مودی کی بڑھکیں‘فوجی ترجمان کا منہ توڑ جواب

بھارتی فوج سرحد پار کر کے دیکھے!․․․․․․ انتہا پسند ہندواقلیتوں کو نشانہ بنا کر خود بھارت کو کھوکھلا کررہے ہیں

بدھ جنوری

moodi ki barhhkain fouji tarjuman ka mun toar jawab
 اسرار بخاری
بھارتی وزیراعظم مودی کی بڑھکوں کے جواب میں آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے جوکھری کھری سنائیں وہ بلا امتیاز رنگ زبان اور عقیدہ پوری پاکستانی قوم کے حقیقی جذبات کی ترجمانی ہے ۔قبل ازیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی بھارتی آرمی چیف بپن راوت کی لن ترانیوں کے جواب میں واضح کر چکے ہیں پاکستان کی جانب سے امن کی خواہش کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔


بھارت نے دو مرتبہ کواڈ کا پٹر (بغیر پائلٹ ڈرون )بھیج کر پاکستانی فوج کی مستعدی اور عسکری صلاحیت کو آزمانے کی کوشش کی دونوں کواڈ کا پٹر مار گرائے جانے سے بھارتی حکمرانوں اور فوج کو سمجھ آجانی چاہیے کہ پاکستان کی سرحد خالہ جی کاباڑہ نہیں ہے ۔
چند روز قبل مودی نے ایک بھارتی ٹی وی چینل کو طے شدہ انٹر ویو دیا۔

(جاری ہے)

انٹر ویو کرنے والے کو مخصوص سوالات دئیے گئے تاکہ من پسند جوابات دئیے جا سکیں جس میں مودی نے شیخیاں بگھارنی شروع کردیں کہ2016ء میں پاکستان کی فوج نے اڑی کیمپ پر حملہ کیا تو بھارتی فوج انتقام کی آگ میں جل رہی تھی ۔

اس سے زیادہ میرے سینے میں آگ لگی تھی جب فوج نے سرجیکل سٹرائیک کے ذریعہ پاکستان کو سدھار نے کا منصوبہ پیش کیا تو میں نے اس کی منظوری دے دی۔
ابھی اس کی بڑھک کی بازگشت موجود تھی کہ پیر کے روز بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر میں اٹھمقام اور شاہ کوٹ نہتے شہریوں پر گولہ باری کی جس سے ایک خاتون شہید اور سات افراد زخمی ہوگئے ،اسی طرح بھارت کی جانب سے بھیجا گیا جا سوس طیارہ بھی مار گرایا گیا جس سے بھارتی فوج کی دفاعی صلاحیتوں کا بھانڈا پھوٹ گیا۔

میجر جنرل آصف غفور نے واضح کیا دشمن کے کسی کو اڈکاپٹر یاڈرون کو سرحد پار آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی بھارتی وزیر اعظم نے شیخی بگھاری ہے کہ بھارتی فوج پاکستان کے اندر گھس کر حملہ کرنے کی صلاحیت اور عزم رکھتی ہے لیکن پاکستان کی فوج کے جوانوں نے ثابت کردیا کہ بھارتی فوج تو درکنار ان کے ڈرون کو بھی سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔


بلاشبہ پاکستانی فوج کے جوان جس لگن ‘خلوص اور جذبہ جہاز سے سر شار ہو کر مادر وطن کے تحفظ کے مستعدوچوکس ہیں ۔بھارتی فوج کو اس کا کئی بارتجربہ ہو چکا ہے اور اگر مودی کے پاگل پن کے باعث بھارتی فوج نے پاکستانی حدود میں گھسنے کی کوشش کی تو اس کا کوئی ایک فوجی زندہ واپس نہیں جائے گا۔
مسلمانوں سے شدید نفرت کے لئے بد نام سبرامینیم سوامی نے ایک ٹی وی انٹر ویو میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی الیکشن جیتنے کی حکمت عملی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔


اس کا کہنا ہے کہ ہندؤں کو مسلمانوں کے خلاف مذہبی جذبات بھڑ کا کر متحد کرکے اور مسلمانوں کو شیعہ ‘سنی ‘بریلوی ‘دیوبندی وغیرہ کی بنیاد پر تقسیم کرکے الیکشن جیتا تھا اور اب بھی ایسا ہو گا یہ الیکشن جیتنے کی کامیاب حکمت عملی ہے گورننس وگر ننس سے الیکشن نہیں جیتے جاتے ۔سبرامینیم سوامی کی اس مفہوم کی باتیں کوئی اچانک انکاف نہیں ہے مسلمان دشمن کی آگ بھڑکا کر ہندو ووٹ حاصل کرنے کی اس حکمت عملی سے ساری دنیا آگاہ ہے مگر بھارتی صوبے گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام اس حکمت عملی کا حصہ تھا اور گاؤ رکھشا کے نام پر آئے روز کسی مسلمان کا قتل معمول ہے ،کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا یہ دراصل ایسی سیاست کی شناخت ہے جس میں سیاسی اور ذاتی مفادات کے لئے اپنے قریبی لوگوں قوم اور ملک کو داؤ پر لگادیا جائے اس معیار سے جائزہ لی جائے تو وہ سیاستدان متذکرہ سیاست جن کی پیشانی پر سیاہ داغ ہے ان میں بہت نمایاں بھارت کا وزیراعظم نریندر مودی بھی ہے جس نے سیاسی مفادیا اقتدار کی ہوس میں بھارت کے ہندوؤں کو ہندوانتہا پسندی کے جنون میں مبتلا کرکے بھارت کے سکیولر چہرہ کو تو مسخ کیا ہی تھا سلامتی کو بھی داؤ پر لگادیا ہے ۔


اگر چہ بھارت کے ماضی کے حکمرانوں کی بھی یہی روش رہی ہے مگر مودی نے اسے کئی گناہ بڑھا دیا ہے ایک تو انتہاپسندی کا شکار ہندو اپنی اور ملک کی ترقی وخوشحالی کی جدوجہد کا حصہ بننے کی بجائے دن رات کا پیشتر حصہ مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بنانے اور ان پر عمل کرنے میں ضائع کرتے ہیں اور مسلسل ٹینشن کا شکار رہ کر مختلف نفسیاتی عوارض کا شکار ہوتے ہیں ذہنی و روحانی آسودگی سے محروم رہتے ہیں پھر دنیا بھر میں بھارت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں جس کا بر ملا اعتراف بھارت کے سابق چیف جسٹس نے کھلے عام کیا ہے بلکہ گائے بچانے کی آڑ میں مسلمانوں کو قتل کرنے کے ناپاک فعل کی مذمت کی ہے حالانکہ بھارتیوں کو گائے سے زیادہ خود بھارت کی فکر کرنی چاہیے جس کے ٹوٹنے کے امکانات روز بروز بڑھ رہے ہیں جس ملک کے سولہ علاقوں میں علیحدگی کی مسلح تحریکیں چل رہی ہوں کشمیر میں آزادی کی تحریک عروج پر ہو اس صورتحال کے باعث بھارتی فوج کو مسلسل حالت جنگ کا سامنا ہو فوجی ایسے حالت سے خود تنگ آچکے ہیں اس ملک کے انتہا پسند ہندو اس حوالے سے بے حسی کاشکار ہو کر مسلمانوں اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ کر اپنے ملک کے اندرونی طور پر خود کھوکھلا کرنے میں مصروف ہوں اس کی سلامتی اگر ریت کی دیوار ثابت ہو جائے تو تعجب کیا ہے ۔


بھارتی حکمرانوں کے لئے جو لمحہ فکریہ ہونا چاہیے وہ یہ حقیقت ہے کہ بھارت کے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہا ہے کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم ان کے اندر غم وغصہ کے جذبات پیدا کررہے ہیں ۔بھارتی فوج نے کشمیر یوں کے جائز حق کے لئے پرامن احتجاج اور مظاہروں کے جواب میں گولیاں چلا کر پیلٹ گنوں کے استعمال ‘تشدد‘ املاک کو نقصا ن پہچانے اور عفت ماب خواتین کی عزتیں لوٹنے کا جو شر مناک سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس نے کشمیر ی نو جوانوں کے اندر اشتعال کا جنم لینا تو قدرتی بات ہے اس کی تپش دوسرے شہروں میں بھی محسوس کی جانے لگی ہے بلکہ عملاً کشمیر کی تحریک آزادی مسلح جدوجہد کا رنگ اختیار کررہی ہے ۔


گزشتہ دنوں دونوعمر کشمیر ی لڑکوں مدثر اور بلال نے اٹھارہ گھنٹے بھارتی فوج کا مقابلہ کر کے جام شہادت نوش کیا۔کشمیری نوجوان اب پتھر کی بجائے ہاتھوں میں بندوق پکڑنے لگے ہیں تو اس کی تمام تر ذمہ داری بھارتی فوج کے مظالم ہیں بھارت کے دوسرے علاقوں کے نوجوانوں میں بھی ان مظالم کے خلاف غم وغصے کی جو کیفیت پیدا ہورہی ہے اس کے باعث اب یہ تحریک کشمیر سے باہر نکل گئی ہے ۔

جس کا ثبوت حیدر آباد دکن کے دو مسلمان نوجوانوں کا پکڑا جانا ہے ۔
بھارتی فوج کے مظالم کا سلسلہ جاری رہا تو پورے بھارت میں مسلمان نوجوان اس تحریک کا حصہ بن سکتے ہیں اور اس کی ذمہ دار بھی بھارتی فوج ہی ہو گی کیونکہ یہ بھارتی فوج ہے جس کے ․․․․․․کی وجہ سے مسلمانوں بالخصوص مسلمان نوجوان میں یہ احساس بڑھتاجارہا ہے کہ جب بھارتی فوج کے ہاتھوں بے قصور مرنا ہے ہی تو کیوں نہ مار کر مریں ۔

جب کسی قوم کے جوانوں میں یہ احساس جڑ پکڑ جائے تو پھر اس قوم کا مقابلہ رائفل یا پیلٹ گن تو کیا ایٹم بم بھی نہیں کر سکتا ۔
بھارتی فوج کشمیری نوجوانوں کو اس جانب دھکیل رہی ہے ۔ساتھ ہی ساتھ کنٹرول لائن پر فائرنگ‘گولہ باری کر کے گھروں میں بیٹھے یا کام کاج میں مصروف شہریوں کو بچوں اور خواتین سمیت شہید کررہی ہے اور پاکستان سے کشید گی میں اضافہ کررہی ہے ۔

بھارت کی فوج کی جانب سے کنٹرول لائن پر 2018ء میں 2050خلاف ورزیاں کی گئیں جو بھارتی فوج کی بزدلی کی مظہر ‘بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیرنے اور علاقائی امن و استحکام کے شدید خطرے کے مترادف ہے ۔
مودی نے مزید بڑھک ماری ”پاکستان ایک جنگ سے نہیں سدھرے گا اسے دھارنے میں وقت لگے گا“مودی ذرا اپنے گر یبان میں جھانک کر دیکھے بھارتی حکمران 70سال سے پاکستان مخالف آگ میں جل رہے ہیں ۔

مودی سمیت ہر دور میں پاکستان کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی اور اس کی پشت پنا ہی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ابھی تک تو پاکستان کو ”سدھار “نہیں سکے بلکہ یہ قوی امکان نہیں ٹھوس حقیقت ہے کہ پاکستان کو ”سدھار نے “کے چکر یا شوق بے فضول میں پاکستان سے خود کو نہ سدھروابیٹھیں انشاء اللہ ملکی دفاع کے لئے پاکستان کی قوم اور فوج ہر دم مستعد وتیار ہیں اور یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ کئی حوالوں سے اختلافی رنگ نمایاں ہونے کے باوجود ملکی سلامتی کو خطرہ در پیش ہو پھر کوئی دیو بندی ‘بریلوی ‘کوئی شیعہ سنی حتی کہ کوئی مسلمان اور عیسائی سکھ ہندو بھی نہیں رہتا پوری قوم ہے ایک بین ہم زندہ قوم کی عملی تفسیربن جایا کرتی ہے۔


بھارت کے حکمران جب چاہیں آزما کر دیکھ لیں ویسے جس طرح پاکستان کی فوج مودی کے عزائم کے حوالے سے چوکس ہے اسی طرح پاکستانی قوم کو بھی بیدار رہنا چاہیے پانچ صوبوں کے انتخاب میں عبرت نا ک شکست سے مودی سخت بوکھلا ہٹ کا شکار ہے ۔اپنی اس کیفیت میں وہ پاکستان کے خلاف جنگ جیسا انتہائی قدم بھی اٹھا سکتا ہے کیونکہ اپنی ناقص ترین کار کردگی سے جس نے بھارتی عوام کو بے پناہ مشکلات ومسائل کا شکارکر رکھا ہے توجہ ہٹانے کے لئے یہ حربہ استعمال کر سکتا ہے ۔


اس لئے اگر یہ سمجھا جائے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ کے امکانات کے بادل منڈلا رہے ہیں تو شاید غلط نہ ہو گا اگر آنے والے دنوں میں مودی نے محسوس کیا کہ اس کی بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے الیکشن جیتنا مشکل ہورہا ہے تو پھر پاکستان کے خلاف محدود جنگ ہی اس کا آخری آپشن ہو سکتا ہے خواہ اس کے نتیجے میں بھارتی عوام مزید مشکلات ومسائل کے گڑھے میں جا گریں ویسے اگر مودی سے چھٹکارہ نہ پاسکے تومزید مشکلات ومسائل ان کا مقدر رہیں گے بلکہ ان میں مزید اضافہ ہو گا۔

Your Thoughts and Comments

moodi ki barhhkain fouji tarjuman ka mun toar jawab is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 16 January 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.