پاک سعودیہ تعلقات‘نئی جہت سے ہمکنار

دہشت گردی کیخلاف مشترکہ جدوجہد سے خطے میں ترقی و خوشحالی کی راہیں کھلیں گی

پیر 14 جون 2021

Pak Saudia Taluqat Nayi Jehet Se Hamkinar
ممتاز سلیم لنگاہ
پاکستان،ایران،ترکی اور سعودی عرب خطے کی یہ 4 بڑی ریاستیں مذہبی‘تاریخی اور تمدنی بنیادوں پر ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں لہٰذا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بعض ممالک کے درمیان جہاں بڑھتی خلیج نے پاکستان کی اہمیت دو چند کر دی ہے۔اس میں کوئی دورائے نہیں ہیں کہ پاکستان نے سعودی عرب ہی نہیں کئی دیگر ممالک کو بھی تنہائی سے نکالنے اور خطے میں اس کی حیثیت کو بحال کرنے کیلئے ہر دور میں ہی بھرپور ساتھ دیا ہے۔

سعودی عرب خطے میں جنگوں کی قیادت کرنے کے بجائے پرامن طریقے سے ایران اور افغانستان کے انفراسٹرکچر کی بحالی میں ایک فعال کردار ادا کرنے کیلئے مسقط اور دوحہ کے بجائے پاکستان کے تعاون کا خواہاں ہے کیونکہ وہ مستقبل میں اپنی معیشت کا ڈھانچہ تبدیل کرنا اور اپنا انحصار تیل کی آمدن پر کم کرکے اس کا رخ موڑنا چاہتا ہے جس کے لئے اس کو مختلف منڈیوں کی تلاش ہے اور پاکستان 23 کروڑ کی آبادی کے ساتھ ایک ممکنہ بزنس مارکیٹ کے طور پر موجود ہے۔

(جاری ہے)


پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان وقت کے ساتھ ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ بھی آتے رہے ہیں،یاد رہے کہ 2019ء میں جب بھارت نے اپنے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کی تو اس وقت سعودی عرب نے پاکستان کا اس طرح ساتھ نہیں دیا جس طرح روایتی طور پر توقع کی جا رہی تھی اس بناء پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے بارے کشمیر پر او آئی سی کا اجلاس نہ بلانے پر کافی سخت زبان اختیار کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں بھارتی وزیر خارجہ کو بلائے جانے پر اسلامی ممالک کے وزراء خارجہ کے اجلاس کا بائیکاٹ بھی کیا تھا۔

پاکستان کی ضرورت یا اہمیت کی ایک اور بڑی وجہ سعودی حکومت کا صنعتی پیداوار بڑھانے اور اس کے ذریعے معیشت کی بہتری کا پلان ہے جس کے تحت وہ اپنے مالی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے گوادر کی بندرگاہ میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔سعودیہ جیسے ممالک کو سی پیک میں شامل کرتے ہوئے سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لئے پاکستان نے جو اصلاحات متعارف کرانی ہیں ان پر تیزی سے عملدرآمد یقینی بنانا اب وقت کا تقاضا ہے لہٰذا عمومی تعلقات کو مثبت رکھتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے۔


 پاکستان کے سعودیہ سے سیاسی اور سٹریٹیجک رشتے کے ساتھ ساتھ ثقافتی تعلق بھی ہے ایسے میں وفاقی وزیر اطلاعات و سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ثقافتی تعلقات بڑھانے کی ضرورت پر زور دینا وقت کا تقاضا ہے۔”کووڈ 19“، تیل کی قیمتیں گرنے اور عرب ممالک میں اقتصادی ترقی کے مواقع کم ہونے کی وجہ سے لاکھوں محنت کش ملازمتوں سے محروم ہو کر وطن واپس آرہے ہیں ایسے میں سعودی عرب کو چاہئے کہ اپنے ویژن 2030ء کے منصوبوں میں پاکستانی ماہرین اور ورکرز کو جائز مواقع فراہم کرے۔


دنیا بھر میں دہشت گردی کے رجحان میں حالیہ برسوں کے دوران جو خوفناک اضافہ ہوا وہ تشویشناک ہے،یہ ایک ایسا خطرہ ہے جس سے دنیا کی کوئی بھی طاقتور ترین ریاست تن تنہا نہیں نمٹ سکتی۔سعودی سرزمین پر اہم تنصیبات اور شہریوں کیخلاف بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے،تیل برآمدات اور توانائی کی فراہمی کے استحکام کو لاحق خطرات بھی ہیں ان کٹھن حالات میں جی 20 سربراہی اجلاسوں کی کامیابی اور مثبت فیصلوں پر شاہ سلمان یقینا مبارکباد کے مستحق ہیں۔

سعودی عرب اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف اس اتحاد کے اہم ستون ہیں کیونکہ دونوں ممالک امن و استحکام کے تحفظ،دہشت گردی سے نمٹنے اور اسے ٹھکانے لگانے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں یہاں یہ بھی یاد رہے کہ انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ کیخلاف جدوجہد میں دنیا بھر کے ممالک سے زیادہ متاثر یہی ہوئے ہیں۔سعودی عرب پاکستان کی طویل مدتی معاشی ترقی میں دلچسپی لے رہا ہے،خوشگوار تعلقات کا یہ امید افزاء لمحہ علاقائی جغرافیائی سیاست میں موافق تبدیلی کے درمیان پیش آرہا ہے جس میں مختلف محاذوں پر کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں خاص طور پر اس طرح کی سرمایہ کاری کے لئے گوادر کے انتخاب نے وسیع تر علاقائی نیٹ ورک یعنی چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں سعودی دلچسپی کا اشارہ دیا ہے۔


شاہ سلمان اور وزیراعظم عمران خان نے نئے عزم کے ساتھ اب باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لئے ”سعودی پاکستان سپریم کو آرڈی نشین کونسل“ کے آغاز کا جو اعلان کیا ہے اس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ولی عہد شاہ سلمان کی خصوصی دعوت پر وزیراعظم پاکستان کا حال ہی میں 3 روزہ دورہ سعودی عرب عالمی توجہ اپنی طرف مبذول کی ہے۔ویژن 2030ء کی روشنی میں ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال،اقتصادی ترقی،تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے طریقوں پر بات چیت،دونوں فریقین کا دو طرفہ عسکری اور سکیورٹی تعلقات میں موجودہ تعاون پر اطمینان کا اظہار خوش آئند ہے،مشترکہ اعلامیہ کے مطابق شاہ سلمان نے پاکستان کو ترقی یافتہ فلاحی ریاست میں تبدیل کرنے کیلئے عمران خان کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔


عمران خان کا دورہ سعودی عرب یقینا افغانستان کی تعمیر نو میں فعال کردار ادا کرنے کے خواہاں سعودیہ کے ماسکو،تہران اور دیگر حریف ممالک سے تعلقات میں بہتری کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Pak Saudia Taluqat Nayi Jehet Se Hamkinar is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 14 June 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.