سودی قرضوں سے پاکستان ریاست مدینہ نہیں بنے گا

خزانے خالی ہو جائیں تو پھر بھی کوئی بات نہیں صدقہ مشکلات سے نجات کا باعث اور خوشحالی کے دروازے کھولتا ہے اگر ہمارے وزیر اعظم پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعوے میں واقعی مخلص ہیں تو سب سے پہلے اسلام نافذ کریں اور نظام تعلیم کی اصلاح کریں

ہفتہ فروری

soodi qarzon se Pakistan riyasat madina nahi banay ga
 پروفیسر حافظ محمد سعید
ہماری حکومت کادعویٰ ہے کہ ہم نے مدینے والا نظام پاکستان میں قائم کرنا ہے ۔یقینی بات ہے اگر ایسا ہو جائے تو آسمانوں سے بر کتیں اتریں گی۔لوگوں کے دل جڑیں گے‘ایک صحیح اسلامی معاشرہ تشکیل پائے گا۔پھر سارے کام اللہ تعالیٰ آسان فرمادے گا۔جبکہ اس وقت مشکلات ہیں ،ہمارے مسائل اتنے پیچیدہ ہو چکے ہیں کہ تنخواہ دینے کے لئے خزانے میں رقم نہیں ‘ترقیاتی منصوبے بند کرنے پڑرہے ہیں ۔


پھر آئی ایم ایف جیسے عالمی استحصالی اداروں کارخ کیا جارہا ہے ۔آئیے ! ہم دیکھتے ہیں مدینہ میں بھی ایسی کیا مشکلات تھیں پھر ان کا کیسے حل کیا گیا؟
پاکستان کے سارے معاشی ماہرین ‘وزارت خزانہ کے ذمہ داران ‘بجٹ بنانے والوں کے لئے ضروری ہے کہ مدینہ کے اس دور کی تاریخ کا مطالعہ کریں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ‘کیا حالات تھے ،کیا مشکلات تھیں ‘کتنی غربت تھی ‘کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔

(جاری ہے)

ہفتوں کے ہفتے گزر جاتے‘نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے چولہے میں آگ بھی نہ جلتی تھی ۔صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی حال تھا۔ایک ایک کھجور پر دن گزرتا ۔ان مشکل ترین حالات میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسی تربیت فرمائی ۔مانگنا نہیں سکھایا،کشکول نہیں پکڑایا ،امر ا اور دوسرے ملکوں کے حکمرانوں کے دروازوں پر امداد کے لئے دستک نہیں دی کہ عرب کے فلاں سردار کے پاس جاؤ۔

حالانکہ اس وقت بھی بڑے بڑے سردار اور مالدار لو گ موجود تھے۔
بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو دنیا میں مانگ کے گزارا کرے گا‘قیامت کے دن اس کے چہرے کی آب (رونق )ختم ہو جائے گی ‘اس کے چہرے پر جلد باقی نہیں رہے گی۔فرمایا قیامت کے دن ا س شخص کو سزا ملے گی جو مانگتا ہے‘منگتا بنتا ہے ۔دوسروں کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے ۔ایسے شخص کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں ۔


آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگنے کی بجائے مشکلات برداشت کرنے کے طریقے اور مسائل حل کرنے کے سلیقے سمجھائے ہیں ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آکر سب سے پہلے مسجد بنائی۔مسجد میں صفہ بنایا‘تربیت گاہ بنائی‘ لوگوں کو تعلیم دیتے‘تربیت کرتے ‘دین سکھاتے ۔جو نئے لوگ آتے‘ ان کی بھی تربیت ہوتی اور مدینے کے جوباسی تھے‘رہنے والے تھے ‘ا ن کی بھی تربیت ہوتی تھی ‘سمجھا یا جاتا تھا کہ مانگو نہیں صدقہ کرو۔

فرمایا:کسی کے پاس بہت تھوڑا مال ہے تو وہ ایک کھجور صدقہ کرکے بھی اللہ سے جنت لے سکتا ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ مدینہ میں وسائل نہیں اور مکہ کے مسلمانوں کے آنے سے مدینہ کی آبادی بھی بڑھ گئی تھی ۔صرف کھجور ہی وہاں کی بڑی فصل تھی۔اسی پر گزارا ہوتا تھا۔مدینہ میں گندم کاشت نہیں ہوتی تھی ۔ان حالات میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کی ترغیب دے رہے ہیں کہ جس کے پاس زیادہ مال ہے ‘وہ زیادہ صدقہ کرے‘جس کے پاس تھوڑا مال ہے ‘وہ تھوڑا صدقہ کرے ‘اسے بھی اجربہت ملے گا۔


ابھی زکوٰة کا حکم نازل نہیں ہوا تھا یہ مدنی دور کی ابتدا تھی ۔اس لئے ابتدا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف صدقے کی ترغیب دی اور فرمایا کہ تنگی کے وقت کا صدقہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے ۔جب تمہارے پاس کچھ بھی نہ ہو ‘اس مواقعہ پر جب تم خرچ کرو گے ‘صدقہ کروگے تو اللہ اپنی رحمت کے دروازے تمہارے لیے کھول دے گا،غربت کو تو نگری میں ،کمزوری کو طاقت میں بدل دے گا اور مشکلات کو آسان کردے گا۔


مشکل وقت کا صدقہ بہت سی برکتوں کا باعث بنتا ،معاشرے میں خوشحالی ،رواداری اور کامیابی کے دروازے کھولتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی نہج پر صحابہ کرام کی تربیت کی۔جن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت حاصل کی اللہ سورة الحشر میں ان کی تعریف اور کردار ان الفاظ میں بیان کرتا ہے :
”اور (یہ مال)ان (انصار مدینہ )کے لیے بھی ہے جنہوں نے ان (مہاجرین مکہ)سے پہلے اس گھر میں اور ایمان میں جگہ بنالی ہے ،وہ (انصاری مدینہ )ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین)کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں ‘خواہ انھیں سخت حاجت ہو اورجو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچالیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں ۔


سورئہ حشر کی اس آیت کا پس منظر اور شان نزول یہ تھا کہ مکہ سے ایک مہاجر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس مدینہ پہنچا اور کہنے لگا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل سفر کی وجہ سے بھوک بڑی شدید لگی ہے‘بڑی دیر سے کچھ نہیں کھایا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حالت دیکھی ۔انصاری صحابی ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو کہا کہ اس کو اپنے ساتھ لے جاؤ‘کھانا کھلاؤ‘یہ تیرا بھائی ہے ،مہاجر ہے ،بھوکا ہے ۔

جاؤ اس کو اپنے ساتھ لے جاؤ‘میں اس کو تیرا بھائی بنا تا ہوں۔ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اس کو اپنے گھر لے گئے۔بیوی سے پوچھا کچھ کھانے کے لیے ہے ‘بیوی کہنے لگی ‘بچوں کے لیے بس تھوڑا سا کھانا ہے ۔
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیوی سے کہتے ہیں کہ بچوں کو بھوکا ہی سلادو۔آج ہمارے گھر میں ایک مہمان آیا ہے ‘
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو میرا بھائی بنایا ہے ۔

وہ بڑی دور کا لمبا سفر کرکے مدینہ پہنچا ہے ۔آج ہم اپنا سارا کھانا اس کے سامنے پیش کریں گے۔
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیوی سے کہنے لگے جب ہم کھانا کھانے کے لیے بیٹھ جائیں تو چراغ بجھادینا۔میں مہمان کے سامنے کھانا کھانے کا انداز اختیار کروں گا۔وہاں مہمان بھی اپنے میز بانوں کا بڑا خیال رکھتے تھے ۔اکیلے کھانا نہیں کھاتے تھے ‘یہ تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت ۔

ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مہمان کو باتوں میں لگا کر سارا ہی کھانا اسے کھلادیا۔یہ سارا کام رات کے اندھیرے میں ہوا۔
اگلی صبح جب مسجد میں مہمان اپنے میزبان کے ہمراہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہی خوش ہورہے ‘مسکراکے مل رہے اور فرماتے ہیں :
رات کے اندھیرے میں تم نے جو کچھ کیا‘اللہ تعالیٰ نے آسمان سے قرآن نازل کرکے مجھے ساری خبر بتادی ہے ۔

اپنے بھائی کے لئے تیرا یہ ایثار اللہ کو اس قدر پسند آیا ہے کہ آسمان والے نے تیراذکر قرآن مجید میں کردیا اور تیرے بارے میں آیات نازل فرمادی ہیں :
”وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کی طرف آئیں “
یہ لوگ جولٹے پٹے‘اللہ کے دین کی خاطر ہجرت کرکے سب کچھ ‘گھر بار ‘برادری ‘خاندان چھوڑ کے ‘مال ودولت ‘تجارت سب چھوڑ کے اللہ کے دین کے لیے آئے ہیں اور پھر وہ لوگ جنہوں نے ایمان بھی قبول کیا اور مدینے میں پہلے سے آباد ہیں یعنی انصار:یہ انصار ان لوگوں سے بڑی محبت کرتے ہیں جو ان کی طرف اللہ کے دین کی خاطر ہجرت کرکے آئے ہیں ۔

ان لوگوں کے دلوں میں ایثار کے بڑے جذبے ہیں ۔انہیں خودتو بھوک لگی ہوتی ہے لیکن اپنے مہمان کی خاطر اپنی بھوک کو کنٹرول کرتے ،مہمان کو کھانا کھلانے کے لیے اپنی ضروریات کوروک لیتے اور اپنے بھائی کی حاجات پوری کرتے ہیں ۔
صرف یہ نہیں ہے کہ ظاہری طور پر یہ سب کچھ کررہے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان کی قلبی کیفیت کی گواہی قرآن مجید میں دے رہا ہے کہ یہ دل سے ایمان والوں کے ساتھی اور محبت کرنے والے ہیں ۔


اے برادرانِ اسلام ! یہ ہے مدینہ کی ریاست جہاں اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دلوں کی حالت کو بدلا ۔پہلی تبدیلی یہ لائے کہ تربیت کرکے مثالی لوگ تیار کردیے ۔بھوکے کو کھانا کھلانا بظاہر ایسا کوئی کار نامہ نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی بہت اہمیت ہے ۔اس لئے قرآن مجید میں اس واقعے کے بارے میں یہ آیات نازل کی گئیں کیونکہ قرآن مجید نے قیامت تک باقی رہنا ہے ‘اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ قیامت تک آنے والوں کے لیے بھی یہ واقعہ مثال بن جائے۔


 صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے بعد جو لوگ قیامت تک آئیں گے ‘ان میں سے جن کا طریقہ صحابہ رضی اللہ عنہ والا ہو جائے گا ‘اللہ تعالیٰ ان کو اسی طرح نعمتوں سے نواز دے گا۔
بھائیو! یہ کرنے والے کام ہیں ۔جب تک ایسی تربیت نہیں ہو گی ‘ہمارے تعلیمی اداروں میں جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی سیرت نہیں پڑھائی جائے گی‘قرآن مجید نہیں پڑھایا جائے گا‘قرآن مجید کے سچے واقعات نہیں پڑھائے جائیں گے ‘ہمارے تربیتی اداروں میں مدینہ کا معاشی نظام نہیں پڑھایا جائے گا،سودی نظام اور قرضوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا جائے گا‘تب تک ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے ،پاکستان معاشی مشکلات اور قرضوں کے گرداب سے نہیں نکلے گا۔


آج ہمارے وزیر خانہ کشکول لے کر ملک ملک پھر رہے ہیں ۔ہمارے وزیر خارجہ امریکہ سے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی امداد (کو لیشن سپورٹ فنڈ)جو آپ نے رو کی ہے ‘بحال کریں ۔جواب میں ہو شرطیں لگاتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کو مارو۔ان کو قتل کرنے میں ہمارا ساتھ دو۔پاکستان میں سودی نظام قائم کرو۔کشمیر کا نام نہ لو۔اس لئے کہ کشمیر کا نام لینا دہشت گردی ہے ۔

جو پاکستان میں کشمیر کا نام لیتے ہیں ‘ان کو پکڑو۔ان پر پابندیاں لگاؤ۔
پاکستان کو امریکہ کی ایک ریاست بناؤ پھر امداد بحال ہوں گی۔اب فیصلہ ہمارے وزیر اعظم نے کرنا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی ریاست بنانا ہے یا مدینہ کی ریاست ۔اگر ہمارے وزیر اعظم پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے میں واقعی مخلص اور سنجیدہ ہیں تو پھر اپنے میں جرأت پیدا کریں ۔

پاکستان کومدینہ جیسی ریاست بنانا ہے تو موجودہ ماحول کو چھوڑ کر مدینہ والا ماحول تیار کریں ۔
ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی سیرت کے جو واقعات عرض کیے ہیں ‘یہ اس وقت کے ہیں جب ابھی زکوٰة فرض نہیں ہوئی تھی ۔حلال وحرام کے ضابطے ابھی لازم نہیں ہوئے تھے‘اسلامی معیشت کی بنیادیں کیا ہیں ‘ابھی قرآن مجید میں اس کے بارے میں ہدایات نہیں اتری تھیں ‘یہ مدنی زندگی کا بالکل ابتدائی دور تھا۔

چنانچہ پہلے مرحلے پر مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات کا سلسلہ قائم کیا گیا اور تربیت کا ماحول بنایا گیا۔
سچی بات ہے کہ آج بھی کرنے والا پہلا کام یہی ہے ‘تربیت کریں‘تربیت گا ہیں بنائیں ‘نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی تربیت گاہ مسجد تھی ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آکر سب سے پہلے مسجد بنائی۔مسجد کے ساتھ چھوٹے چھوٹے سادہ گھر بنائے گئے۔

آج ہم کئی کئی کنال اور ایکڑوں کے گھر بناتے ہیں اور دنیا بھر کی آرائشیں وہاں جمع کرتے ہیں ۔ہمارے بربادی کی اصل وجہ یہی پر تعیش رہن سہن ہے ۔مدینہ کی ریاست میں مسجد بھی کچی ،گھر بھی سادہ‘چھوٹے اور کچے تھے۔کھجور کے پتے ڈال ڈال کر مسجد کی چھت بنائی گئی ہے ۔یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کا حال تھا۔ان مسجدوں میں کیے گئے سجدے اللہ کو بڑے پسند تھے ۔

اللہ نے ان سجدوں کا نقشہ قرآن مجید میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔
کچی مسجد میں کئے گئے نرکوع اور سجود نہ صرف اللہ کو پسند تھے بلکہ وہ انسان بھی اللہ کو بڑے پسند تھے ‘ان کی ایک ایک حرکت پہ اللہ راضی ہو گیا اور سجدے کرنے والے اللہ سے راضی ہو گئے۔“
اس طرح مدینہ میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل پایا جس کی بنیاد اللہ کی رضا تھی لیکن ہمارا معیار کیا ہے‘ہم کس کی رضا چاہتے ہیں ۔

ہمارا معیاریہ ہے کہ اگر امریکہ ہم سے خوش ہے تو ملک میں خوشحالی آئے ‘امداد بھی ملے گی‘معاہدے بھی چلیں گئے‘دنیا بھی ساتھ دے گی۔مغربی ملکوں سے بھی سہولتیں بھی ملیں گی۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے قرضے بھی ملیں گے۔
برادران اسلام! آئیے دیکھتے ہیں ریاست مدینہ کا معیار کیا تھا۔ریاست مدینہ کی کامیابی کا معیار اس بات پر تھا کہ تم سے اللہ راضی ہے ۔

۔۔یا نہیں ۔یہ ہے کامیابی کی بنیاد اور اصل فرق جو ہم بھول چکے ہیں ۔
جب مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو وہاں سب سے پہلے مسجد تعمیر کی اور ‘دوسری طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر میں جمع کیا وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارومہاجرین کے درمیان مواخات کا ایک سلسلہ قائم کیا۔ایک وثیقہ لکھا اس وثیقہ میں بسم اللہ لکھنے کے بعد جو پہلی سطر لکھی ‘آئیے ! ہم اس کا مطالعہ کریں ۔

وثیقہ کی پہلی سطریہ تھی ”یہ وثیقہ نئے اسلامی معاشرے کی تشکیل کی بنیاد ہے “۔
 اس میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لکھوار ہے ہیں کہ یہ انصارومہاجرین جو لاالہٰ الااللہ کی بنیاد پر ‘ایک کلمے کی بنیاد پر مسلمان بن کے مدینہ میں اکٹھے ہوئے ہیں ‘ان سب کی حیثیت ایک امت کی ہوگی ۔آج کے بعد نہ کوئی انصاری ہے نہ کوئی مہاجر ہے نہ کوئی کسی قبیلے کی بات کرے گا‘نہ اپنے خاندان کی عظمت کی بات کرے گا‘سب مسلمان ایک امت ہیں ۔

حضرت بلال رضی اللہ عنہ غلام تھے ،حبشہ سے بکتے ہوئے آئے ان کا سوشل سٹیٹس ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سٹیٹس اور باقی سب مسلمانوں کا سٹیٹس ایک قرار دیا گیا۔
یہاں تک کہ خاندانوں ‘قبیلوں ‘علاقوں کافرق ختم کر دیا گیا‘میں فلاں علاقے سے ہوں ‘میرا علاقہ اونچا ہے میرا صوبہ بڑا ہے ‘میرا خاندان اونچا ہے‘ یہ سب فرق کلمے نے ختم کردیے ۔یہ سب وثیقہ کی پہلی سطر کی برکت تھی جس کے مطابق مدینہ کی ریاست تشکیل دی گئی ۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب لکھوایا اور تحریر کروایا حالانکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو زبان سے کہتے وہی کافی ہوتا تھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے دلوں میں سید ھا اترتا چلاجاتا تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ میرے رب نے اس میں حکمت یہ اختیار کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لکھوانے سے ایک دستاویز تیار ہو جائے ۔صحیح بخاری اور احادیث کی دیگر کتابوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تحریرں محفوظ ہو جائیں تا کہ قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے رہنما بن جائیں ۔


ذرا ایک منظر ذہن میں لائیں ۔امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہیں لوگ آرہے ہیں ‘مل رہے ہیں‘ ملاقاتیں جاری ہیں ۔اچانک بلال رضی اللہ عنہ آگئے عمر رضی اللہ عنہ اٹھے‘ آگے بڑھے‘ بلال رضی اللہ عنہ کو اپنے سینے سے لگا لیا۔لوگوں نے کہا:امیر المومنین فلاں گورنر آیا‘ فلاں سردار آیا‘فلاں علاقے کا اتنا بڑا ذمہ دار آیا انہوں نے سلام کہا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف جو اب دیا لیکن بلال رضی اللہ عنہ آئے تو آپ اپنی جگہ سے اٹھ گئے۔


آگے بڑھ کر استقبال کیا‘معانقہ کیا ‘اس فرق کی کیا وجہ ہے ۔بائیس لاکھ مربع میل پر اسلامی سلطنت وخلافت قائم کرنے والے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اتنی عظمت سے نوازا‘ جواب میں کہتے ہیں لوگو! جب ہم اسلام قبول کرنے کی بجائے اسلام کے خلاف باتیں کرتے تھے‘ اس وقت بلال رضی اللہ عنہ اسلام کے لیے ماریں کھایا کرتے تھے‘ یہ ہم سے افضل ہیں ۔

یہ تھا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا معیار اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کی برکت ۔
جب اسلامی ریاست میں یہ معیارو کردار ہو گا تو پھر ان شاء اللہ پاکستان مدینہ کی ریاست بن جائے گا لیکن اگر یہاں کچھ امریکی آجائیں ‘سب کے چھکے چھوٹ جائیں ‘سارے لائن میں ائیر پورٹ پر حاضر ہو جائیں‘حکم کے منتظر ہو جائیں وہ آکے کہے دینی مدرسوں والے غلط ہیں‘ ان کو بند کرو ۔

سورئہ توبہ سورة انفال، جہادی غزوات نصاب کی کتابوں سے نکالو کیونکہ اگر مدرسوں میں یہ سب پڑھایا جائے گا تو پاکستان میں بدری لوگ پیدا ہوں گے ۔امریکہ اگر یہ حکم نامے جاری کرے ‘آپ اس کو مطمئن کرنے کے لیے کہیں ‘جناب بالکل ایسے ہی ہو گا۔
ہم نے نصاب بدل دیے ہیں ہم نے آپ کے حکموں پر پورا پورا عمل کیا ہے ۔آپ جن کو دہشت گرد کہتے ہو ‘ہم نے ان پر پابندی لگا رکھی ہے‘ مزید پابندیاں بھی لگائیں گے ‘وہ اگر مطمئن ہوں اور تھوڑے سے پیسے دیں دیں جس میں تمہارا چند دنوں کا گزارہ ہو جائے تو اس طرح مدینے کی ریاست نہیں بنے گا ۔


امداد کے لیے امریکی ڈکٹیشن لینا بند کرنا ہو گی ۔
میرا یقین وایمان ہے ،پاکستان میں اتنی خیر ہے ،لوگوں میں ایسے جذبے ہیں کہ اگر حکمران سچے پکے مسلمان بن جائیں تو عوام ان سے زیادہ ان شاء اللہ سچے بن کے دکھائیں گے‘ ان سے زیادہ ایثاروقربانی کے مظاہرے کریں گے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران ،امراء وزراء بھوک تکلیفیں اور مشقتیں اٹھانے کے لیے تیار نہیں ۔

وہ قوم سے قربانیوں کا مطالبہ تو کرتے ہیں خود قربانی نہیں دیتے ۔ہمارے حکمرانوں کے قول وفعل کا یہ تضاد پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے میں سب سے بری رکاوٹ ہے۔
بخاری میں ہے‘ حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتی ہیں ایک عورت کے ساتھ دو بچے تھے ۔وہ آکر دروازہ کھٹکھٹا کر کہتی ہے‘ میرے بچے بھوکے ہیں ‘ہم نے کچھ نہیں کھایا ۔

عائشہ رضی اللہ عنہا دیکھتی ہیں ‘گھر میں ایک کھجور پڑی ہے‘ عائشہ رضی اللہ عنہ وہ کھجور اٹھا کر اس عورت کو دے دیتی ہیں ۔وہ عورت اس کھجور کے دو حصے کرتی ہے ۔ایک حصہ ایک بچے کے منہ میں‘ دوسرا حصہ دوسرے بچے کے منہ میں ڈالتی ہے اور دعائیں دیتی ہوئی واپس چلی جاتی ہے۔اس واقعہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایثار دیکھیں گھر میں ایک کھجورتھی وہ بھی ضرورت مند کو دے دی۔

Your Thoughts and Comments

soodi qarzon se Pakistan riyasat madina nahi banay ga is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 09 February 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.