میڈیاکمیشن کی سفارشات پرعملدرآمد کیس،عدلیہ کے لیے لیڈر شپ بہت مقدم ہے،

ہم سمجھنے کے لیے سوال کررہے تھے کہ اگر کوئی ایسا شخص پارٹی لیڈربن جائے تو کیا ہوگا اورکیاتا ثر جائے گا، ہم سوالات سمجھنے کے لیے اٹھاتے ہیں، کسی کو ٹارگٹ نہیں کرتے، لیکن ہماری باہمی بات چیت یا ریمارکس کو غلط رنگ دیا جارہا ہے،چیف جسٹس،ان گیارہ میڈیا ہاوسز کے ایڈریس پیش کئے جائیں جو اپنے ورکرز کو تنخواہیں نہیں دے رہے،ان کو نو ٹس جا ری کئے جا ئیں گے ،سپریم کورٹ

منگل فروری 23:07

میڈیاکمیشن کی سفارشات پرعملدرآمد کیس،عدلیہ کے لیے لیڈر شپ بہت مقدم ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 فروری2018ء) سپریم کورٹ نے میڈیاکمیشن کی سفارشات پرعملدرآمد کے حوالے سے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدالت پا رلیمنٹ کو قانون سازی کرنے کا نہیں کہہ سکتی، آئین عدلیہ کوصرف پارلیمنٹ کی منظورکردہ قانون سازی پر نظر ثانی کا حق دیتا ہے ، اورمقننہ کو آئین سے ہٹ کر کوئی اختیار حاصل ہے نہ وہ بنیادی حقوق کے خلاف کوئی قانون سازی کرسکتی ہے ،عدالت بار بار واضح کرچکی ہے کہ پارلیمنٹ سپریم مگرسب سے بڑی چیز آئین ہے، خداوندکریم اور آئین نے عدالت کو جوطاقت دی ہے اس کا نیک نیتی کے سا تھ پورااستعمال کیا جائے گا، منگل کوچیف جسٹس میا ں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے میڈیا کمیشن کی سفارشات پرعملدرآمد کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر درخواست گزار حامد میر،وفا قی سیکریٹری اطلاعات احمد نواز سکھیرا اور دیگرعدالت میں پیش ہو ئے تو چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کے لیے لیڈر شپ بہت مقدم ہے، ہم سمجھنے کے لیے سوال کررہے تھے کہ اگر کوئی ایسا شخص پارٹی لیڈربن جائے تو کیا ہوگا اورکیاتا ثر جائے گا، ہم سوالات سمجھنے کے لیے اٹھاتے ہیں، کسی کو ٹارگٹ نہیں کرتے، لیکن ہماری باہمی بات چیت یا ریمارکس کو غلط رنگ دیا جارہا ہے، جس پر حامد میرنے کہا کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں آپ ان کی باتوں پر توجہ نہ دیں ہم چاہتے ہیں کہ پیمرا حکومتی تسلط سے آزاد ہو ، چیف جسٹس نے کہاکہ ہم بالکل کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں میں بار بار کہہ چکا ہو ں کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، مگر پارلیمنٹ سے اوپر بھی ایک چیزہے جواس ملک کا آئین ہے،ہم قطعاً کمزور نہیں اورکوئی وضاحت نہیں دے رہے،نہ گھبرائیں گے ، تاہم جو طاقت اللہ نے آور آئین نے ہمیں دی ہے اس کا نیک نیتی کے ساتھ پورا استعمال کریں گے ، چیف جسٹس کاکہناتھاکہ ہم کوئی ریمارکس نہیں دیتے بلکہ سوال پوچھتے ہیںلیکن کیا سوال پوچھنا پارلیمنٹیرینز کی تضحیک ہے۔

، ہمیں انتظامیہ کے عمل اور بنیادی حقوق کو دیکھنا ہے کیونکہ عدالت قانون سازی کے جائزے کا اختیار رکھتی ہے، ہر ادارے کے لیے کچھ حدود مقرر ہیں، ہم نے ایک کیس میں چند سوالات پوچھے ہیں مقدمات میں تو سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور اٹھانے پڑتے ہیں لیکن میںکوئی وضاحت دے رہا ہوں ، نہ دینے کا پابند ہوں، اگر پوچھ لیا کہ فلاں شخص اہل ہے یا نہیں، کیا یہ سوالات پوچھ کر ہم نے پارلیمنٹ یا پارلیمنٹرینز کی توہین کرلی ، عدالت کے سوال معاملے کو سمجھنے کے لیے ہوتے ہیں، سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ میڈیا کمیشن کی کئی سفارشات پر عمل درآمد ہوگیا ہے اب صرف پیمرا کی حکومتی اثر سے آزادی کی سفارش پر عمل نہیں ہوا، قانون کے مطابق حکومت پیمرا کو ہدایت دے سکتی ہے جبکہ عدالت کو پالیسی کا جائزہ لینے کا مکمل اختیار حاصل ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ حکومت کے موقف سے ہٹ کر بیان دے رہے ہیں کیونکہ حکومت تو کہتی ہے کہ عدالت کو کوئی اختیار ہی نہیں ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ریگولائزڈ اداروں کو حکومتی اثر سے مکمل آزاد ہونا چاہیے جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے ہدایت دینے والا اختیار کبھی استعمال نہیں کیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پیمرا کے 12 میں سے 9 اراکین کو حکومت تعینات کرتی ہے جب اپنے ممبر لگا ئے جائیں تو حکومت کو ہدایت دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی،چیف جسٹس نے کہا کہ پیمرا آرڈیننس کا مقصد آزاد ریگولیٹری ادارے کا قیام تھا، دیکھنا یہ ہے کیا میڈیا کمیشن کی سفارشات حکومت کو قبول ہیں،درخواست گزار حامد میر نے کہا کہ حکومت ستمبر 2015 ء میں پیمرا کو آزاد کروانے کی یقین دہانی کروا چکی تھی جس پر عمل نہیں کیا جا سکا۔

عدالت کووفاقی سیکرٹری اطلاعات احمد نواز سکھیرا نے بتایا کہ پیمرا انتظامی طور پر مکمل آزاد ہے اور ہم گزشتہ یقین دہانی میں کچھ ترمیم کرنا چاہتے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ ممبران کی تعیناتی اور حکومتی ہدایات کے اختیار سے پیمرا خود مختار نہیں لگتا جس پر سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ حکومت نے آج تک ایک بار ہی پیمرا کو ہدایت جاری کی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ ہدایات ایک ہوں یا زیادہ، تعداد سے فرق نہیں پڑتا تاہم دیکھنا ہے کہ قانون میں تعصب کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں،سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ فیض آباد دھرنے کے دوران حکومت نے پیمرا کو ایڈوائزری پر عمل نہ کرنے پر چینلزکو بند کرنے کی ہدایت کی تھی،اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں چینلز کھلوانے کے لیے حکم جاری کرنے ہی والا تھا کہ رجسٹرار نے چئیرمین پیمرا سے بات کی توانھوں نے بتایا کہ 2 بجے چینلز کھول دیے جائیں گے ، چینلز بند کرنے کا کام پیمرا کا ہے حکومت کا نہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پیمرا ممبران کو آزاد اور قابل ہونا چا ہیے اور ممبران کی عدم تعیناتی کی وجہ سے کئی ریگولیٹری ادارے متاثر ہو رہے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ کئی تعیناتیاں حکومت نے ایسی کی ہیں جو قواعد کے مطابق نہیں، کئی تقرریوں میں عدالت کو اپنا اختیار استعمال کرنا پڑتا ہے،سیکریٹری اطلاعات کی جانب سے چئیر مین کی تعیناتی کے لیے اشتہار جاری کرنے کی بات پر چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ اشتہار میں عمر کی حد 61 سال کیوں لکھ دی گئی ہے ،سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ تعیناتی کی مدت چار سال ہے اورر یٹائرمنٹ پر چئیر مین کی عمر 65 سال ہو گی،چیف جسٹس نے کہا کہ پیمرا آئیڈیل آزاد ادارہ نہیں ہے، ہمیں بتایا جائے کہ پیمرا کو آزاد ادارہ بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں، اگر حکومت پیمرا کو آزاد نہیں کرتی تو ہم قانون کا جائزہ لیں گے، جس پرسیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ پیمرا کو آزاد با ڈی بنا نے کے لئے اس معاملے کو کابینہ میں لے جانا پڑے گا جس کے لیے ہمیں دو ہفتے کا وقت دیا جائے، سماعت کے دوران ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ گزشتہ 6 ماہ سے پیمرا اتھارٹی نامکمل ہے یہ بہت زیا دہ وقت ہے کہ ایک ادارہ سربراہ کے بغیر چل رہاہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے سیکرٹری انفارمیشن کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو دس روز کا وقت دیاجارہا ہے آٰپ ہدایات لیکرعدالت کو آگاہ کردیں ،یہ ادارہ آزاد ہو جائے جوشاید ابھی آزاد نہیں چیف جسٹس نے ایڈیشنل ا ٹارنی جنرل سے کہا کہ اس معاملے کو بھی کا بینہ کے آئندہ میٹنگ میں شامل کیاجائے ، بعد ازاں عدالت میں سابق چیر مین پیمرا ابصار عا لم پیش ہوکرکیس میں فریق بننے کی اجازت دینے کی استدعا کی تو حامد میر نے کہا کہ شا ید ابھی اخلاقی طور پر ان کو فریق بنانا درست نہ ہو گا تا ہم عدالت نے ابصار عا لم ، نذیر لغاری،سمیع ابراہیم سمیت دیگر صحافیو ں کو اس کیس میں فریق بنا نے کاحکم دیا ، کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے میڈیا ورکرز کا معاملہ اٹھاتے ہوئے پر یس ایسو سی ایشن آف سپریم کورٹ کے صدر طیب بلو چ کو ہدا یت کی کہ وہ ان گیارہ میڈیا ہاوسز کے ایڈریس پیش کر یں جو کہ اپنے ورکرز کو تنخواہیں نہیں دے رہے،ان کو نو ٹس جا ری کئے جا ئیں گے ، عدالت کو آر آئی یو جے دستورکے صدر مظہر اقبال نے پیش ہوکر استدعا کی ان کے پاس ان اداروں کی معلومات ہے جو ملازمین کو تنخواہیں نہیں دے رہے، چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ وہ با قاعدہ ا لگ پٹیشن داخل کر یں، ہم نے آئین کے آرٹیکل184/3 تحت یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہم پرا ئیویٹ ادا رے سے تنخواہوں کے معا ملے کو اس ارٹیکل کے تحت ٹیک اپ کر سکتے ہیں یا نہیں۔

بعدازاں مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔

متعلقہ عنوان :