مسلمانوں کیساتھ انصاف کے نام پر دھوکہ

بابری مسجد کیس کا مضحکہ خیز فیصلہ برسوں بعد بھارتی سپریم کورٹ کا آستھا اور عقیدت کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے عدالت سے باہر معاملہ حل کرنے کا حکم

جمعہ مارچ

musalmanoon kay sath insaaf ke naam par dhoka
 رابعہ عظمت
بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد یا رام مندرتنازع کو ثالثی سے حل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک تین رکنی پینل تشکیل دے دیا جو 8ہفتے میں مصالحت کا عمل مکمل کرے گا اور جو اتر پردیش کے شہر فیض آباد میں ہو گا بھارتی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ثالثی کا عمل خفیہ طریقے سے ہو گا جس کی میڈیا کورپورٹنگ کی اجات نہیں ہوگی اور تمام معاملے کی نگرانی اعلیٰ عدالت خود کرے گی ۔


برسوں تک مقدمہ کو زیر التو رکھنے کے بعد سپریم کورٹ نے اب اسے آستھا اور عقیدت کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے عدالت سے باہر فیصلہ کرنے کا مشورہ دیا ہے تو اس موقع پر شدت پسند ہندو ،اور سبرامنیم سوامی جیسے لوگ کہ رہے کہ یہاں بہر صورت رام مندر کی تعمیر ہو گی ،خواہ رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ عدالت صادرکرے ،یا مسلمان خود دستبردار ہو جائیں یا پھر پارلیمنٹ کے ذریعہ قانون بنانے کی ضرورت پڑے ،
وشوہند پر یشد نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں پر رام مندر کی تعمیر کے سوا کسی اور چیز کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

(جاری ہے)


یوپی کے نومنتخب وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ دونوں فریقوں کو آپس میں بیٹھ کر اس مسئلے کاحل نکالنا چاہیے۔دوسری طرف مسلم قیادت میں اس تعلق سے شدید اختلاف نظر آرہا ہے ۔آل انڈیا مسلم پر سنل لاء بورڈ کے جنر سکریٹری مولا نا محمد ولی رحمانی صاحب نے کہا ہے کہ ہم نے پہلے بھی بات چیت سے انکار نہیں کیا لیکن رام جنم بھومی کے نمائندے کئی بار مذاکرات کو ناکام کرچکے ہیں ۔

تاہم چیف جسٹس آنڈیا کے مشورہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہم بات چیت کیلئے تیار ہیں ۔
جمعیة علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے سپریم کورٹ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مشورہ ناقابل عمل ہے کیوں کہ یہ حق اورملکیت کا معاملہ ہے ،مذہب سے اس کا تعلق ہے ،ماضی میں ایسی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں ۔مولانا سید جلال الدین عمری امیر جماعت اسلامی ہند نے بھی سپریم کورٹ کے مشورہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں ،اس کے برعکس مولانا سید احمد بخاری شاہی امام جامع مسجد دہلی کا کہنا ہے کہ بابری مسجد معاملے پر سپریم کورٹ کے مشورے کو مسترد نہیں کیا جانا چاہےئے۔


دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابو القاسم نعمانی نے آل انڈیا مسلم پر سنل لاء بور ڈ سے اتفاق کرتے ہوئے اپنا رد عمل پیش کیا ہے کہ بورڈ یہ مقدمہ لڑرہی ہے ہم اس کے ساتھ ہیں ۔بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر جناب ظفر یاب جیلانی کا دعویٰ ہے کہ ہم فیصلہ جیتنے کے موڑ پر پہنچ چکے ہیں ،دلائل اور حقائق کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے وہ مسجد کی ہی جگہ ہے ،اس لئے اس طرح کا کوئی بھی مشورہ ہمارے حق میں مضر ثابت ہو گا کیوں کہ عدلیہ کے باہر جو فیصلہ ہو گا وہ اکثریت اور اقلیت کی بنیاد پر ہو گا ،حقائق سے قطع نظر عقیدت کو بنیاد بنایا جائے گا۔


ان تمام آراء سے ہٹ کر ایک اور مسلم دانشور نے بابری مسجد ہندوفریق کو دینے کی پیشکش کردی ہے اور اس کے عوض انہوں نے مسلمانوں کو کچھ چیزیں دینے کا مطالبہ کیا ہے جیسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی یونیورسٹی کا درجہ وغیرہ ۔بابری مسجد کا مقدمہ لڑنے والے تمام مسلم رہنماؤں اور تنظیموں کے لئے ضروری ہے کہ وہ الگ الگ رد عمل دینے اور اپنا موقف ظاہر کرنے کے بجائے اکٹھے ہو کر بیٹھیں ،اس مسئلے پر غور و خوض کریں ،آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے بینرتلے اس کا کوئی حل تلاش کریں یا پھر کوئی اور متفقہ قدم اٹھائیں ۔


یہ بات بھی پیش نظر رکھیں کہ جب مسجد شہید کی جارہی تھی اس وقت اترپردیش میں بی جے پی کی سرکار تھی اور مرکز میں کانگریس کی لیکن آج دونوں جگہ بی جے پی کی ہی ہر سرکار ہے جس کے ایجنڈے میں رام مندر کی تعمیر بھی شامل ہے اور مسلمانوں کے پاس عدلیہ کے علاوہ کہیں سے کوئی امید نہیں ۔بابری مسجد مسلمانان ہند کا سب سے نازک ،حساس اور سنگین مسئلہ ہے ،مورتی رکھے جانے سے اس کی شہات تک اور اس کے بعد سے اب تک مسلمانان ہندا س کی حصولیابی اور بازیابی کیلئے ہزاروں قربانیاں دے چکے ہیں اور عدلیہ سے انصاف کی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔


مقدمہ لڑنے والے مسلم فریق کو یہ یقین بھی ہے کہ دلائل اور حقائق کی روشنی میں ہم قوی اور مضبوط ہیں اور اس جگہ کے رام جنم بھومی ہونے پر کوئی ثبوت نہیں ہیں ،ایسے میں عدلیہ کی جانب سے اسے آستھا اور عقیدت کا مسئلہ قرار دیکر فیصلہ کرنے سے اجتناب کرنا مسلمانوں کے لئے مایوسی کا سبب بن گیا ہے اور پس پر دہ شاید یہ پیغام دیا گیا ہے کہ بابری مسجد کی اراضی کا فیصلہ عدالت سے باہر اکثریت اور اقلیت کی بنیاد پر کیا جائے گا جس میں مسلمان کامیاب نہیں ہو پائیں گے ۔


بابری مسجد تنازعہ کو ثالثی کے ذریعے حل کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے جو تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے ،
وہ ابتدا میں ہی تنازعات کا شکار ہو گئی ہے ۔حالانکہ مسلم فریق کی طرف سے سپریم کورٹ کی اس مساعی کا عمومی طور پر خیر مقدم کیا گیا ہے ۔لیکن اس پینل میں اس شخص کی شمولیت کی وجہ عدالتی نیت ٹھیک نہیں لگتی ۔اس کمیٹی میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس خلیف اللہ کے علاوہ نام نہاد روحانی پیشواشری شری روی شنکر اور سپریم کورٹ کے ایک وکیل رام پنچو کو شامل کیا گیا ہے ۔


شری شری روی شنکر کے بارے میں سبھی کو معلوم ہے کہ وہ آرایس ایس کے پر چارک ہیں اور بابری مسجد کیخلاف انتہائی جارحانہ موقف رکھتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ثالثی کمیٹی میں ان کی شمولیت پر سب سے زیادہ
 اعتراض ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شری شری روی شنکر کی وجہ سے یہ کمیٹی اپنی اہمیت کھودے گی ۔مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیر سٹراسدالدین اویسی کا کہنا ہے کہ ”شری شری روی شنکر وہی شخص ہیں جنہوں نے اس سے پہلے یہ بیان دیا تھا کہ اگر ایودھیا پر مسلمان اپنا دعویٰ نہیں چھوڑتے ہیں تو ہندوستان شام بن جائے گا۔

“انہوں نے کہا کہ ”بہتر ہو تا کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں کسی غیر جانب دار شخص کا انتخاب کرتا ۔“
اسی قسم کے خیالات کا اظہار دہلی کی شاہجہانی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے بھی کیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ”عدالت کو چاہئے کہ وہ روی روی شنکر کا نام پینل سے خارج کردے ۔چونکہ وہ پہلے بھی اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ناکام کوشش کر چکے ہیں ۔

“انہوں نے کہا کہ ”وہ بابری مسجد کی جگہ صرف اور صرف رام مندر چاہتے ہیں اور مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ وہ اپنی مسجد ایو دھیا کے باہر تعمیر کریں ۔لہٰذا روی شنکر کی موجودگی میں بات چیت کے کامیاب ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔
لہٰذا عدالت کو چاہئے کہ ان کانام ثالثی پینل سے خارج کردے۔“
بھارتی عدالت عظمیٰ نے فیض آباد میں ثالثی کی خفیہ میٹنگوں کا اہتمام کرنے کی ذمہ داری اتر پردیش حکومت کو سونپی ہے جس کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اس معاملے کے ایک جارحانہ فریق کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔

وہ خود اس مسئلے کوچٹکی میں حل کرنے کا دعویٰ کر چکے ہیں ۔یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ایودھیا کا تنازعہ ایک انتہائی پیچیدہ تنازعہ ہے ۔اس تنازعہ کی پیچیدگیوں کے سبب ہی عدالت گزشتہ70سال میں اس مقدمے کا کوئی فیصلہ نہیں کر پائی ہے ۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ مزید الجھتا چلا گیا ہے اور اس میں نئے نئے پیچ ڈالے جاتے رہے ہیں ۔

ظاہر ہے یہ سب کچھ سیاسی مقاصد کے تحت کیا گیا ہے ۔اس تنازعہ کو گفتگو کی میز پر حل کرنے کی سب سے سنجیدہ اور کار گرکوشش1991میں سابق وزیر اعظم چند ر شیکھر کے مختصر دور حکومت میں ہوئی تھی ۔اس دوران بابری مسجد ایکشن کمیٹی اور وشوہندوپریشد کے سرکردہ لیڈر ان کے ساتھ ساتھ یوپی کے وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو اور راجستھان کے وزیراعلیٰ بھیروں سنگھ شیخاوت بھی شریک ہوئے تھے ۔

اس وقت بھی وشو ہندوپریشد کی ہٹ دھرمی اور اشتعال انگیزی کے نتیجے میں ہی مذاکرات ناکام ہوئے تھے
۔
پچھلے سال وی یچ پی کی رہنما سادھوی پراچی نے دہلی کی ایک تقریب میں کہا تھا 6دسمبر کو ہی رام مندر کا سنگ بنیاد رکھنا ہے ،ایودھیا کہ اندر ہندوستان کے ہندوؤں کو بلاؤ رام مندر کا اعلان کرو کسی کی ضرورت نہیں ہے ،اسی طرح رام جنم بھومی نیاس کے رکن ولاس ویدانتی نے کہا تھا کہ رام مندر کی تعمیر دسمبر میں شروع ہو جا ئے گی کانگریس نے 71سالوں سے اس وعدے کو ایفا نہیں کیا۔


اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے کہا تھا کہ ایودھیا میں رام کا مجسمہ نہیں لگے گا تو کہاں لگے گا۔اسی طرح جمہوری نظام حکومت ہونے کے باوجود فرقہ پرست عناصر اتنے منہ زور ہو چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کو توڑنے کی بات کرتے رہے ہیں کھلے عام عالمی میڈیا پر کچھ اسطرح کے تبصرے اور دھمکیاں سپریم کورٹ کو دی گئیں ۔اوقات میں رہے سپریم کورٹ کہیں تمہیں بھی کوئی بابری ڈھانچہ نہ سمجھ لے ۔

”شبھم سنگھ“
”جس طرح بابری مسجد کی گنبد گرائی تھی اسی طرح سپریم کورٹ کی گنبد گرنی چاہیے“۔جگدیش کمار“
”جس طرح بابری مسجد گرایا گیا تھا اسی طرح ایک دھکا سپریم کورٹ کو بھی دیا جائے”اجے کمار“
”ارے صاحب! ہندوؤں کے صبر کا امتحان مت لو،جب ہندوؤں کا صبر ٹوٹا تو بابری مسجد کا انہدام ہوا ،
اس بار صبر ٹوٹا تو سپریم کورٹ بھی تہس نہس ہو جائے گا۔

“سنجے سنگھ “یہ تمام دھمکی آمیز پوسٹ کو دیکھتے ہوئے بھی ان فرقہ پرستوں پر دیش دروہی ہونے کا مقدمہ درج نہیں ہوتا کسی سیکولر سیاسی جماعت کی جانب سے انکے خلاف مورچے نہیں ہوتے ناہی ان کی ماب لنچنگ کی جاتی ہے ناہی پولیس ایکشن لیتی ہے ۔جبکہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے جسے حال میں ثالثی پینل کے حوالے کیا گیا ہے جس میں سپریم کورٹ نے کہاں کہ اس معاملے کو پرامن طریقے سے عدالت کے باہر ثالثی پینل کے ذریعے باہمی اتفاق سے حل کیا جائے۔


مغل بادشاہ بابر کے حکم پر 1528ء میں بابری مسجد تعمیر کی گئی جس کے حوالے سے ہندودعویٰ کرتے ہوئے اس مقام پر رام کا جنم ہوا تھاا ور یہاں مسجد سے قبل مندرتھا ۔جسے نتہا پسند ہندوؤں نے 6دسمبر 1992ء کو شہید کر دیا تھا۔ایودھیا میں واقعی بابری مسجد کو 1992ء میں شہید کیے جانے کے بعد بھارت میں بڑے پیمانے پر ہندومسلم فسادات ہوئے تھے ،جس میں 2ہزار سے زائد مسلمانوں کو مار دیا گیا سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔

نتہا پسند ہندوؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس مقام پر ہندودیوتا ”رام“کا نیا مندر تعمیر کرنا چاہتے ہیں ،جو ان کی جائے پیدائش ہے ۔
برصغیر کی تقسیم تک معاملہ یوں ہی رہا،اس دوران بابری مسجد کے مسئلے پر ہندومسلم تنازعات ہوتے رہے اور تاج برطانیہ نے مسئلے کے حل کے لئے مسجد کے اندرونی حصے کو مسلمانوں اور بیرونی حصے کو ہندؤں کے حولاے کرتے ہوئے معاملے کو دبا دیا۔

تقسیم ہندوستان کے بعد حکومت نے مسلم ہندوفسادات کے باعث مسجد کو متنازع جگہ قرار دیتے ہوئے دروازوں کو تالے لگا دیے ،جس کے بعد معاملے کے حل کے لیے کئی مذاکراتی دور ہوئے لیکن آج تک کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔
ان کا موقف ہے کہ 16ویں صدی کی بابری مسجد ،مسلم بادشاہوں نے ہندودیوتا کا مندر گرانے کے بعد قائم کی تھی ۔بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014ء میں انتخابات سے قبل اس مقام پر مندر تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا ،جس کی وجہ سے انہیں انتہا پسند ہندوؤں کے بڑے پیمانے پرووٹ ملے تھے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے اس کے لیے تین رکنی پینل تیار کیا جس کے چےئرمین سپریم کورٹ کے سابق جسٹس ابراہیم کلیف اللہ ہوں گے ۔اس کے علاوہ پینل میں شری شری روی شنکر اور سینئر وکیل شری رام پنچو شامل ہیں۔آئیے جانتے ہیں پینل کے ان اراکین کے بارے میں
1۔ فقیر محمد ابراہیم کلیف اللہ :ریٹائر ڈجسٹس فقیر محمد ابراہیم خلیف اللہ ہندوستان کے تمل ناڈو سے تعلق رکھتے ہیں ۔

خلیف اللہ نے چنئی میں اپنی پریکٹس شروع کی تھی۔سال 2000میں انھیں مدراس ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔ کچھ وقت بعد خلیف اللہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنائے گئے تھے ۔2اپریم 2012میں سپریم کورٹ کے جج کے طور پرخلف لیا تھا۔
22جولائی2016کو خلیف اللہ سپریم کورٹ کے جسٹس کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے ۔ان کی سبکدوشی کے وقت اس وقت کے چیف جسٹس نی ایس ٹھا کرنے کہا تھا کہ جسٹس خلیف اللہ نے بی سی سی آئی کیس میں جس طرح کے مشورے دیے وہ قابل تعریف ہیں۔


2۔ شری شری روی شنکر :تمل ناڈو میں پیدا ہوئے شری شری شنکر‘آرٹ آف لیونگ ‘فاؤنڈیشن کے بانی ہیں ۔انھوں نے 17سال کی عمر ہی فزکس کی ڈگری حاصل کرلی تھی ۔ایودھیا معاملہ میں یہ پہلے بھی کئی بار ثالث کے کردار میں سامنے آچکے ہیں ۔2018ء میں ایودھیا معاملہ میں ثالثی کے معاملے پر روی شنکر نے کہا تھا کہ مسلم فریق کو اس زمین کے بارے میں سوچنا چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ یہ ا ن کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتا۔

روی شنکر نے کہا تھا کہ ”شری رام جنم بھومی ہونے کی وجہ سے ہندوطبقہ کو اس جگہ سے گہری عقیدت ہے ۔”حالانکہ روی شنکر کی اس گزارش کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مسترد کردیا تھا۔
3۔شری رام پنچو :شری رام پنچو چنئی کے سینئر وکیل ہیں اور گزشتہ40سالوں سے وکالت کرررہے ہیں ۔
تقریباً20سالوں سے پنچو سر گرم ثالث کا کردار نبھارہے ہیں ۔پنچو نے ہندوستان کا پہلا ثالثی کورٹ2005ء میں شروع کیا تھا اور ثالثی کو ہندوستانی نظام انصاف کا اہم حصہ بنائے جانے کے لیے کام کیا۔میڈیشن چیمبر(ثالثی چیمبر)کے بانی شری رام پنچو نے کئی متنازعہ معاملوں کو ثالثی کے ذریعہ حل کرایا ہے ۔

Your Thoughts and Comments

musalmanoon kay sath insaaf ke naam par dhoka is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 29 March 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.