حکومتی اقتصادی پالیسیاں اور نئے بجٹ کی آمد

ملک کو دوگنا یعنی28ارب رُوپے روزانہ نکالنا ہوں گے قو می آمدن کا تقریباً87فیصد حصہ اخراجات میں جانے سے سرمایہ کاری اور شرح ترقی کا مستقبل کیا ہو گا

بدھ اپریل

hakoomati iqtisadi policia aur naye budget ki aamad
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر عام آدمی تو کیا اب مملکت کے صدر جناب عارف علوی نے بھی اپنی تشویش ظاہر کر دی ہے ۔عام لوگوں کی قوت خرید میں کمی ،ڈالر اور اشیاء صرف کی قیمتوں میں اضافے کا یہ رجحان کس حد تک جائے گا۔ان سوالات نے معاشی بے یقینی تو کیا سیاسی استحکام کو بھی ضعف پہنچایا ہے پہلے مرحلے میں نو منتخب حکومت کے لئے اس کی قیادت کی طرف سے کئے گئے اپنے دعوے ہی محض ہوا کا بلبلہ ثابت ہو چکے ہیں ۔


تحریک انصاف نے حکومت سنبھالنے سے قبل 90دن میں اپنے اہداف پر کام کے آغاز کا وعدہ کیا تھا مگر حکومت ملنے پر 100روزہ پلان کے تحت ملک میں دو سوارب ڈالر تارکین وطن سے تو کیا جمع ہوتے اس کے برعکس دوست ممالک سعودی عرب ،چین اور متحدہ عرب امارات کے چند ارب ڈالر کی مالی امداد پر ہی تکیہ کرنا پڑا۔

(جاری ہے)

اس کے بعد ملک میں ایک کروڑ نوکریاں تو کیا گزشتہ آٹھ ماہ سے الٹا بیروزگاری اور چھانٹیوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ تعمیر ترقی کے میگا منصوبوں کورد کرتے ہوئے جن 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کا وعدہ کیا گیا تھا اگلے عرصے میں ان تمام وعدوں کی بجائے اب سالانہ شرح نمو بھی بر قرار نہ رہ سکے گی
۔


معیشت کی روز بروز بگڑتی اس صورتحال پر مرکزی حکومت کے وزیرخزانہ عمر اسد کی قوت فیصلہ پر تو سال 2018-19ء کے نظر یاتی شدہ بجٹ کے بعد ہی تنقید ہونے لگی تھی ۔وزیرخزانہ نے آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام میں شرکت کے مسئلے پر ملک و قوم خصوصاً تجارتی طبقے کو مسلسل گومگو کی کیفیت سے دوچار رکھا اور بالآخرڈا لر کی قیمت میں اضافہ کرکے تجارتی خسارہ کم کرنے کی مصنوعی کوشش ہی پر اکتفا کر لیا ۔


اس اقدام کی وجہ اب عیاں ہو چکی ہے کہ بلند بانگ دعوے کرنے والی حکومت تجارتی خسارہ کم کرنے کے لئے صنعتی وتجارتی طبقوں کو گیس،بجلی ،خام مال کے نرخوں ودیگر انفراسٹرکچر میں تو کوئی آسانی مہیا نہیں کر سکی لٹا آئی ایم ایف کی خواہش پر اس کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر کم کرنے پر مجبور ہو گئی ہے ۔
ایشیائی ترقی بینک نے حالیہ دنوں میں پاکستان کی معیشت کے بارے میں جو اشارے دئیے ہیں موجودہ حکومت اپنے عرصہ اقتدار میں ان مشکلات سے نکل بھی پائے تو مدت اقتدارکے اس کل سرمایہ کو عالمی مالیاتی اداروں کی خدمت ہی قرار دیا جا سکے گا۔


بلاشبہ کوئی بھی حکومت جان بوجھ کر اپنے لئے بدنامی مول لینا نہیں چاہتی مگر معاشی ماہرین تو کیا عام لوگوں میں بھی تحریک انصاف کی حکومت سے ہمدردی رکھنے والے سب حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو نئے بجٹ کی آمد سے قبل ہی شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔معاشی ماہرین تو گویا حکومت کے سیاسی مخالفین سے بھی آگے نکل گئے ہیں ۔ان کی پیش کردہ ایک تقابلی رپورٹ میں موجود وزیرخزانہ اور سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے حوالے سے بالترتیب اپریل 2019ء اور اکتوبر2017ء کی سطح پر جائز ہ لیا گیا۔


رپورٹ میں دےئے گئے اشاریوں کے مطابق اس دوران ملک کی سٹاک مارکیٹ 52ہزار انڈکس سے 38ہزار پر آگری ہے ۔سود کی شرح 5.75تھی جو اب 10.75تک پہنچ گئی ہے ۔ڈالر جو اکتوبر 2017ء میں 105.40روپے کا تھا143روپے تک پہنچ گیا ہے ۔اکتوبر 2017ء تک مہنگائی کی شرح 3.8تھی جو 9.4فیصد ہو چکی ہے ۔افراط زر5.6سے بڑھ کر 9فیصد بلکہ ڈبل فگر ہونے جارہی ہے ۔موجودہ حکومت کے عرصے میں برآمدات میں 320 ملین ڈالر کی کمی واقع ہو چکی ہے ۔


ٹیکس وصولی کے نام پر ملک کو کرپشن کا قبرستان تک ثابت کرنے کی کوشش کی گئی مگر 236ارب روپے کی کمی تو ایک طرف ملک کو عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی نظر میں ناقابل اعتبار اور مشتبہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے ۔
اب جبکہ نئے بجٹ کی آمد آمد ہے بلک کو تقریباً دو گنا یعنی 28ارب روپے روزانہ قرض کی ادائیگی کے لئے نکالنا ہوں گے ۔اس کے نتیجے میں جب قومی آمدن کا بیشتر حصہ تقریباً87فیصد اخراجات میں چلا جائے گا تو ملک میں باقی رقم سے کیسی سرمایہ کاری اور سالانہ شرح ترقی کا کیا ذکر ہو گا۔


چین بھارت اور بنگلہ دیش خطے کے ممالک کے مقابلے میں ہماری معاشی حالت مزید کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔ایشیائی ترقیاتی بینک2019ء میں ہماری شرح نمو3.9فیصد اور اس کے اگلے برس 2020ء میں 3.6فیصد قرار دے چکا ہے ۔اشیائے ضروریہ ،ادویات ،گیس ،بجلی ،پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور آئندہ سال کے بجٹ کے لئے جن مطالبات زرکوپورا کرنا ہے اس سے تومعیشت کی الٹی گنگاہی بہتی دکھائی دے رہی ہے ۔اب یہ مسئلہ اُن کے سوچنے کا ہے جو اس صورتحال کے بالواسطہ یا براہ راست ذمہ دار بھی ہیں اور بجٹ میں بقدرجُثہ حصے دار بھی ․․․․!!

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

hakoomati iqtisadi policia aur naye budget ki aamad is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 17 April 2019 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.