نواز شریف کا مسئلہ عمران خان اور عمران خان کا مسئلہ نواز شریف ہیں ،ْ ان دونوں کا مسئلہ اقتدار ہے ،ْبلاول بھٹوزرداری

چھوٹے صوبوں کو کالونی سمجھنے والوں کی بدمعاشی نہیں چلنے دیں گے ،بلوچستان سے دہشتگردی ختم کرنی ہے تو سیاست کو فروغ دینا ہوگا ،یہی بلوچستان کے مسئلے کا مستقل حل ہے ،بلوچستان میں مینڈیٹ ملا تو ساحل وسائل پر اختیار، پینے کا پانی، صحت ، تعلیم روزگار کی سہولیات فراہم کریں گے،بلاول بھٹو زرداری کا جلسہ عام سے خطاب

جمعہ مئی 22:40

نواز شریف کا مسئلہ عمران خان اور عمران خان کا مسئلہ نواز شریف ہیں ،ْ ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) پا کستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نواز شریف کا مسئلہ عمران خان اور عمران خان کا مسئلہ نواز شریف ہیں اور ان دونوں کا مسئلہ اقتدار ہے ،چھوٹے صوبوں کو کالونی سمجھنے والوں کی بدمعاشی نہیں چلنے دیں گے ،جنہوں نے کسی اپنے کو نہ کھویا ہو انہیں کیا پتا کہ اپنوں کو کھونے کا دردکیا ہوتاہے ،دہشتگردی کے خاتمے کے دعوے کئے جاتے ہیں مگر ہزارہ برداری کی لاشیں گرنے اور مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کا سلسلہ جاری ہے ،،بلوچستان سے دہشتگردی ختم کرنی ہے تو سیاست کو فروغ دینا ہوگا ،یہی بلوچستان کے مسئلے کا مستقل حل ہے،جو لوگ بات چیت کی طاقت سے واقف نہ ہو ں اور میڈیا کی ہیڈ لائن کے سہارے سیاست کرتے ہو ں انہیں کیا پتہ کہ جب آپ کسی سیاستدان کے گھر جاکر اسے عزت دیتے ہیں ،اسے اپنی نظریات سے قائل کرتے ہیں تو مرضی کے نتیجے آتے ہیں،،بلوچستان میں مینڈیٹ ملا تو ساحل وسائل پر اختیار، پینے کا پانی،، صحت ، تعلیم روزگار کی سہولیات فراہم کریں گے ۔

(جاری ہے)

یہ بات انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ کے ہاکی گرائونڈ میں پا کستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے زیراہتمام جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہی ،،بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں مظلوم خاندان کا بیٹا ہوں مجھے معلوم ہے جب کوئی اپنا جاتا ہے کو کلیجا کیسے پھٹتا ہے ،ہمیںشہیدوں کے نام پر سیاست کر نے کا طعنہ دیا جاتا ہے جس کا کوئی اپنا مرتا ہے اسے بھلایا نہیں جا سکتا ہم اپنے ہزاروں شہداء کو نہیں بھول سکتے ہمارے سیاست کی بنیاد شہیدوں کے خون سے وفا ہے ہم ضیاء دور کی آمریت میں پھانسی گھاٹ پر جانیوالے جیالوں کو ،کارساز کے شہداء ،مظلوم طبقے کی ماں ،،اے پی ایس کے بچوں ،،گلشن اقبال پارک ،سول ہسپتال کے شہداء کو جنہوں نے ملک کی مٹی کیلئے اپنا خون دیا کو کسی صورت نہیں بھولیں گے ،انہوں نے کہاکہ ہم شہداء کے لہو کو فراموش نہیں کرسکتے ہیں ،جن لوگوں کو کوئی گیا نہیں وہ کیا جانیں کہ درد کیا ہوتاہے ،انہیں کیا پتہ کہ کسی اپنے کو کھونے کا احساس کیا ہوتاہے انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پر عملدرآمد ہو یا نہ ہو نام نہاد سیاستدانوں کو کیا فکر کیونکہ ان کا کچھ گیا ہے یہ انکا مسئلہ نہیں یہ ہمارا مسئلہ ہے کراچی سے فاٹا اور ژوب سے گلگت تک ہم نے لاشیں اٹھائی ہیں جب تک نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہوتا ہم اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے ،انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا گیا اپنوں کو قتل کیا گیا اور سینکڑوں افراد کو لاپتہ کیا گیا ،اور دعوی کیا جاتاہے کہ ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہوگیا کیا یہ دہشتگردی کا خاتمہ ہے کہ ہزارہ برادری کے افراد مر رہے ہیں ،خضدار اور مستونگ سے مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں،اور جب تک بہادر بیٹیاں بھوک ہڑتا ل نہ کریں تب تک ان مسائل کی طرف کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا،،بلاول بھٹو زرادری نے کہا کہ نواز شریف کا مسئلہ عمران اور عمران خان کا مسئلہ نواز شریف ہیں اور ان دونوں کا مسئلہ صرف اقتدار ہے اگر کسی کے نزدیک کوئی مسئلہ نہیں ہے تو وہ سڑکوں پر تڑپنے والی لاشوں کا ہے ،،لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں کی بات کون کرے گا ،،پاکستان کے نام نہاد سیاستدانوں کو اقتدار کے علاوہ کسی کی پرواہ نہیں ہے ،انہوں نے کہا کہ بلوچستان ،خیبر پختونخوا ،جنوبی پنجاب کو دیوار سے لگا کر سیاست کا میدان صرف وسطی پنجاب کو بنانے کی کوشش ہورہی ہے،یہ پاکستان پیپلز پارٹی نہیں ہونے دیگی ،اسلام آباد میں بیٹھ کر چھوٹے صوبوں کو اپنی کالونی سمجھنے والی ذہنیت یہ جان لے کہ جی ٹی روڈ کو سیاست کا مرکز بنانے کی جتنی بھی ناکام کوشش کی جائے ہم اسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے ایسا کرنے سے مزید محرومیاں بڑھیں گی ،انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے 18ویں ترمیم کو پس پشت ڈال کر ہمارے حقوق کو غضب کرنے کی کوشش کی ،ہمیں این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا جارہاہے ،وسائل پر قبضہ کیا جارہاہے ،اور پھر سندھ ،،بلوچستان ،خیبر پختونخوامیں جاکر ہماری محرومیوں کا مذاق اڑاتے ہیں ،ہمیں غریب رکھ کر ہماری غربت ،ہمیں پسماندہ رکھ کر ہماری پسماندگی ،ہمیں تعلیم سے محروم رکھ کر جہالت کا طعنہ دیتے ہو،،زخمی کرتے ہو ،،قتل کرتے ہو ،ہمیں رونے کا طعنہ دیتے ہو،ہم یہ طعنے نہیں سنیں گے ،18ویں ترمیم کے بعد ملنے والے ہمارے حقوق ہمیں دوں ،ہمیں وسائل پر ملکیت این ایف سی ایوارڈ دوں ، انہوں نے کہا کہ جب ہمیں وفاق میں اقتدار ملا تو ہماری پہلی ترجیح بلوچستان تھی آج تک کوئی نہیں کہہ سکتا کہ پیپلز پارٹی نے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کیساتھ زیادتی کی یہی وفاق کی جماعت ہوتی ہے جو سب کو ساتھ لیکر چلتی ہے ،7ویں این ایف سی ایوارڈ سے پہلے بلوچستان کو 45ارب روپے ملتے تھے ہمارے دور میں یہ رقم 114ارب رتک پہنچی ،،پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعد صوبوں کو کوئی این ایف سی ایوارڈ نہیں مل سکا ،18ویں ترمیم کے بعد نیا این ایف سی ایوارڈ اور بھی ضروری ہوگیا ہے کہ ملک اس وقت عبوری این ایف سی ایوارڈ پر چل رہاہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی نام نہاد قوم پرست سیاسی جماعتیں میاں نواز شریف کیساتھ اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہیں انہیں بلوچستان کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ،،پیپلز پارٹی نے بلوچستان کی محرومیاں ختم کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی ،2013ء میں بلوچستان کا سرپلس بجٹ تھا پھر بھی سابق صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان سے معافی مانگی ،ہم نے بلوچستان سمیت چھوٹے صوبوں کی خودمختاری کا مسئلہ حل کیا ،انہوں نے کہا کہ عمران خان پہلے سے مضبوط وفاق کو مزید مضبوط کرنے کے نقطے پیش کررہے ہیں ،،بلوچستان کے نوجوانوں کے حقوق چھین کر اگر وفاق کو مزید مضبوط کیا گیا تو یہ پاکستان کیساتھ ناانصافی ہوگی ،،عمران خان صاحب کے نزدیک اگر وفاق کی مضبوطی سے یہ مراد ہے کہ 56سال سے وفاق بلوچستان میں گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کے 120ارب روپے دبائے بیٹھا تھا تو ہم ایسی مضبوطی نہیں چاہتے یہ وفاق کی مضبوطی نہیں ،وفاق کے نام پر چھوٹے صوبوں کو کالونی سمجھنے والوں کی بدمعاشی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی ملک میں کسی کو بدمعاشی نہیں کرنے دے گی ،انہوں نے کہاکہ ہم نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ساڑھے 9لاکھ خواتین کی مدد کی ،سیندک کا 20فیصد بلوچستان کو دیا ،سینکڑوں میل سڑکیں بنائی ،سوئی اور کوہلو میں کنٹونمنٹ بننے سے روکی ،انہوں نے کہاکہ چوکیاں وقتی طورپر امن تو لاسکتی ہیں مگر یہ مستقل عمل کی ضامن نہیں ،جب ضرورت پڑھے تو ہمیں گولی کا جواب گولے سے دینا آتاہے ،،بلوچستان میں امن کیلئے جان قربان کرنیوالوں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو سلام پیش کرتاہوں ،،پیپلز پارٹی جانتی ہے کہ ملک کیلئے جان قربان کرنا کیا ہوتاہے ،انہوں نے کہاکہ یہ بلوچستان ہے شام نہیں ،سیاست دان یہاں کا مسئلہ حل کرسکتے ہیں جب سیاست ختم ہوتی ہے تو شرپسندی شروع ہوتی ہے ،،بلوچستان سے دہشتگردی ختم کرنی ہے تو سیاست کو فروغ دینا ہوگا ،یہی بلوچستان کے مسئلے کا مستقل حل ہے،ہر سچا سیاسی کارکن اپنے علاقوں میں شرپسندوں کا مقابلہ کرتاہے بلوچستان کے سیاستدانوں نے 2008اور 2013کے عام انتخابات میں شرپسندوں کو چلینج کیا ،عام انتخابات میں امیدواروں کو نشانہ بنایا گیا ،،بلوچستان میں دہشتگردی اور بم کے گولے تھے مگر اسکے باوجود سیاستدان جان ہتھیلی پر رکھ کر الیکشن کیلئے کھڑے ہوئے ،،بلوچستان کے ووٹرزکو سلام پیش کرتاہوں کہ جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر شرپسندی کا جواب دیاانہوں نے کہاکہ جب علمدار روڈ کا سانحہ ہوا تو ہم نے اپنی حکومت برطرف کرکے یہ پیغام دیا تھا کہ ہم میں ہی وہ اخلاقی جرات جو ایک وفاقی جماعت میں ہوتی ہے ،مگر جب سانحہ سول ہسپتال ہوا تو فوری طورپر کسی نے آنے کی زحمت نہیں کی ، میاں نواز شریف اور عمران خان دونوں پیپلز پارٹی کی سیاسی منصوبہ بندی اور ترقیاتی کاموں پر اپنی تختیاں لگا کر چیمپئن بننے کی کوشش کرتے ہیں ،غضب خداکا کہ نواز شریف نے سی پیک کے کریڈٹ کو پیپلز پارٹی سے اغواء کرنے کی کوشش کی اور صرف یہی نہیں مغربی روٹ بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی تاکہ بلوچستان کو سی پیک کے فوائد سے محروم کردیا جائے ،افسوس کی بات ہے کہ سی پیک لاہور میں تو نظر آتاہے مگر کوئٹہ میں نہیں ،میاں صاحب کو تو 2013ء کی الیکشن مہم میں سی پیک کا ذکر ہی یاد نہیں تھا اور وہ زرداری صاحب کو چین جانے کے طعنے دیتے تھے ،ہم اسی منصوبے کیلئے چین جاتے تھے ،میاں صاحب کو صرف اپنی پی آر بڑھانے کا موقع چاہیے ،انہوں نے کہاکہ ہم نے تھر میں 70فیصد مقامی آبادی کو روزگار دیا ،،تھر کی خاتون کو اتنا طاقتور بنایا کہ وہ آج وہ ڈرائیور سے لیکر انجینئر تک کام کررہی ہیں پینے کے پانی کے 7سو آرو پلانٹ لگائے اسے ویژن اور پالیسی کہتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا کہ ہم نے کسی کے اشارے پر بلوچستان حکومت گرائی اور سینیٹ انتخابات میں خرید وفروخت کی،جن لوگوں نے سیاست نہ کی ہو جو لوگ بات چیت کی طاقت سے واقف نہ ہو ں اور جو میڈیا کی ہیڈ لائن کے سہارے سیاست کرتے ہو ں انہیں کیا پتہ کہ جب آپ کسی سیاستدان کے گھر جاکر اسے عزت دیتے ہیں ،اسے اپنی نظریات سے قائل کرتے ہیں تو مرضی کے نتیجے آتے ہیں اور بلوچستان حکومت سے لیکر سینیٹ انتخابات تک پیپلز پارٹی نے یہی کیا مگر گملے میں اگنے والے سیاستدانوں کو یہ بات کبھی سمجھ میں نہیں آئے گی ،،نواز شریف کا تجربہ قوم پر مسلط کیا گیا بتائو کیا ملا یہ عمران خان نواز شریف کا ہی تسلسل ہیں،ملک کوئی لیبارٹری نہیں جہاں گملے میں اگنے والے سیاستدانوں کو ایک کے بعد ایک تجربہ کیا جائیگا ،انہوں نے کہاکہ 2018ایک موقع ہیں یہ موقع ان لوگوں کو دوں جنہوں نے بلوچستان کے مسائل کے حل کرنے کو ہمیشہ ترجیح دی نہ کہ ان لوگوں کو منتخب کروں جو بلوچستان کو کالونی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ تاریخ گواہ ہے کہ پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت تھی جس نے بلوچستان کے مسائل حل کرنے کو ہمیشہ ترجیح دی اگر عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو منتخب کیا تو میں وعدہ کرتاہوں کہ سی پیک کے وہ فوائد بلوچستان کے عوام کا حق ہے وہ آپ کو ملیں گے ،آپکے وسائل پر دوسرے کے محل تعمیر نہیں ہونے دیں گے ،آپ کے لوگوں کو روزگار کے مواقع ،گوادر ،سی پورٹ معیاری اور مفت صحت کی سہولیات دیں گے ،ہم شوباز شریف کی طرح دل کے ہسپتال بنانے کے اعلان اور عمران خان کے مفت علاج کے جیسے دعوے نہیں کرینگے ،ہم عملی طورپر یہ تمام اقدامات کریں گے ،،کوئٹہ ،ڈیرہ بگٹی ،نوشکی میں جگر ،کینسر ،گردے اور امراض قلب کے بڑے ہسپتال بنائیں گے ،بڑی بڑی باتیں سب کرتے ہیں ہم کام کرکے دکھائیں گے ،حکومت میں آئے تو بلوچستان کے لوگوں کو علاج کیلئے سندھ جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی انہوں نے کہاکہ دوسرے غربت ختم کرنے کی باتیں کرتے ہیں انکے پاس نہ تو کوئی پروگرام ہے نہ نیت ہم نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سندھ میں بلاسود قرضے دیئے جن سے لاکھوں لوگ مستفید ہورہے ہیں ایسے ہی اقدامات بلوچستان میں بھی کرینگے ،انہوں نے کہاکہ محرومیاں دور کرنے کا سلسلہ جو ٹوٹ گیا ہے پیپلز پارٹی اسے دوبارہ شروع کرے گی ،ہم دل جوڑنے والے ہیں توڑنے والے ہیں ،سونے ،تانبے ،گیس ،نوکریوں ،گوادر ،،سی پیک پر پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہوگا میں آپ کو تعلیم ،روزگار،،پانی ،صحت کا نظام دوں کا مگر یہ سب عوام کی مدد کیساتھ ممکن ہیں عوام مجھے مضبوط کریں اور میری مدد کریں تب ہی میں عوام کو مضبوط کرسکتاہوں ۔