عمران خان بتائیں انتخابات آگے جا سکنے کی بات کس نے ان کے کان میں ڈالی ،انتخابات ایک دن بلکہ ایک گھڑی آگے نہیں جانے دینگے ‘ نواز شریف

عمران ،زرداری خیبر پختوانخواہ اور سندھ کا پنجاب سے موازنہ کرلیں، سینیٹ کا چیئرمین اس شخص کو بنا دیا گیا جسے اپنا ہمسایہ بھی نہیں جانتا،انتخابات میں جس کے پاس (ن) کی ٹکٹ ہوگی اللہ کا کرم اس کیساتھ ہوگا اور وہی جیتے گا ، دل و جان سے ملک کی خدمت کی ،مخالفین جو مرضی تنقید کریں مجھے کوئی فرق نہیں پرتا ،مسلم لیگ (ن) کے قائد کا لاہور، ساہیوال، اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے اراکین اسمبلی ،سینیٹر پارٹی رہنمائوں ،ٹکٹ ہولڈرز ،بلدیاتی نمائندوں،پارٹی عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب

جمعہ مئی 21:32

عمران خان بتائیں انتخابات آگے جا سکنے کی بات کس نے ان کے کان میں ڈالی ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) سابق وزیر اعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان بتائیں کس نے ان کے کان میں یہ بات ڈالی کہ انتخابات مہینہ ،ڈیڑھ مہینہ آگے جا سکتے ہیں ،قوم سے وعدہ کرتا ہوں مہینہ ، ڈیڑھ مہینہ تو دور کی بات ہے ایک دن بلکہ ایک گھڑی انتخابات کو آگے نہیں جانے دینگے ، دل و جان سے ملک کی خدمت کی ،مخالفین جو مرضی تنقید کریں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پرتا ،،انتخابات میں جس کے پاس مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ ہوگی اللہ کا کرم اس کے ساتھ ہوگا اور وہی جیتے گا ، عمران خان اور آصف علی زرداری آئیں اور خیبر پختوانخواہ اور سندھ کا پنجاب سے موازنہ کریں کہ کون آگے ہے ، سینیٹ ملک کا سب سے معتبر ادارہ ہے لیکن اس شخص کو چیئرمین سینیٹ بنا دیاگیا جسے اپنا ہمسایہ بھی نہیں جا نتا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور،، ساہیوال، اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے اراکین اسمبلی ،سینیٹر پارٹی رہنمائوں ،ٹکٹ ہولڈرز ،،بلدیاتی نمائندوں،پارٹی عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ، مریم نواز،، حمزہ شہباز ،برجیس طاہر،،خواجہ سعد رفیق،، رانا تنویر حسین ، اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال، وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان، ڈپٹی اسپیکر سردار شیر علی گورچانی، پرویز رشید،، پرویز ملک ،راجہ اشفاق سرور، ملک ندیم کامران، رانا ارشد سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔

اس موقع پر شرکاء نے اپنی قیادت کے حق میں نعرے بھی لگائے ۔۔مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے کہا کہ ہم سچ کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ،ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ، ہم نے 28جولائی کا فیصلہ سن لیا ہے ،عملدرآمد بھی کر دیا ہے۔ انہوں نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کھڑے ہوں گے تو آپ کا مقدر آپ کا ساتھ دے گا ، ہمیں سچ پر کھڑے ہونا ہے ، اگر میں اپنے ضمیر کی آواز کے برعکس فیصلہ کرتا تو میں انصاف نہ کرتا بلکہ یہ سخت نا انصافی ہوتی ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دل و جان سے ملک کی خدمت کی ہے اور اس پر ناز ہے،مخالفین جو مرضی تنقید کریں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پرتا ۔ ہمارا ٹریک سب کے سامنے ہے اور بہت اچھا ہے ۔ پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا موصوف داخل ہو گیا ہے جس نے دھرنوں، منافقت، جھوٹ ، پگڑیاں اچھالنے ، اوئے توئے کے سوا کچھ نہیں کیا ۔ اگر آپ نے کام کیا ہوتا تو خیبر پختوانخواہ اپنے منہ سے بول رہا ہوتا ، آپ نے خیبر پختوانخواہ والوں کاسر بھی شرم سے جھکا دیا ہے ، ہم نے خیبر پختوانخواہ میں جلسے کئے ہیں اگر آپ نے کچھ کیا ہوتا او ر لوگوں کو مایوس نہ کیا ہوتا تو وہ لوگ ہمارے جلسوں میں نہ آتے ، لوگ الحمد اللہ مسلم لیگ (ن) کی تلاش میں جلسوں میں آرہے ہیں او رمیں یقین سے کہتا ہوں کہ اللہ کے کرم سے آئندہ مسلم لیگ (ن) خیبر پختوانخواہ میں بھی کامیاب ہو گی ۔

انہوں نے کہا کہ موازنہ کام کے معیار ہوتا ہے ۔ پشاور کا لاہور سے موازنہ کیا جائے ، خیبر پختوانخواہ کا پنجاب سے موازنہ کیا جائے توپتہ چلے کون آگے ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ نیا پاکستان بنانے جارہے تھے لیکن پہلے کا بھی برا حال کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی والے آئیں دیکھیں کراچی اور لاہور میں سے کون آگے ہے ، سندھ کا پنجاب سے موازنہ کر لیں ۔

ہم بلوچستان میں کام کرنا چاہتے تھے لیکن ہمیںکام نہیں کرنے دیا گیا۔ وہاںجو تبدیلی آئی ہے وہ ان نیچرل ہے کوئی بھی پاکستانی اس تبدیلی کی تعریف نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے شخص کو چیئرمین سینیٹ بنا دیا گیا جسے اس کا ہمسایہ بھی نہیں جانتا ۔ سینیٹ پاکستان کی سب سے بڑی باڈی ہے ، پاکستان کے سب سے بڑے اور معتبر ادارے کے ساتھ یہ سلوک کیا گیاہے ، کس نے آپ کو یہ مت دی ہے ۔

اس سوال کے اندر جانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں اربوں روپے چلے ہیں ، عمران خان کے اپنے لوگ بکے ہیں اور پھر تیر کے نشان پر مہر لگائی گئی ۔۔عمران خان کو قوم کو جواب دینا پڑے گا ، انہوں نے کہا کہ عمران خان بتائیں انہیں کس ووٹ دینے کا کہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتے تھے میں زرداری سے ہاتھ نہیں ملائوں گا ، شکل نہیں دیکھوں گا ، جہاںزرداری آئے گا میں وہاں نہیں بیٹھوں گا لیکن پھر سب نے دیکھا کہ مال روڈ پر یہ دونوں ایک اسٹیج پر بیٹھے ، یہ الگ بات ہے کہ کوئی گھنٹہ پہلے او رکوئی گھنٹہ بعد میں آیا لیکن یہ سب باہمی مشاورت سے طے ہوا ۔

عمران خان اور آصف زرداری نے ایک ہی مقام پر شرکاء سے خطاب کیا ۔ یہ کیا منافقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں لیکن قوم اب ان کے دھوکے میں نہیں آئیگی ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اصول لے کر نکلے تھے انہوں نے ملک کو نیا کلچر دیا ہے ، وہ کلچر جسے دیکھ کر شرم آتی ہے ، پاکستانی قوم نے ان کا کردار دیکھ لیا ہے اس پر پاکستانی قوم کو شرم آتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ انتخابات مہینہ ، ڈیڑھ مہینے آگے جا سکتے ہیں وہ تو جمہوریت کی بات کرتے ہیں پھر انہیں کس نے یہ کہا ہے ، کس نے ان کے کان میں یہ بات ڈالی ہے ، کس نے انہیں یہ درس دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان تو کہتے تھے کہ میں ڈٹ جائوں گا کہاں گیا ان کا ڈٹ جانا ۔ اگر کوئی ڈٹا ہوا ہے تو وہ لوگ میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں ، ہم مقابلہ کریںگے ۔

انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اللہ کا شکر ہے ، میں اللہ سے ڈر کر بات کرتا ہوں کہ مقابلہ تمہارے ساتھ نہیں ہے ، زرداری صاحب سے بھی نہیں بلکہ کسی اور کے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیں ضرور فتح سے ہمکنار کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ ایک بڑی وکٹ گرنے والی ہے اور خواجہ آصف کی وکٹ گر گئی بلکہ یہ گرائی گئی ہے۔

یہ سب کس نے کیا تھا ۔ یہ سوالات پوچھنے والے ہیں جب تک ان کا جواب نہیں ملتا ہم ان کا پیچھا نہیں چھوڑنگے ۔ نواز شریف نے کہا کہ ستر سالوںمیں بہت کچھ ہو چکا ہے یہ ہم آئندہ نہیں ہونے دیں گے ۔ میں آپ کے ساتھ اور آپ میر ے ساتھ وعدہ کریں ہم اپنے اللہ کے سامنے قوم کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں کہ ایک دن تو دور ایک گھڑی بھی انتخابات کو آگے نہیں جانے دیں گے ، لڑیں گے ، پاکستان کے عوام جس جذبے میں ہیں وہ کھڑے ہو جائیں گے ۔

انہوں نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دوبارہ منتخب کرے گا ، آپ نے نوجوانوں اور پاکستانی قوم کی خدمت کرنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب میں وزیر اعظم تھا تو میں نے کہا تھاکہ اپنے گھر کو سنبھالو ، اس کی خبر لو ، ہم نے دہشتگردی ہر لحاظ سے ختم کرنی ہے، لیکن ڈان لیکس بنا دیا گیا ، کیا وجہ ہے کہ دنیا ہماری بات سننے کو تیار نہیں ۔

ہماری فوج کے افسران ،جوان ، پولیس کے افسران ،جوان ، عوام ، انتظامیہ کے لوگوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں لیکن پھر بھی دنیا کیوں ہماری نہیں سنتی ۔ چین ہمارا آزمایا ہوا دوست ہے اس نے بھی کہا کہ اپنے گھر کو ٹھیک کریں ، اس کی بات سننی چاہیے ۔ انہوںنے کہا کہ کیا میٹرو ٹرین حکومت یا مسلم لیگ (ن) کی ذاتی ٹرین ہے ۔

نواز شریف نے کہا کہ ایک شخص کا کیس تھا وہ پیش بھی نہیں ہوا ، اس پر فرد جرم بھی عائد نہیں ہوئی لیکن وہ بری ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ جن کوبری نہیں ہونا چاہیے تھا وہ بری ہو گئے اور جنہیں بری ہونا چاہیے تھا انہیں نا اہل کر دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر 20،25ارب ڈالر سے کم ہو کر 11ارب ڈالرتک آ گئے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیںنواز رہا ہے ، تین مہینے باقی ہیں اللہ ہمیں اور بھی نواز ے گا ۔

جس کے پاس (ن) کی ٹکٹ ہو گی اللہ کا کرم اس کے ساتھ ہوگااور وہی منتخب ہوگا ۔ انہوںنے کہا کہ میرے ساتھ جو گزر رہی ہے وہ تو گزر ہی رہی ہے میں برداشت کر رہا ہوں ، زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں لیکن میں سر نہیں جھکائوں گا ۔انہوںنے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے حلقے کے لوگوں کو حقائق سے آگاہ کریں ۔ میں ، شہباز شریف ، حمزہ ، مریم سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختوانخواہ جائیں گے ، پنجاب کے مختلف مقامات پر بھی جائیں گے۔ عوام کے اندر جذبہ پیدا ہو رہا ہے ،2018ء میں عوام (ن) لیگ کے ٹکٹ ہولڈرز کو ووٹ دیں گے۔ انہوںنے کہا کہ عمران خان قلا بازیاں کھا رہا ہے ، عوام جھوٹ اور منافقت کو آئندہ ووٹ نہیں دیں گے۔