سب سے پہلے پاکستان

پیر ستمبر

Dr Affan Qaiser

ڈاکٹر عفان قیصر

دنیا کا سیاسی منظر نامہ بدل رہا ہے۔ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے، اب جغرافیائی سرحدوں تک محدود ہوگیا ہے ۔ میں ذاتی طور پر پرویز مشرف کے ایک جملے کا ٹین ایج سے بہت بڑا فین ہوں ، سب سے پہلے پاکستان۔ اس کی وجوہات آج بہت واضح ہیں۔کشمیر میں بھارتی مظالم اپنی تمام حدیں عبور کررہے تھے اور ادھر آر ایس ایس آلود مود ی کو امارات میں آرڈر آف زید پہنایا جارہا تھا۔

متحدہ عرب امارات ،سعودی عرب کے ساتھ وہ واحد ریاست تھی جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی دھماکوں کے بعد مکمل حمایت دی تھی، سعودی عرب نے یومیہ پچاس ہزار بیرل تیل تحفے میں دینا شروع کردیا تھا اور ہر سفارتی سطح پر اسلامی ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب دنیا گلوبل ویلیج نہیں بنی تھی، اینڈرائیڈ اور موجودہ سیل فون ٹیکنالوجی اتنی عام نہیں تھی اور ملکوں میں اکانومی کی ایسی چھینا جھپٹی والی دوڑ نہیں تھی۔

(جاری ہے)

اس وقت تک شاید امت کا فارمولہ کسی طور زندہ تھا، مگر آج یہ فارمولہ مکمل بدل گیا ہے۔ ادھر امارت نے مودی کو تمغہ دیا،ادھر سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل کی کمپنیAramco نے مکیش امبانی کی ریلائینس تیل کی کمپنی کے ساتھ دنیا کی تاریخ کا تیل کا سب سے بڑا معاہدہ کیا اور یہ سب تب ہورہا تھا کہ جب بھارتی ہٹلر آر ایس ایس کے ہندوستان کو کشمیر پر مسلط کرکے پاکستان کو ختم کرنے کے درپے ہے اور یہ خطہ ایٹمی جنگ کی طرف جارہا ہے۔

شاہ سلمان ادھر دنیا میں خود کو پاکستانیوں کا سفیر کہتے ہیں ادھر سارے تجارتی معاہدے بھارت سے کررہے ہیں،سعودی عرب میں مغربی انقلاب آرہا ہے اور وہاں مغرب کی طرز پر نائٹ کلب کھل رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ اس سب کو سمجھنے کے لیے قارئین کو نیشلزم یعنی قومیت اور حب الوطنی کے مطلب کو سمجھنا ہوگا۔ تفصیل سے جاننا ہوگا اور پھر سب سے پہلے پاکستان کے نعرے پر امت سے باہر آکر پاکستانیت کی بات کرنا ہوگی۔

قومیت کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی ایک مذہب،یا ایک قوم کے لوگ جغرافیائی سرحدوں میں بندھے ہوں اور وہ ایک ملک بن جائے، جیسے جرمنی،چین وغیرہ اور حب الوطنی کا مطلب یہ ہے کہ آپ رنگ،نسل،فرقے اور قومیت سے بالاتر ہوکر اپنی جغرافیائی سرحدوں کو اپنا سب مان لیں اور اس پر جان نچھاور کرنے کو تیار ہوں جیسے امریکہ یا کوئی بھی سیکولر ریاست۔ پاکستان جب وجود میں آیا تو آئین میں نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا ،مگر جناح نے اپنی پہلی ہی تقریر میں یہ بات واضح کردی کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل آزادی ہوگی۔

یہ قومیت میں حب الوطنی کا نظریہ تھا،جو یقینا سب سے پہلے پاکستان کی طرف اشارہ کرتا تھا اور ہم اگر اس پر عمل کرتے تو آج اس حال کو نہ پہنچتے۔ بھارت میں ایسا نہیں ہوا، بھارت نے نعرہ تو سیکولر سٹیٹ کا لگایا، مگر وہاں مسلم اقلیت ہی رہے،دو قومی نظریہ وہاں جیت گیا اور آر ایس ایس نے وہاں ہندو قومیت کو سرحدوں پر مسلط کردیا۔رشتریا سوام سیوک سنگ RSS 27 ستمبر 1925ء کو ڈاکٹر جی کے نام سے مشہورکیشیو بلی رام ہیدگیوار نے بنائی۔

یہ انگریزوں کے خلاف خاص ہند وتا یا ہندومت پر بنی ایک مذہبی و سیاسی تنظیم تھی، جو ہندوؤں کے اکھنڈ بھارت کی آئیڈیالوجی لے کر آئی تھی۔ ڈاکٹرجی نے پوری آزادی کی تحریک میں اسے گوروں کے حق میں رکھا۔ ان کا بھارت کی آزادی میں کانگریس اور مسلم لیگ کے ساتھ کسی قسم کا کوئی حصہ نہ تھا، یہاں تک کہ یہ آزادی کے لیے ہر اقدام کی مخالفت کیا کرتے تھے۔

ڈاکٹر جی مر گئے،آر ایس ایس زندہ رہی۔ 30 جنوری 1948ء نتھو رام گودسے نامی شخص نے پوائنٹ بلینک فاصلے سے مہاتما گاندھی کے سینے میں تین گولیاں اتاریں، نتھورام کا تعلق آر ایس ایس سے تھا اور اس نے مسلمانوں کو آزادی میں مدد پر گاندھی کو قتل کردیا۔ اس کے بعد آر ایس ایس سیاسی منظر نامے سے کسی طور ہٹ گئی ، مگر ہر گلی میں یہ کام کرتی رہی۔ آر ایس ایس ہندو تا پر کام کررہی تھی، ہر گلی کوچے میں کررہی تھی اور بھارت میں کچھ بڑا ہونے جارہا تھا۔

گاندھی کی کانگریس ہارنے لگی، بھارت کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوگیا اور بی جے پی بھارت کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن گئی ۔ یہ بی جے پی کس کی پیداوار تھی؟ آر ایس ایس کی یعنی ہندوتا کو بھارت میں حکمرانی مل گئی۔ اٹل بہاری واجپائی کے بعد ہندو مسلم گجرات فسادات کا موجد نریندر مودی ایک بار نہیں دو بار دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا وزیر اعظم بن گیا اور یہ وہی لڑکا تھا،جو آر ایس ایس کے کیمپس میں پروان چڑھا تھا۔

اب بھارت ہندو قومیت کی آڑ میں حب الوطنی کا concept ڈال کر،نازی جرمنی طرز کی ریاست بننے جارہی ہے۔ہندو قومیت اور مہا بھارت حب الوطنی کی اس کچڑی میں ایک ہی بڑی رکاوٹ ہے اور وہ ہے بھارت کے اندر رہنے والے مسلمان اور کشمیر۔ مودی نے اپنی پہلی حکومت میں آر ایس ایس کو طاقتور کیا اور دوسری میں آرٹیکل 370 ہٹا کر کشمیر کو اپنے اندر ضم کرلیا اور ساتھ ہی سرحدوں کے اندر کا حب الوطنی کا اچار پوری دنیا میں بانٹنے چل دیے کہ ہم سیکولر ریاست ہیں۔

افسوس ناک حد تک پاکستان بھارت کے اس سارے کھیل میں Muslim Brotherhood کا راگ الاپتا، ہر محاذ پر بھارت سے ہار گیا یہاں تک کہ کشمیر کے معاملے پر بھی جتنا شور مچایا گیا،وہ سب ٹویٹر کی حد تک ہی رہا۔ ہم ایک طرف ایران کے دوست ،دوسری طرف سعودی عرب سے یاری، ایران امریکہ اور سعودی کا دشمن، بھارت کی ایران اور سعودیہ دونوں سے دوستی اور ساتھ اسرائیل سے بھی، جس کا خانہ ہم اپنے پاسپورٹ سے ہی مٹا چکے ہیں۔

کشمیر کے معاملے پر مودی نے پہلے ٹرمپ سمیت تمام دوستوں کو اعتماد میں لیا اور ہم اس دوران صرف اکانومی ٹھیک کرنے میں لگے رہے اور بعد میں بھی مودی نے پوری دنیا میں اس کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دے کر چپ رہنے پر قائل کرلیا اور یہ سب کرنے میں وہ دو اسلامی برادر ممالک جو کبھی پاکستان کے ایٹمی دھماکوں پر پوری دنیا کے سامنے پاکستان کے لیے ڈھال بن گئے تھے آج مودی کے ساتھ کھڑے تھے۔

اربوں روپے کی سرمایہ کاری، خوبصورت بھارتی ماڈلز کی امارت میں آمد و رفت کے سلسلے اور عربوں کی عیاشی یہ سب مسلم قومیت پر بھاری پڑگیا۔ بھارت ڈیڑھ ارب آبادی والا ملک ہے، یہاں سے برادر اسلامی ممالک سمیت مغرب کو بہت سے مفادات ہیں،ان کو پاکستان اور کشمیر سے کیا لگے؟ یہ آج کی نئی دنیا ہے۔ اس سارے میں چین کا کردار آج بھی وہی ہے،جو ہمیشہ سے رہا ہے، بھارت زیادتی کررہا ہے،ایک دو بیان اور ابدی خاموشی۔

مطلب انہیں بھی اپنی اکانومی،تجارت اور سرحدیں زیادہ عزیز ہیں۔ آج کی دنیا ، آرڈر آف زید اور Aramco کی ڈیل سے آج کے پاکستان اور پاکستانیوں کو آنے والے کل کے لیے سبق سیکھنا ہوگا۔ قومیت سے باہر نکل کر حب الوطینت کا سبق،سب سے پہلے پاکستان کا سبق۔ ہمیں اب دنیا میں صرف اپنے مفادات کو سامنے رکھنا ہوگا۔ ہمیں دنیا کی باہمی لڑائیوں، آپسی جنگوں میں اپنی خارجہ پالیسی نہیں بنانا ہوگی اور نہ ہی ہمیں امت فارمولے پر کوئی بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔

ہمیں امریکہ جیسا بننا ہوگا، جہاں سب صرف امریکہ کی ترقی کے بارے میں سوچتے ہیں،وہ پاکستانی بھی جن کو امریکہ گرین کارڈ دے چکا ہے وہ بھی آج امریکی ہیں اور انہی کے حب الوطنی فارمولے کے تحت امریکہ کی قدر کرتے ہیں ۔ہمارے لیے جو کچھ ہے پاکستان ہے،اقلیتوں کی حقوق کی آزادی والا پاکستان۔ ہم بطور پاکستانی اب جو فیصلہ کریں گے،پاکستان کے لیے کریں گے اور اب ہمارا ایک ہی نعرہ ہوگا،سب سے پہلے پاکستان۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Sab Se Pehle Pakistan Column By Dr Affan Qaiser, the column was published on 02 September 2019. Dr Affan Qaiser has written 38 columns on Urdu Point. Read all columns written by Dr Affan Qaiser on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.