آمریت کے بلے کی گردن میں آئین کی گھنٹی۔۔۔!

جمعرات دسمبر

Syed Tansir Hussain

سید تنصیر حسین

اِٹ کُتے اور چوہے بلی کا ویر زبان زدِ عام رہاہے؛ یہ اُس بھلے زمانے کا قصہ ہے جب برگر اور مُرغ روسٹ سے لزتِ کام دہن کا اہتمام کرنے والی آج کی الٹرا ماڈرن بلیوں کی اکثریت کے برعکس زیادہ تر بلیوں کے مُنہ کا زائقہ تبدیل نہیں ہوا تھااور ہنوزموٹے تازے چُوہے ہی اُن کی مرغوب غذا ہوا کرتے تھے؛ بلیوں ، بلوں اور باگڑ بلوں کی حشر سامانیوں کی وجہ سے اپنے اُن گنت بال بچڑوں اور عزیز و اقارب سے محروم ہوجانے والے ، ایک صحرا ئی قصبے کے مضافاتی ریت کے ٹیلوں کے باسی چُوہوں کے متعددہ قبائل نے ، ایک عظیم الجسہ جھاڑی کی زمین کا بوسہ لیتی شاخوں کا اولھا لے کر ایک تاریخی خفیہ میٹنگ مُنعقد کی؛ متعدد بار تاریخ کے اوراق پھرولنے کے باوجود میٹنگ مزکور کے انعقاد کی صحیح تاریخ کا ہم کھوج نہیں لگا سکے مگر، ہمارے حکمرانوں کے اُنکے تئیں، بہت سے تاریخی فیصلوں اور اقدامات کی طرح ، چوہوں کی اِس ریلی کوبھی لازماً کسی نہ کسی مہینے کی کسی نہ کسی تاریخ کو منعقد ہو نے کی وجہ سے تاریخی کہا جاسکتا ہے؛ چوہا برادری کی مزکورہ میٹنگ کے ایجنڈے میں باہمی صلاح مشور ہ سے اُنکی نسل کی جانی دُشمن" بلی" کا مکُو ٹھپنے اوراُسکے روز بروز بڑھتے ڈرون حملوں کے موئثر تدارک کے لئے تجاویز پر غور اور فیصلہ سرِ فہرست تھا؛ کنیا قسم کے بہت سے چوہوں کے قبائل تو گھر کے کسی بھیدی کی ممکنہ مخبری کے نتیجے میں میٹنگ مزکورہ پر مورکھ بلی کی طرف سے شب خُون مارے جانے کے خدشے کے پیشِ نظر اپنی اپنی بلوں میں ہی دبکے رہے؛ دستوں اور پیٹ کے مروڑ کی دوا کے متعدد چمچ حلق میں اُنڈیلنے کے بعد، چوہوں کے جن قبائل نے اِ س پُر خطر خُفیہ میٹنگ میں شرکت کی، اُن کی اکثریت کی بھی دورانِ میٹنگ مزکور مُسلسل سٹی گُم رہی جبکہ اُن میں سے بُہت سوں کا اپنی بادِ شکم پر کنٹرول باربار لوز ہوتا رہا ؛ جسکے نتیجے میں میٹنگ کے شُرکاء کو اپنے اگلے پنجوں میں پھنسے چیتھڑہا نُما رومال مسلسل اپنے ناکوں پر ہی رکھنے پڑے؛ا یسے ناگوار اور بد بُودار ماحول میں بڑوں بڑوں کے دماغ ماؤف ہوجاتے ہیں؛ بھیگی بلی کے تصور سے بھی کانپ اُٹھنے والے شو ہدے چوہے بھلا کس باغ کی مُولی تھے؛ ایسے میں،کانا پھوسی کے سے انداز میں بیشتر وقت مہر بلب رہنے اور "ڈاہڈی بلی" کے اچانک وارد ہونے پر، بروقت وہاں سے نو دوگیارہ ہونے کے لئے، ریس کے کسی مقابلے کے سٹارٹننگ پوائنٹ پر دوڑنے کے لئے ہمہ وقت مستعد کسی اتھلیٹ کی طرح ، چوٹی کے چو ہے رہ نماؤں کی جانب سے سامنے آنے والی معدودِ چند تجاویز میں سے جس تجویز پر سب سے زیادہ تحسین کے ڈونگرے نچھاور کئے گئے وہ یہ تھی کہ، " پائلیٹ سیکیورٹی پراجیکٹ کے طور پر مستقبل میں،" موئی بلی،" تمغہء بخالت"، کے غافل چوہوں کے سروں پر اچانک نز ُول سے ہونے والے جانی نقصان کے موئثر توڑکے لئے، کسی مُشاق لوہار س چوہے سیمُتعدد گھنٹیاں بنواکر ، مُنتخب حُریت پسند چُوہے، پنجابی والے" دا "کا موئثر اور بروقت استعمال کرتے ہوئے اُس وقت بخیل بلیوں کے گلے میں میں باندھنے کا کارنامہ انجام دے کر اپنا نام چوہانِ عالم کی تاریخ میں سُنہری الفاظ میں لکھوانے اور عالمِ چوہاز میں حقیقی تبدیلی برپا کرکے رکھ دینے کا شرف حاصل کرلیں، جب وہ بد بخت قیلولہ کر نے میں مگن ہوں؛ شرکاء میٹنگ سے اِس نادر تجویز کی متفقہ طور پر منظوری حاصل کرنے کے بعد، میٹنگ کے ڈھیلاء صدارت پر براجمان ایک گُڈ لُکنگ مٹیالے رنگ کے چُوہے نے پہلے تو بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کی مجوزہ پُر خطر مُہم جوئی کے لوازمات پورے کرنے کے لئے مخیر چوہا حضرات سے نہایت فراخدلانہ چندا دینے کی درمندانہ اپیل کی ؛ بعد ازاں،کاپی پنسل اپنے پنجوں میں پھنسائے قر یب بیٹھے شارٹ ہینڈ جاننے والے ایک چوہے سے کہا کہ وہ پُھرتی دکھاتے ہوئے بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کے مجوزہ خُود کش حملے کے ہم پلہ اس اہم مشن کے لئے رضاکارانہ طورپر جوک در جوک،اپنی خد مات پیش کر نے والے ہیرو چوہوں کے نام قلمبند کرتا جائے؛ مگر پروین شاکر# کے الفاظ میں، چوہوں کی طرف سے اُسکے اِس سوال کا،۔

(جاری ہے)

ع۔" کُل جواب تھا گویا ایک پل کا سناٹا!"۔۔ پل بھر توقف کے بعد، اپنے" پیٹی بھرا "چوہوں کے اسقدر ٹھنڈے ریسپانس سے قدرے مایوس صدرِ مجلس چوہینے حاضرینِ مجلس چوہوں کو خبردار کرتے ہوئے کہ ،"اس سے پہلے کہ کسی بخیل بلی کو خبر ہو جائے، اور اِ س سے پہلے کہ وہ ظالم ہماری اِس جان جوکھوں سے بلائی گئی میٹنگ پر دھاوا بول کر اُسے تہس نہس کر کے رکھد ے جلدی سے، قابلِ فخر اور نڈر چوہے، متفقہ طور پر منظور کی جانے والی اِس قابلِ فخر مہم کے لئے اپنے نام پیش کردیں"،اپنی التماس کو دُھرایا؛ مگر صدحیف! ایک بھی چوہے نے قبل از وقت موت کو ماسی کہنے کے اِس احمقانہ مشن کے لئے اپنا نام پیش کرنے کی ہمت نہ کی؛ اِ س سے پہلے کہ وہ نام نہادلیڈر چُوہا لچھے دار لعن طعن کے چُکے مار کر اپنے مُخاطب چوہوں کی غیرت کو للکارتا، مذکورہ جھاڑی کے نیچے دبکے چوہو ں کو، ٹیلے کے اُس پار سے "میاؤں میاؤں" کی مثلِ صو ر، آواز سُنائی دی جسے کے کانوں میں پڑتے ہی، کُچھ ہی دیر پہلے اپنی نام نہاد حریت پسندی کے بل بوتے پر بد بخت بلی کو لُگام ڈال دینے کی بڑھکیں مارنے والے جُملہ چوہے، اپنی دُمیں دبا کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے؛ کُچھ چوہوں نے تو بد حواسی میں اپنی دُموں کے سا تھ ساتھ اپنے ہمسایہ چوہوں کی دُمیں بھی دبا ڈالیں؛ سب سے آگے۔

ع۔" میں بہادر تھا مگر ہارے ہوئے لشکر میں تھا" ۔۔کی دُہائی دیتے ہوئے ،سرپٹ دوڑتا ہُوا وہ سر پینچ چوہا تھا جس نے ترلے لے کر چوہوں کی مزکورہ تاریخی میٹنگ کا اہتمام کروایا تھا جسے بعد میں جانوروں کی د نیا کے اس دور کے نیب نما ادارے کے ہاتھوں تا دمِ مرگ زلیل ہونا پڑا تھا۔ ؛ اب اللہ ہی جانے یہ چوہوں کا صنفی امتیاز اسکے پیچھے تھا یا کوئی تکنیکی غلطی اِ سکا سبب تھی، میٹنگ مزکور کے شُر کاء چو ہوں کے غیض و غضب اور پلاننگ کی سوئی صرف اور صرف " مادی بلی "کے گلے میں گھنٹی با ندھ کر اُسے لگام دینے پر ہی اٹکی رہی جبکہ اُس سے کہیں زیادہ لُچے بلے اور باگڑ بلے کو پٹہ ڈالنے کے مُتعلق کسی چوہے نے سو چا تک نہیں؛ لگتا ہے چُوہوں ََکی میٹنگ مزکور کے ز مانے کا ہڈ ہرام بلا اور باگڑ بلا اپنے نامور بھانجے ، جنگل کے مہابلی" شیر" کی اپنا شکار آپ مار کر کھانے کی فخریہ روایت کے برعکس، ہر زمان و مقام کے نکھٹو اور زن مُرید شوہروں کی طرح چوہوں کا شکار بنفسِ نفیس کرنے کی بجائے اپنی زوجہء محترمہ ، " بلی" کے مارے ہوئے چوہوں پر ہی اکتفا کیا کرتا تھا؛ اگر ہمارا یہ گویڑ درُست ہے، تواُس زمانے کے چو ہوں کو بجا طور پر ، وطنِ عزیز کی جمہور ، جمہوریت اور جمہوری راہنماؤں کے مُقابلہ میں کہیں زیادہ خُوش قسمت قرار دیا جاسکتا ہے کیو نکہ اُ ن کا توجب بھی آمریت کی افریت سے واہ پڑ۱، بڑی بڑی خوفناک مونچھوں والے کسی بد دماغ مارشلائی بلے کی صورت میں ہی پڑا ؛ لڑکپن میں پاکستان کے بُزرگ سیاستدان پیر صاحب پگاڑا کا یہ مُکرر بیان کہ" بلی چوہے کا کھیل شروع ہونے والا ہے " ہمارے سر پر سے گُزر جایا کر تاتھا؛ اسے سُن کر ہم اِ س سوچ میں پڑ جایا کرتے تھے کہ آیا گوشت پوست کے اصلی چوہوں کے لئے موت ،جبکہ بی بلی کے لئے دِل لگی کے مُتراد ف پیر صاحب کا یہ غیر مرئی کھیل حقیقت کی دُنیا میں کہیں ممکن بھی ہے یا نہیں؟ اگر پیر صاحب ، اپنے اِس چہیتے بیان میں "بلی" کی بجائے " بلے" کا لفظ استعمال کر لیتے تو ہمیں اِ سکے وہ والے پوشیدہ معنی سمجھنے میں اسقدر سر نہ کھپانا پڑتاجو ہمیں کئی سالوں بعد،ہر بار اُنکی طرف سے اِس بیان کے اجرا کے تواتر کی رفتار مہمیزہونے پر، ایک عدد مُونچھ بردارچیف مارشلاء ایڈمنسٹریٹر کو ریڈیو اور ٹیلی و یژن پر" عزیز ہم وطنوں" کو ایک عدد نئے نکور مار شلاء کی نوید سُناتے ہوئے دیکھتے رہنے سے سمجھ میں آئے؛ اس بیا ن کی بلی کے تھیلے سے باہر آتے ہمارے لئے پیر صاحب ہی کے ایک اور بیان کہ" بھئی ہم تو جی․ ایچ․ کیو․ کے بندے ہیں" پر بھی کامل ایمان لا کر دو سرے بے وردی سیاستدانوں کی طرح، اُنہیں بھی "سیاست کی بھیگی بلی" سمجھنا چھوڑ دینے کے علاوہ کوئی چارہء کار نہ رہا؛ دراصل " بلی" سے پیر صاحب کی مُراد وطنِ عزیز کے وہ باوردی سیاستدان ہوتے تھے (ابھی بھی ہیں! )، جنکی ایوانِ اقتدار میں انٹری آئین شکنی کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوتی جبکہ" چوہے" کی اصطلاح وہ اُن سول بے وردی سیاستدانوں کے لئے استعمال کیا کرتے تھے جو کُرسیء اقتدار کی راکھی میں بیٹھے اِ س باوردی بلی (اصل میں بلے) کی رضا اور اُسکے ساتھ مُک مُکا کے بغیر اپنے خوابوں کی شھزادی اِس کُر سی کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتے؛ بھئی وُہی! ۔

۔جنکے بارے میں بیسویں صدی کی80 کی دہائی میں ،اسلام آباد کو کئی برس سے اپنے پنجہء استبدادمیں دبوچ کر رکھنے والے مارشلائی نسل کے ایک آکڑ خان باگڑ بلے نے نہایت غرور سے غراتے ہُوئے ارشاد فرمایا تھا کہ،" سیاستدانوں کا کیا ہے!۔۔میں جب بھی اُنہیں زرا سا ٹکڑا ڈالوں گا،تو سب کے سب دُم ہلاتے ہوئے میرے پاس آجائیں گے"گویاموصوف ا ُن تمام بے وردی سول سیاستدانوں کو خاکی کپڑے میں لپٹے اپنے عسکری گھڑے کی مچھلی سمجھتے تھے جنکے لئے حروں کے پیشوا ، " چُوہی" کی توہین آمیزا صطلاح استعمال کیا کرتے تھے؛ اُسی دورے کے ایک اور، اصلی پاکستانی اور مُسلم لیگی ہونے کے دعویدارسیاستدان ، چوہدری شُجاعت حسین کے، 2010 میں جاری کر دہ اِ س بیان نے کہ،" جی ․ایچ ․ کیو ․کے سامنے توسب کی سٹی گُم ہوجاتی ہے " اِس مارشل بلے کے رُعب و دبدبے میں کئی گُنا اضافہ کر دیا جبکہ اُنکے اِس دلخراش بیان نے نمانے سول سیاستدانوں یا اُنکے بقول،سیاسی چوہوں ،کے وقار اور دکھاوے کے ٹہکے کی چمک دمق کو مزید گہنا کے رکھ دیا؛ یہ اصطلاحی چوہے المعروف بے وردی سیاستدان بھی، آمریت یا مارشلاء کے بلے اوراُسکے اشارہء ابروپر اُنکی صفوں میں گُھس کر اُنکی سرگرمیوں کی مخبری" اندرو اندری" ہلاکو خان کا سا مزاج رکھنے والے اپنے، اولازکر، آقاء ظالم کو کرتے رہنے والے" آستین کے چُوہوں "سے اُتنے ہی نالاں اور تنگ تھے، ہیں اور قرائن بتاتے ہیں کہ رہیں گے ، جتنا کہ مزکورہ بالا تاریخی میٹنگ میں شریک گوشت پوست کے اصلی چوہے بی بلی کی کارستانیوں سے الرجک اور پریشان تھے؛ برگر فیمیلیوں کے ساتھ رہنے والی آج کی بُہت سی ٹیڈی مزاج بلیوں کا ٹیسٹ تبدیل ہونے کے باوجود، آج بھی چوہوں کی بڑی تعداد دیسی ماحول میں رہنے والی بلی کے وجود کو اپنے لئے سیکیورٹی رسک ہی سمجھتی ہے ؛وطنِ عزیز کی سیاسی تاریخ شاہد ہے کہ اقتدار کے رسیا اِس مارشل بلے سے۔

۔
"ناحق ہم مجبوروں پہ تہمت ہے خُود مُختاری کی
جو چاہیں سو وہ آپ کریں ہم کو عبث بد نام کیا "
کا گلہ زیرِ لب کرتے رہنے والے یہ سیاسی اصطلاحی چوہے بھی اپنی تمام تر توانائیں آمریت کے اِس منہ زور بلے کو پٹہ ڈا لنے کی تدبیریں اور ترکیبیں سوچننے میں ہی صرف کرتے رہتے ہیں، مگر گھر کے بیدی ، آستین کے چوہوں ،کی جانب سے اُنکے دُشمنِ جاں عسکری بلے کو مخبری کا مُکرر لُچ تلتے رہنے کی وجہ سے ہر بار اُنکی سب تد بیریں اُلٹی ہوکر رہ جاتی ہیں؛ جس طرح بلی شیر کی خالہ سمجھی جاتی ہے اِسی طرح "انکل سام" کو بجا طور پر دُنیا بھر کے آمرانہ،شاہانا اور مارشلاء نا بلوں اور باگڑ بلوں کا خالو کہا جاسکتا ہے؛ ماڈرن تاریخ عالم کے اوراق ہمارے اِس انکشاف کے جا بجا تصدیق کرتے نظر آتے ہیں کہ انکل موصوف کی ، سارے جہان ، خصوصاً مُسلم ورلڈ کے اقتدار کے ایسے گُھس بیٹھئے اکھڑبلوں کے ساتھ بہت ہی گاڑھی چھنتی ہے ؛ اِس امام المُنافقین، جگت․ انکل کے ہی خفیہ اشارہ پر، مصلحتا ًکچھ عرصہ کے لئے اقتدار کی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ چھوڑنے اور پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی کی جمہوری چال کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے حربے استعمال کرتے چلے جانے کے بعد ،آں جناب ہی کی جانب سے گرین سگنل ملتے ہی ہمہ وقت موقعہ کی تاک میں رہنے والے یہ بخیل بلے پھر سے چھلانگ لگا کر سٹیرنگ اپنے آپ کو ہمہ مقتدر سمجھنے کی غلط فہمی کاشکار، بے وردی سول راہنماء سے بدو بدی چھین لیتے ہیں؛ پاکستانی یہ تلخ نظارہ بھی بارہا دیکھ چُکے ہیں کہ مابعد،یہ ظالم اقتدار کی گاڑی کے سٹیر نگ کو اپنے یا قوم کی اکثریت کے حسبِ منشاء پھیرتے رہنے کے متمنی ایسے لیڈر اصطلاحی چوہوں کو تو ٹنگ دیتا ہے یا پھر انتقامی کاروایئوں کے جھکڑ چلاکر دُم دبا کر مُلک سے بھاگنے پر مجبور کر دیتا ہے؛ سیاسی اصطلاحی چوہوں کی خُوش قسمتی سے، اگر کبھی ایسا کوئی زور آور بلا خلافِ توقع قد رے رحم دل واقعہ ہُوا ہو تو اِ ن گُستاخوں کے ساتھ کمال فیاضی کا برتا ؤ کرتےء ہوئے محض جھو ٹے مُقدمات اور قید وبند کے نشترکے پے در پے وار کر کے اُنہیں لنڈورا اور عوام کی نظر میں بدنما بناکے رکھ د ینے پر ہی اکتفا کر لیتاہے؛ جبکہ آئین کا کبھی یہ سر کش مکمل طور پر بولو رام کرڈالتا ہے؛اُسکی اپنے لئے سدرِ راہ شقوں کو اقتدار کا نشہ پلا کے لمبی نیند سُلادیتا ہے یا پھر ,یہ کہتے ہوئے تنِ تنہاہی اُ س بے زبان میں اتنی بے سرو پاترامیم کر کے اُسکاحلیہ بگاڑ کے رکھ دیتا ہے، جتنی شوہدے بے وردی سیا ست دان" سیاسی چُوہوں"کو اکھٹا کرنے کے" ڈڈو تولنے" سے بھی کہیں زیادہ مُشکل کام کو سر انجام دینے کے بعد، پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل ہونے پر بھی شاز و نادر ہی کر پاتے ہیں،
" سب نے مل کر جو کیا ہے کام بڑی مُشکل سے
میں اکیلا اسے سو بار بھی کر سکتا ہوں"
با وردی سیاستدان بلے کی سو بار ایسا کر سکنے کی اِس بڑھک کو اگر مبالغہ آرائی کے کھاتے میں ڈال کر رد بھی کر دیا جائے تو پھر بھی اِس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ وطنِ عزیز کی 70 سالہ سیاسی تاریخ میں من مانیاں کرنے کے عالمی چمپیئن ایسے کئی عسکری بلے کوئی نصف درجن بار ایسا کرکے سُنار کی ٹھک ٹھک ، لوہار کا ٹھاہ " کے محاورے کی عملی تفسیر پیش کر چُکے ہیں؛ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ نام نہاد جمہوری حکومتوں کے دور میں تو ون مین شو پیش کرنے والے یسے باوردی سینہ زوربلوں کے احکامات نافذ اور پالیسیاں جاری رہتی ہیں مگر سیاسی حکومتیں اپنے مُخالفین کا منت ترلا کر کے اگر کبھی اِن بد بخت زورا زوری کے مہمان بلوں کو ہضم نہ ہونے والے چودھویں اور اٹھارویں ترامیم کرنے اور آئین سے بدنامِ زمانہ58-2B جیسی شقوں کا خاتمہ کرنے کا قلعہ سر کر لیں؛ تو فوراً ہی اِن بد بخت بلوں کے پیٹ میں شدیدمروڑ اُٹھنے لگتے ہیں جنکےِ منطقی انجام کے طور پر وہ جلد ہی مُلک کے اقتدارِ اعلیٰ کو اپنے پنجہء استبداد، میں لے کرآں جناب کے تئیں نامعقول، ایسی تمام ترامیم کا بیک جُنبشِ قلم آئین سے صفایا کر ڈالتے ہیں ؛ یہ بھی ہماری سیاسی تاریخ کی شرمناک حقیقت ہے کہ آ ستین کے چوہوں کا کردار ادا کرنے والے ،بے وردی سیاستدانوں کی اکثریت ہر بار الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر عسکری بلوں کی اِیسی مذموم حر کات کی طرح طرح کی تاویلیں کر کے آئین کو زخم لگانے والے ایسے خو نخوار بلوں کو آئین اور جمہور کا " اصلی تے وڈا"غمخوار ثابت کرنے میں جُت جاتے ہیں؛ یوں وہ آن جناب کے منظورِ نظر اور اُنکی نوازشا کے حق دار ٹہر ا ئے جاتے ہیں ؛ جبکہ معددِ چند وہ بے وردی سیاستدان، جو ایسے جابروں کی مذموم حرکتوں سندِ جواز دینے سے نکار کرنے کی جسارت کرتے ہیں، ایسے بلے اور اُنکے حواری یوں کے عتاب کا نشانہ اور نیب جیسے اداروں کا مہمان بنتے ہیں؛ بعض کو تو سابق وزیرِ اعظمپاکستان، زیڈ۔

اے بھٹو کی طرح سابق امریکی وزیرِ خارجہ" ہنری کسنجر" کے الفاظ میں عبرت کا نشان بنا کے رکھ دیا جاتا ہے ؛آج بھی چشمِ بینا مسقبل میں کسی غیر جمہوری قدم کی حمایت نہ کرنے کے لندن میں طے پانے والے" میثاقِ جمہوریت۔۔ جسے یار لوگ" طنزاً ،"مذاق جمہوریت" کے نام سے یاد کرتے ہیں،جیسے میثاقوں پر دستخط کرنے والے نامور بے وردی یاستدانوں کو ، اقتدار ملنے پر یہ کہ کر قوم اور آئین اور قانون کا مذاق اڑاتے ہوئے دیکھ رہی ہے،" سیاسی معاہدے اوروعدے کوئی آسمانی صحیفہ تو نہیں ہوتے کہ ہر صورت میں اُنکی پاسداری جائے" آج بھی جمہوریت کے نام پر ووٹ لینے والے حکمران، میثاقِ آمریت کے مُترادف ،این ․آر․ او ،جیسے کالے قانون کے اجراء کا احسان اُتارنے کے لئے ،یزیدِ دوران کہلانے کے لائق، ایک ظالم آمر اور آئین شکن عسکری بلے کو"گارڈ آف آنر" پیش کرنے کے بعدفرار کا محفوظ راستہ دیتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں؛ صد حیف !وطنِ عزیز میں انصاف ، احتساب ، قانون اور آئین کی عملداری کے خواب دیکھنے والے مُحبِ وطن پاکستانی جب ملکی دولت اور عزت و وقار کا سودا کرنے والے اس قسم کے سابق آمروں یا مارشلائی بلوں کواپنے غیر ملکی آقاؤں کی آ غوش میں گُلچھرے اُڑاتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اُنکے حوصلے پستی کی انتہا کو چھونے لگتے ہیں اور اقوامِ عالم میں اپنی قوم کو سر بُلند دیکھنے کا اپنا خواب اُنہیں دیوانے کا خواب لگنے لگتا ہے؛ صورتِ حال جب اتنی گھمبیررہی ہو کہ3 نومبر2007 کو آئین ، پارلیمنٹ وز یرِاعظم، وفاقی اور چاروں صو بوں کی کا بیناؤں ،وزرائے اعلیٰ اور اسمبلیوں کی موجودگی میں 22 گریڈ کاایک خود سر جرنل ملک میں غیر آئینی ایمرجنسی نافذکرکے ملک کی سب سے بڑی عدالت کے تمام ججوں کو فارغ کر نے کے بعداپنے حاشیہ برداروں کو عدالتِ عظمیٰ میں بٹھانے میں کامیاب ہوجائے اور اُسکا، اُسکے اپنے بقول ،یہ غیر آئینی اور غیر قانونی حکم اُسکی جانشین جمہوری حکومت کے دور میں بھی نافذ العمل رہے؛ اِ ُس پر مُستزاد یہ کہ اُس کا ہٹا یا ہوا چیف جسٹس قوم کے پُرزور دباؤ کے باوجود ایک عدد خوفناک لانگ مارچ کے بعد اُس وقت ہی بحال ہو سکے جب موصوف کے اِس رُسوائے زمانہ غیر آئینی حکم کے زریعے تعینات ہونے والا چیف جسٹس اپنی مُدت، ملازمت پُوری کرکے ریٹائر ہو جائے، تو چودھویں اور اٹھارویں ترامیم کا معرکہ سر کرنے کے بعد بے وردی سیاستدانوں( اصطلاحی سیاسی چوہوں )کے اِن مُکرربڑھکوں پر کوئی عقل سے پیدل شخص ہی یقین کر سکتا ہے کہ ایسی نام نہاد تاریخی و متفقہ ترامیم کے زریعہ سے اُنہوں نے مارشلاء کے بلے کی گردن میں آئین کی گھنٹی باندھنے کا معرکہ سر کرلیا ہے، ٓئندہ ایسے کسی بد بخت کو جمہوریت اور آئین پر شب خون مارنے کی جرا ئت نہیں ہوگی" ؛ مگر صد حیف! زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ تا حال یہ معرکہ سر نہیں ہوا ہے ، کئی اور بے وردی سیاستدان ایسی کوشش کرکے خو کو اور اپنے خاندانوں کو نیب اور ایف۔

آئی․ اے جیسے اداروں کے ہاتھوں خوار کرا چُکے اور کرارہے ہیں ؛جب کے اپنے تجربہ کی روشنی قوم کے صاحبِ بصیرت یہ کہ کر ایسے بے بنیاد دعوے کرنے والوں کے کے ڈھول کا پول کھول کے رکھ دیتے ہیں کہ
سوبار آئین چہکا سوبار ترامیم آئی
آمریت کا وہی ٹہکا، جمہو ریت کی وہی رُسوائی
جب تک پاکستان کی ایک بڑی سیاسی پارٹی 1977 میں ایک عسکری بلے کے ہاتھوں اقتدار سے اپنی محرومی کے دن(5جولائی( جبکہ دوسری بڑی سیاسی پارٹی 1999 میں ایک ایسے ہی دوسرے بلے کے ہاتھوں اپنے ایوانِ اقتدار سے نکلنے کے دن (12اکتوبر) کو، الگ الگ، یومِ سیاہ کے طور پر مناتی رہے گی ؛ جب تک باوردی سیاستدانوں کو بے وردی سیاستدانوں میں سے دورِ حاضر کے نا م نہاد ،صادق الامین" میڈ ان پاکستان "جیسے ایجنٹ میسر آتیر ہیں گے اورجب تک عروس العباد کراچی سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی سابق تیسری بڑی سیاسی پارٹی عوام کی نمائندہ ہونے کے بُلنگ بانگ دعوء ں کے باوجود باوردی سیاسی بلوں کی گود میں بیٹھی نظر آتی رہے گیاور جب تک خلائی مخلوق یا مارشل بلے ، پسِ پردہ، مقتدر قوت یا سپیشل اینڈ لیٹنٹ "محکمہ زراعت" کی مدد سے تحریکِ انصاف جیسی پارٹیاں وجود اور حکومت میں آتی رہیں گیں، اِن باوردی سیاسی بلوں کی گردن میں آئین کی گھنٹی باندھنے کے سیاسی اصطلاحی چوہوں کی بڑھکیں عوام کی نظر میں دیوانے کی بڑھ سے زیادہ حیثیت حاصل نہیں کر پائیں گے؛ بقول اقبال
ہو صداقت کے لئے جس دل مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے
آمریت کے بلے کی گردن میں جمہوریت کی گھنٹی باندھنے کی یہی ایک قابلِ عمل صورت ہے جسکے تا م ِ تحریر دور دور تک سامان نظر نہیں آتے۔

۔۔ اللہ تعا لیٰ وطنِ عزیز کیجمہوریت اور جمہور کی حفاظت فرمائے۔۔۔آمین!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Amriyat K Billey Ki Gardan Main Aain Ki Ghenti Column By Syed Tansir Hussain, the column was published on 03 December 2020. Syed Tansir Hussain has written 12 columns on Urdu Point. Read all columns written by Syed Tansir Hussain on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.