سیاست‘جمہوریت اور پاکستان!

پیر 22 اپریل 2019

Rao Ghulam Mustafa

راؤ غلام مصطفی

قیام پاکستان سے قبل ”ہم پاکستان چاہتے ہیں“وہ فلک شگاف نعرہ تھا جو مسلمانوں نے قائد اعظم کی پر عزم قیادت میں بلند کیا تھاجس کے عوض لاکھوں شہادیتں‘مصائب‘تکالیف‘ظلم و ستم‘ماؤں‘بہنوں اور بیٹیوں نے عصمت دری کے زخم جھیلے‘یہ واقعات اس بات کے شاہد ہیں کہ قیام پاکستان سے لیکر اب تک ہماری قومی تاریخ کا یہ خطرناک ترین دور تھا۔

برصغیر میں بسنے والے مسلمان اقلیت جنہوں نے برصغیر کے ایک بڑے حصے پر 650سال تک حکمرانی کی پاکستان کا قیام انہی مسلمانوں کا خواب تھاجسے قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں لہو اور مصائب و آلام کے دریا عبور کر کے حاصل کیا گیا۔1956ء میں جب صدر مملکت کا عہدہ تخلیق ہوا تھا تو پاکستان کے آخری گورنر جنرل اور صدر اسکندر مرزا بنے تھے اور 1973ء کے آئین کی منظوری کے بعد پاکستان کو پارلیمانی ریاست کا درجہ دیا گیا اب ڈاکٹر عارف علوی اس ملک کے سترہویں صدر مملکت ہیں اور لیاقت علی خان سے لیکر ابتک عمران خان ملک کے انیسویں وزیراعظم بنے ہیں۔

(جاری ہے)

پاکستان کی اکہتر سالہ تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہے جب ایک صدر نے دوسرے صدر کو صدارت منتقل کی اس سے قبل آصف علی زرداری نے ممنون حسین کو صدارت منتقل کی تھی پاکستان اس حکومت سے قبل گیارہ سیاسی حکومتیں منتخب ہو چکی ہیں اور پالیمانی جمہوری نظام کے استحکام کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ گیارہ سیاسی حکومتیں اوسطا دو سال بھی اپنی حکمرانی کی مدت پوری نہ کر سکیں ایسے غیر مستحکم حالات میں کوئی جمہوری نظام کام نہیں کر سکتا ۔

ہم اکہتر سالہ پاکستان کا جشن منا چکے لیکن افسوس ہمارے پاس ابھی تک مستحکم جمہوری نظام نہیں جس کے بل بوتے پر جمہور کو جمہوری لوازمات سے نواز سکیں۔ملک کے سیاسی حالات کے تناظر میں دیکھیں تو ملک میں صرف ایک واحد سیاسی جماعت جماعت اسلامی ہے جس کا تنظیمی نظام جمہوری اقدار و روایات کیساتھ جڑا ہوا ہے جو استصواب رائے کے ذریعے اہل افراد کے لئے عہدے کا تعین کرتی ہے یہ واحد جماعت ہے جو اپنی سوچ‘نظرے اور ویژن کے مطابق کارکنان کی عملی تربیت کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہے لیکن ملک میں خاندانی اور موروثی سیاسی نظام کے باعث اپنی جڑیں عوام کے دلوں میں نہ بنا سکی باقی مسلم لیگ ن‘پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کا جائزہ لے لیں یہاں تک کہ تحریک انصاف بھی آپکو ایک ہی شخصیت کے طلسم پر کھڑی نظر آئے گی ان جماعتوں کے اندر کارکنان کے سیاسی شعور کو بیدار کرنے کے لئے تربیتی ادارہ تک موجود نہیں جس کی وجہ سے ان ملک گیر سیاسی جماعتوں میں خاندانی سیاست کا راج ہے۔

جب ایسی جماعتیں حکمرانی کریں گی تو پارلیمانی جمہوری نظام کیسے مستحکم ہو سکے گا کیسے عوام تک جمہوری ثمرات پہنچ پائیں گے۔مقتدر قوتوں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اختیارات اور مفاداتی جنگ کی کشمکش نے ملک کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں عوام مسائل کے عمیق گراداب میں دھنس چکی ہے اورموجودہ سیاست کی سرانڈ سے نظام آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔

وہ قوم جو قائد اعظم کی قیادت میں ایک پرچم تلے متحد تھی انگریز کے پرورد ہ سیاسی غلاموں نے اس قوم کے درمیان نفرت و تعصب کی دبیز خلیج قائم کر دی آج وسائل سے مالا مال ملک ان کی لوٹ کھسوٹ کی بدولت معاشی بد حالی کا شکار ہو چکا ہے۔ معاشی اعداد و شمار نے ملک کو طویل المدتی معاشی درجہ بندی میں ”بی“سے منفی بی پر لا کھڑا کیا ہے اس وقت دنیا میں تین بڑی کریڈٹ ریٹینگ ایجنسیاں مودیز‘فج اور سٹینڈرڈ اینڈ پورز موجود ہیں جو تمام ممالک کے بارے میں جائزے اور رپورٹس جاری کرتیں ہیں۔

بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیاں کسی بھی ملک کی درجہ بندی کا تعین اس کی حیثیت کو لا حق خطرات کی بنیاد پر کرتی ہیں پاکستان کی معاشی ابتری کے باعث بین الاقوامی اداروں بشمول آئی ایم ایف‘عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک سمیت انٹر نیشنل مارکیٹ میں آئندہ جاری کئے جانے والے مجوزہ بانڈز پر زیادہ سود ادا کرنا پڑے گاپاکستان کا آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات کا دور آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اورپاکستان کا آئندہ بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط پر ہی بنایا جائے گا جس کی بنیاد پر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مستقبل قریب میں عوام کے لئے ریلیف نہیں بلکہ مزید ٹیکسز لگائے جائیں گے۔

عوام کے لئے تو یہ ملک موت کا ایک ایسا کنواں بنتا جا رہا ہے جہاں پل پل فرشتہ اجل سے بچنا پڑتا ہے اور اس ملک کے حکمران شائد یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے ہم اس ملک کے لئے ناگزیر بن چکے ہیں لیکن اس حقیقت پر کوئی نظر ڈالنے کو تیار نہیں کہ قبرستان ایسے ناگزیر لوگوں سے بھرے پڑے ہیں ۔ ملک کو داخلی طور پر سنگین نتائج کا سامنا ہے بلوچستان میں بڑھتے دہشت گردی کے واقعات سے ملک کی بائیس کروڑ عوام افسردہ ہے بلوچستان کے آنسو پوچھنے کی اشد ضرورت ہے ایسا نہ ہو کہ کہیں دیر ہو جائے سی پیک منصوبہ پر عالمی سازشیں عروج پر ہیں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ جو پاکستان کے مستقبل کی معشیت میں کلیدی حیثیت کا حامل ہے اس منصوبے کو دشمنوں کی سازشوں کے شر سے بچانے کے لئے تمام تر وسائل کے ساتھ آگے بڑھ کر حب الوطنی کا دم بھرنے والی ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو اس کی بقاء کا ضامن بننا چاہیے۔

تحریک انصاف کی حکومت اپنے دور حکمرانی کا پہلا بجٹ جون میں پیش کرنے جا رہی ہے ملک میں اس وقت سیاسی و معاشی عدم استحکام کے باعث عوامی حلقوں میں بے چینی اور بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے عوام کے اذہان میں جو عمران خان نے دلپذیر نعروں اور بلند بانگ دعوؤں سے خوش کن تبدیلی کے محلات تعمیر کئے تھے حکومت کی مایوس کن کارکردگی کے باعث وہ زمین بوس ہو چکے ہیں۔

کابینہ میں تبدیلی مقتدر قوتوں کے دباؤ‘عوامی دباؤ یا کارکردگی کی بنیاد پر کی گئی اس بحث سے قطع نظر یہ حکومتی تسلسل کا ایک حصہ ہے بعض دانشور وزیر اعظم کے اس فیصلے کی روشنی میں اسے ایک مشکل فیصلہ قرار دے کر غیر روایتی سیاستدانوں کی صف میں کھڑا کر نے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کیا کابینہ میں تبدیلی سے معشیعت سنھبل پائے گی ‘عوام کے سر سے مہنگائی کے بادل چھٹ سکیں گے‘اور اصلاحات کی بنیاد پر حکومت نئے پاکستان کی تعبیر کو عملی جامہ پہنا سکے گی کابینہ میں تبدیلی کے باوجود یہ سوالات اپنی جگہ آج بھی ایک اٹل حقیقت بنے جواب کے متلاشی ہیں۔

حکومت کو سمجھناچاہیے کہ کابینہ میں تبدیلی کے ذریعے چوکے چھکوں سے اب کام نہیں چلے گا عوام سے کئے گئے بلند و بانگ وعدوں کو عملی شکل دے کر ریلف دینا ہوگا جب تک حکومت اصلاحاتی اقدامات نہیں اٹھائے گی تب تک ملک میں سیاسی و معاشی استحکام نہیں لا یا جا سکتا دوست ممالک سے امداد لینا ملکی معشیعت کو مستحکم کرنے کا کوئی مستقل حل نہیں اس کے لئے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا ۔

اس ساز گار ماحول میں جب اسٹیبلشمنٹ‘حکومت اور ادارے ایک صحفہ پر متحد ہیں سابقہ حکومتوں کی نالائقیوں‘کرپشن و بدعنوانی کا رونا روھوناکسی طور بھی بجا نہیں عمران خان کے لئے یہ حکومت ایک ٹیسٹ کیس ہے ابن الوقت دانشور طبقہ کو قبل از وقت عمران خان کو غیر روایتی سیاستدان کی سند عطاء کرنے کی بجائے اس کا فیصلہ آنیوالے حالات اور وقت پر چھوڑ دینا چاہیے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :