اھلاو سھلا ومرحبا

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلی بار پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں اس حوالے سے ان کے زبردست استقبال کی تیاریاں بھی گذشتہ کئی دنوں سے زور و شور سے جاری تھیں ۔ اطلاعات کے مطابق ان کے وفد کے لئے

ہفتہ فروری

ahlan waslan wa marhaba

خالد یزدانی

سعودی عرب جزیرہ نما عرب کا سب سے بڑا ملک ہے ،جس کی شمال مغرب میں سرحد اردن اور شمال میں عراق اور شمال مشرق میں کویت، قطر اور بحرین جبکہ مشرق میں متحدہ عرب امارات جنوب مشرق میں سلطنت عمان اور جنوب میں یمن سے ملتی ہیں۔ یہ وہ ارض مقدس ہے جہاں مکہ مکرمہ میں خدا کا گھر اور مدینہ منورہ ہیں نبی آخرالزمان حضرت محمدؐ کا روضہ اقدس ہے اسی حوالے سے یہ سرزمین ’’حرمین شریفین‘‘ کہلاتی ہے۔ لاکھوں فرزندان توحید یہاں آکر فریضہ حج ادا کرتے ہیں ، تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب میں آل سعود کی بادشاہت چلی آ رہی ہے، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان کے فرزند ولی عہد محمد بن سلمان کی کرشماتی شخصیت سے عالم اسلام ہی نہیں ساری دنیا واقف ہے۔

(جاری ہے)

ان کے اقدامات کے نتیجہ میں سعودی عرب میں کئی اصلاحات بھی حال ہی میں سامنے آئیں جن کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلی بار پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں اس حوالے سے ان کے زبردست استقبال کی تیاریاں بھی گذشتہ کئی دنوں سے زور و شور سے جاری تھیں ۔ اطلاعات کے مطابق ان کے وفد کے لئے اسلام آباد کے ہوٹلوں میں کمروں کے ساتھ لگژری گاڑیوں کی بکنگ کروا لی گئی جبکہ ولی عہد کے استعمال کے لئے لگژری گاڑیاں سعودی عرب سے لائی جا رہی ہیں۔ ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ شاہی گارڈز بھی آ رہے ہیں ان کا قیام وزیراعظم ہائوس میں ہوگا، مہمان شہزادے کی آمد پر پاک فضائیہ کا سکواڈرن سلامی دے گا جے ایف تھنڈر طیارے فلائی پاسٹ کریں گے، پاک حدود میں جیسے ہی ولی عہد محمد بن سلمان کا طیارہ داخل ہوگا پاک فضائیہ کے طیارے سکیورٹی حصارمیں لے لیں گے۔ پاکستان آمد پر محمد بن سلمان کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات بھی ہوگی جبکہ ان کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا جائے گا صدرپاکستان عارف علوی بھی ولی عہد کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے۔ اس اہم دورے میں متعدد معاہدے بھی ہوں گے جس سے پاکستان کی معیشت کو فائدہ ہوگا۔

محمد بن سلمان کی زندگی پر نظر دوڑائی جائے تو 31 اگست 1985ء کو پیدا ہونے والے پرنس ولی عہد کے ساتھ اس وقت ملک کے نائب وزیراعظم کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو تقرری کے وقت دنیا میں ان کی عمر سب سے کم تھی۔ جون 2017ء کو وہ ولی عہد مقرر ہوئے،سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے فیصلے کے مطابق محمد بن نائف کو تمام عہدوں سے ہٹایا گیا اور محمد بن سلمان کو وارث بنانے کا باضابطہ اعلان کیا گیا تھا ۔محمد بن سلمان نے حال ہی میں کئی کامیاب اصلاحات کی ہیں، جس میں پولیس اصلاحات اور خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی کے خاتمہ جیسے اعلانات تھے ۔ ان کی کوششوں سے ثقافتی سرگیوں کا آغاز ہوا اور ایک سب سے پہلا کنسرٹس بھی منعقد ہوا تھا ، اس کے علاوہ غیر ملکی سیاحوں کے لئے ای ویزا نظام کو متعارف کروا کنے جیسے اقدامات کئے ، جس سے سیاح آسانی سے انٹرنیٹ کے ذریعے فائدہ اٹھا سکیں گے ۔وہ اپنے 2030 وژن کے پروگرام کی ٹیکنالوجی اور سیاحت سمیت غیر تیل کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے سعودی معیشت کو متنوع بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کی زندگی پر ایک نظر ڈالی جائے تو انھوں نے ریاض شہر میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، دوران تعلیم انہوں نے مختلف پروگراموں کے اضافی کورسز بھی کئے اور قانون میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ جامعہ الریاض کے کالج سے گریجوایشن کی قانون اور سیاسیات ان کے اہم موضوع رہے ، 10 اپریل 2007ء کو شاہی فرمان کے تحت محمد بن سلمان کو سعودی کابینہ میں ماہرین کونسل کا مشیر مقرر کیا گیا۔ 3 مارچ 2013ء انہوں نے ریاض کے مسابقتی مرکز کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالی اور ساتھ شاہ عبدالعزیز دفاعی ترقی کی اعلیٰ کمیٹی کے بھی رکن رہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کو شاہ سلمان کا اس وقت مشیر مقرر کیا گیا تھا جب وہ امیر ریاض کے عہدے پر تھے۔ ولی عہد کے دفتر کے انچارج اور ان کے پرنسپل سیکرٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ 3مارچ 2013ء کو شاہی فرمان کے تحت انہیں ولی عہد کے شاہی دیوان کا منتظم مقرر کیا گیا اور انہیں ایک وزیر کے برابر رتبہ دے دیا گیا۔13جولائی 2013ء کو انہیں وزیر دفاع کے دفتر کا سپروائزر مقرر کیا گیا۔ 25 اپریل 2014ء کو شاہی فرمان کے تحت انہیں وزیر مملکت، پارلیمنٹ کارکن، 2015ء کو شاہی فرمان کے تحت شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کو خادم الحرمین کا مشیر خاص اور شاہی دیوان کا منتظم اعلیٰ مقرر کیا گیا۔

محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی معیشت کی تنظیم نو کے سلسلے میں 2030 ویژن کو متعارف کروایا جس کا باضابطہ طورپر اپریل میں اعلان کیا گیا تھا ، یہ ملک کی حکمت عملی اگلے 15 سال کی ہے۔ ویژن 2030 (ویژن) متنوع اور نجکاری کی ساخت سمت اور سعودی معیشت کی اصلاح کا منصوبہ ہے۔ اس کے مختلف شعبوں میں اقدامات اور اہداف کی تفصیلات ہیں، غیر تیل کی آمدنی اور نجکاری ترقی سے معیشت سے حکومت تک پائیدار ترقی کرنا شامل ہے ۔ اکتوبر 2017ء کو ریاض میں افتتاحی مستقبل کی سرمایہ کاری کی پہلی کانفرنس ہوئی، محمد بن سلمان نے نیوم (Neom) کی تخلیق کی منصوبہ بندی کا اعلان کیا۔

محمد بن سلمان کا پاکستان کا دورہ ہر لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ اس دورے کے دوران جو معاہدے ہوں گے اس کے پاکستان کی معاشی ترقی میں ممدو معاون ثابت ہوں گے ۔آج ساری قوم ولی عہد سعودی عرب کو پاک سرزمین پر خوش آمدید کہہ رہی ہے ،یہ ارض مقدس کی سرزمین سے آیا مہمان ہے جس کے اباواجداد نے ہر مشکل گھڑی ہیں پاکستان کا ساتھ دیا اور پاکستانیوں کے دلوں میں بھی اس ملک سے جو عقیدت ہے اسے سب جانتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

ahlan waslan wa marhaba is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 16 February 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.