چمڑی اور دمڑی کی جنگ سیاست کا محور

کیا آپ جانتے ہیں کہ چمٖڑی اور دمڑی میں کیا رشتہ ہے اور یہ رشتہ کب قائم ہوا اور پھر اس قدر مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا کہ

ہفتہ جنوری

chamri aur dhamri ki jung siyasat ka mehwar

احمد کمال نظامی

کیا آپ جانتے ہیں کہ چمٖڑی اور دمڑی میں کیا رشتہ ہے اور یہ رشتہ کب قائم ہوا اور پھر اس قدر مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا کہ ایٹم بم جیسی ہلاکت خیز چیز بھی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔ معاف کیجئے گا کہ صلہ شہید کیا ہے اس کے معنی تمام مذاہب کے لوگ جانتے ہیں بلکہ اپنے اپنے ایمان کا جزو اول و آخر قرار دیتے ہیں۔ لیکن صلہ جمہوریت کے معنی شاید دنیا بھر کے سیاست دان جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں پاکستانی سیاست دانوں نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں اس راز کو بخوبی پا لیا اور صلہ جمہوریت کے فلسفہ زر کو بھی اسی عرصے میں خوب شہرت ملی۔ علامہ اقبال نے تمام زندگی فلسفہ خودی کی نذر کر دی۔ کاش وہ فلسفہ زر کو پا جاتے تو چمٖڑی اور دمڑی کے درمیان جو رشتہ سیسہ پلائی دیوار جیسا ہے اس اہمیت اور افادیت کے قائل ہو جاتے، کیونکہ دمڑی ملتی ہی اس وقت ہے جب ایسی جمہوریت کا پرچم پوری آب و تاب سے لہرا رہا ہو جیسی جمہوریت پاکستان میں سکہ رائج الوقت جنرل ضیاء الحق کے عہد مومنانہ میں فروغ پذیر ہوئی اور اس کے طفیل تاج محل جیسی عمارتیں سینہ زمین پر ایستادہ ایک کے بعد ایک دکھائی دینے لگیں۔

(جاری ہے)

پاکستان میں عہد حاضر میں ہمارے سیاست دانوں کے بیانات چمڑی اور دمڑی کے گرد ہی گھوم رہے ہیں جبکہ عوام چاہتے ہیں اور مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ ہمیں چمڑی نہیں دمڑی چاہیے اور دمڑی بھی وہ جو چمڑی والوں نے ہم سے چھینی ہوئی ہے اور چمڑی والے کہتے ہیں کہ چمڑی جائے تو جائے دمڑی نہیں جانے دیں گے جو ہماری میراث ہے۔ مقابلہ پورے زوروشور سے جاری ہے۔

حالات بتا رہے نیا سال نا صرف روڈمیپ ہو گا بلکہ سمت کا تعین بھی کر دے گا۔ بقول شخصے ’’انجام گلستان کیا ہو گا،جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے‘‘ کے مصداق ،کون سکندر ہو گا اس کا بھی فیصلہ ہو کر رہے گا۔سیاست دانوں کے بیانات اور بیانیہ پر آگے چل کر بات کریں گے پہلے جس سمت کے تعین کی طرف اشارہ کیا ہے مختصرالفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ قوم و ملک سے محبت کے کئی بیانئے بھی دیئے اور اپنے ملک کی سلامتی اور دفاعی کردار کا اظہار بھی کیا لیکن ترقی اور معیشت کا نہ تو ہم نے کوئی خدو خال دیئے اور نہ کوئی قومی بیانیہ تشکیل پا سکا۔ وطن عزیز میں زراعت کی طرف رجحان زیادہ تھا تو ہم نے زراعت میں کوئی بڑی انوسٹمنٹ کی ہے نہ ہم نے ایسے ادارے تشکیل دیئے جو زراعت کے شعبے میں ترقی کا کوئی معیار مقرر کر پاتے ،جسے قومی سطح پر ترجیح قرار دیا جا سکتا۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی آج بھی زراعت میں فی ایکڑ پیداوار ہماری نسبت دگنی تگنی ہے۔ اگر ٹیکسٹائل کی بات کی جائے تو ہم دنیا میں دوسرے بڑے ٹیکسٹائل ایکسپورٹر ہوا کرتے تھے اور اب حال یہ ہے کہ صرف ایشیا میں ہمارا آٹھواں نمبر ہے اور یہ سب کچھ بھی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کر رہے ہیں۔ حکمرانوں ، حکومتی پالیسی ساز اتھارٹیز اور اداروں کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ غلط پالیسیوں اور حکومتی اداروں کی طرف سے کام میں رکاوٹ کے باوجود پاکستانیوں نے ازخود اسے کامیابی سے چلائے رکھاہے۔ اس وقت اہم ترین مسئلہ ملکی معیشت کی بحالی کا ہے۔ اپوزیشن لیڈر جو مرضی کہتے رہیں موجودہ حکومت کو بھلے ناتجربہ کاری کے طعنے دیتے رہیں مگر حکومت کو چاہیے کہ ان کو خاطر میں لائے بغیر اول و آخر معیشت کی بحالی کیلئے کام کرے ۔پاکستان میں اس گئے گزرے دور میں بھی ایسے محب وطن اقتصادی ماہرین کی کمی نہیں جو معیشت کی ڈولتی ہوئی ناؤ کو کنارے لگانے کی صلاحیت اور قابلیت رکھتے ہیں ، ان کی تجاویز کی روشنی میں ایسا فریم ورک تیار کیا جائے جو پاکستان کی معیشت کو ٹھیک کرنے میں معاون اور مددگار ثابت ہو سکے۔ ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ ملکی معیشت کی ایک سمت کا تعین ہو اور اسی صورت میں ہم پاکستان کو ایک روشن مستقبل دے سکیں گے تبھی ہم ان ممالک کے برابر کھڑا ہو سکیں گے جن کا قیام تو ہمارے بعد ہوا لیکن آج وہ ترقی کی دوڑ میں ہم سے بہت آگے نکل گئے ہیں۔

مگر افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ ایسی منصوبہ بندی کرنے کی بجائے حکومتی ارکان کی تمام تر توجہ اس امر پر مرکوز ہے کہ کون کون جیل میں جاتا ہے ۔روز بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں کہ کاغذات بول رہے ہیں کہ فلاں فلاں جیل میں ضرور جائیں گے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے جیل جانے سے کیا لوٹی ہوئی قومی دولت واپس آ سکتی ہے کیا ہم اسے وصول کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ سچی بات تو یہی ہے کہ آصف علی زرداری، خورشید شاہ، اسفند یار ولی، میاں محمد شہبازشریف، خواجہ سعد رفیق اور دیگر لوگ کچھ بھی کہتے رہیں اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ قومی دولت لوٹی توگئی ہے اور اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے اقتدار کی چھتری تلے پناہ لے رکھی ہے۔ کہنے کو سبھی کہتے ہیں کہ احتساب کے بغیر چارہ کار نہیں لیکن احتساب سب کا ہونا چاہیے۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی مسلم لیگ(ن) یا پیپلزپارٹی ہی کیوں قابل احتساب قرار دی جائے او رحکمران اشرافیہ میں شامل یا ان کی چھتری تلے بیٹھے افراد ہی کیوں این آر او کے حق دار ہیں۔ حکومت کے تمام دعووںکے باوجود ابھی لوٹی دولت سے ایک پائی بھی قومی خزانے میں شامل نہیں ہوئی اور جو بھی جے آئی ٹی کی رپورٹ منظرعام پر آتی ہیں یہ حقائق کا منہ بولتا ثبوت ہونے کے باوجود ناقص قرار پاتی ہے۔ اس لئے کہ چمٖڑی نہیں ہمارے لیڈروں کو دمڑی عزیز ہے جیسا کہ سطور بالا میں کہا گیا کہ حکومت کو معیشت کی بحالی کے پراجیکٹ پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور معیشت اسی وقت مستحکم اور مضبوط ہو گی جب ہماری جیب میں دمٖڑی ہو گی لہٰذا حالات حاضرہ تو اس امر کی غمازی کر رہے ہیں کہ ہمارے سیاست دان چمڑی اور دمڑی بچانے کی جنگ جمہوریت کے نام پر لڑ رہے ہیں کون فاتح ہوتا ہے اس کا فیصلہ اسی سال ہو گا ۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

chamri aur dhamri ki jung siyasat ka mehwar is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 12 January 2019 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.