ بارٹر ٹریڈ کے حوالے سے لسٹ میں اشیاء شامل کرنے یا نکالنے کے حوالے سے لاہور اور کوئٹہ چیمبرز اپنی سفارشات دیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بارٹرٹریڈ کے حوالے سے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ پاکستان سے چاول اور ڈینم وغیرہ ایران کو برآمد ہوگا اور اس کے بدلے وہ ایران سے بجلی خریدے گا مگر سٹیٹ بینک نے اس حوالے سے سہولت دینے سے انکار کردیا ہے جس کی وجہ سے یہ معاملہ تاحال التوا میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس وافر ایل پی جی اور قدرتی گیس ہے جو وہ پاکستان کو بارٹر ٹریڈ کے تحت دینا چاہتا ہے، اب یہ پاکستانی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ کیا قدم اٹھاتی ہے۔ ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستان سے ایران کو آم کی برآمد کے لیے کافی آسانیاں پیدا کی گئی ہیں جس سے آم کے پاکستانی برآمد کنندگان بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایرانی سیب پر پچاس فیصد ڈیوٹی عائد کررکھی ہے جبکہ افغانستان میں یہ ڈیوٹی دس فیصد ہے، پاکستان بھی یہ ڈیوٹی کم کرے۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں پاکستانی قونصل خانہ سے ایرانیوں کو ویزا کے اجرا میں کافی تاخیر ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں ایرانی قونصل خانہ فوری ویزے جاری کرتا ہے،پاکستانی قونصل خانہ بھی ویزوں کے اجراء میں تاخیر کم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیوں سے ہٹ کر بھی تجارت کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی ٹرکوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی جائے۔

لاہور چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں نعمان کبیر نے کہا کہ ایرانی قونصلیٹ بارٹرٹریڈ سے متعلق تمام ایشوز لاہور چیمبر کو بھیجے جو وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود کے ساتھ اٹھائے اور حل کرائیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر دہشت گردی کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور ایرانی تاجروں کے درمیان مشترکہ منصوبہ سازی باہمی تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے، دونوں ممالک کو مارکیٹ ریسرچ پر توجہ دینی چاہیے ،دونوں ممالک درآمدات اور برآمدات کے سلسلے میں ایک دوسرے کو ترجیح دیں۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈکے سینئر نائب صدر میاں رحمن عزیز چن نے کہا کہ ایرانی قونصلیٹ تحریری طور پر بارٹرکمیٹی کے اراکین کے نام اور دیگر تفصیلات بھیجے تاکہ مزید پیش رفت باآسانی ہوسکے۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر حارث عتیق نے کہا کہ ایرانی قونصلیٹ لاہور چیمبر میں فارسی لینگویج کورس کے لیے تعاون کرے۔

Your Thoughts and Comments