سندھ اسمبلی نے استحصال کشمیر سے متعلق ایک قرارداد متفقہ طورپر منظور کرلی

منگل 5 اگست 2025 22:57

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 اگست2025ء)سندھ اسمبلی نے منگل کو استحصال کشمیر سے متعلق ایک قرارداد متفقہ طورپر منظور کرلی جو صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار نے پیش کی تھی ۔ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے پاکستان کے اس دیرینہ موقف کا اعادہ کیا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور بھارت کی غاصب حکومت نے آج کے دن مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی جو کوشش کی تھی اس کا یہ اقدام سراسر غیرقانونی اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تھا جس کی سندھ اسمبلی بھرپور مذمت کرتی ہے۔

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ میں اس قرارداد کی حمایت کرتا ہوں ،مودی حکومت نے اپنے شہریوں اور کشمیریوں سے غداری کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یوم استحصال کشمیر کے موقع پرہمیں آج ایک بار پھر یہ عہد کرنا ہے کہ ہندوستانی فوج نے کشمیریوں کی جو آزادی سلب کی ہوئی ہے اس کے خلاف ہم ہر سطح پر موثر آواز بلند کریں گے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میری جماعت کے بانی شہید بھٹو نے دنیا بھر میں بھرپور طریقے سے کشمیریوں کے لئے آوازبلندکی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نیند میں بھی کشمیر کے حوالے سے غلط فیصلہ نہیں کر سکتا ۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی ہمیشہ کشمیر کے مسئلے کو دنیا میں زندہ رکھا اور موجودہ صدر مملکت آصف زرداری نے ہر فورم پر کشمیر کا معاملہ اٹھایا ۔اسی طرح بلاول بھٹو نے بھی ہر فورم پر کشمیریوں کے حقوق کی بات کررہے ہیں۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ بھارت نے مئی میں کوشش کی تھی کہ آزاد کشمیر پر حملہ کیا جائے لیکن ہماری بہادر مسلح افواج اور پوری قوم نے مل کر ایک موثر جواب دیا اور معرکہ حق میں انکے جہاز گرائے انکے ائیر فیلڈ تباہ کیں اور کچھ گھنٹوں میں بھارت کو سیز فائر کے لئئے امریکہ کی مدد لینا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت حریت پسندکشمیر ی عوام کی آواز نہیں دبا سکتا۔ ہم اپنے کشمیر کی عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ سندھ کہ عوام و حکومت انکے ساتھ ہیں اوربھارت کے ظلم کی مذمت کرتے ہیں۔وزیر اعلی سندھ نیغزہ میں اسرائیلی مظالم کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ہم پوری دنیا سے اپیل کرتے ہیں اسرائیل کے ظلم کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ اس موقع پرسندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود، متحدہ قومی موومنٹ، تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتوں نے ایک آواز ہو کر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو روندتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، جو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی تھی اس کے خلاف آج دنیا بھر میں یومِ استحصالِ کشمیر منایا جا رہا ہے تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے۔انہوں نے کہا کشمیر جیسے متنازعہ خطے میں، جہاں بھارت آج تک انتخابات نہیں کروا سکتا، وہاں پر لوگوں کے حقوق کی پامالی، بدترین، انسان دشمن پالیسی نریندر مودی اور بھارتی حکومت کی ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بھارتی فوج برسوں سے مقبوضہ کشمیر میں بیہمانہ طریقے سے معصوم لوگوں کو تشدد کا نشانہ بناتی آرہی ہے، ، ہزاروں نوجوان کشمیری آزادی کے لئے جام شہادت نوش کر چکے ہیں، تمام اقوام متحدہ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروائیں، اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلانے میں کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 15 سال کی عمر میں ہی قائداعظم کو خط لکھ کر کشمیر پر بھارتی جارحیت کی نشان دہی کی تھی، اور بعد ازاں اقوامِ متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر اس مسئلے کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو کا واضح مو قف تھا کہ کشمیر کے مسئلے پر وہ کبھی غلطی نہیں کریں گے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا، صدر آصف علی زرداری اور وزیر خارجہ کی حیثیت سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے کردار پر بات کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بلاول نے عالمی سطح پر بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا۔

انہوں نے "گجرات کا قصاب، کشمیر کا بھی قصاب ہی" جیسے جرات مندانہ بیانات دیے، جس پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان کے سر کی قیمت مقرر کر دی۔ اس کے باوجود بلاول بھٹو بھارت گئے اور کشمیر کا مقدمہ وہاں بھی دہرایا۔ اپوزیشن لیڈرعلی خورشیدی نے قرارداد کے حق میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن منانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ دنیا کو بھارت کا چہرہ دکھایا جاسکے ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا ہوا ہے ،کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف بڑا واضح ہے ،ہم کشمیر کا مقدمہ بین الاقوامی فورمز پر لڑ رہے تھے اور لڑتے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیر کی سیاسی و اخلاقی حمایت بھی جاری رکھیں گے اور جدوجہد آزادی میں جو کشمیری شہید ہوئے ہیں انہیں یہ ایوان خراج تحسین پیش کرتا ہے ۔

پیپلز پارٹی کے رکن جمیل سومرونے کہا کہ پیپلز پارٹی کی بنیاد کشمیر کے مسئلہ وجہ سے پڑی ہے ،یہ جماعت 1967 میں بنی اور کشمیر کے مسئلے پر ہماری جماعت کبھی خاموش نہیں رہ سکتی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ 5 اگست سے پہلے کا کشمیر کا اسٹیٹس واپس کیا جائے اور انکو حق خود ارادیت دیا جائے۔ ایم کیو ایم کی رکن فوزیہ حمیدنے کہا کہ ہماری جماعت کشمیریوں پرمظالم کی مذمت کرتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وہ دن اب دور نہیں جب کشمیریوں کو انکا حق مل کررہیگا۔ پیپلز پارٹی کے سکندر شورو نے اس قرارداد کی بھرپور حماکت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیرہماری قومی شہ رگ ہے اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ وزیر تعلیم سردار شاہ نے کہا کہ کشمیر میں مسلمان اکثریت میں تھے، پرنس ہندو تھا انڈین فورسز نے وہاں زبردستی قبضہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم آج تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ یپلز پارٹی نے کشمیر پر ہمیشہ سخت موقف اپنایا ہے ۔ سردار شاہ نے کہا کہ پہلگام واقعہ پر انکا ہوم منسٹر کہتا ہے کہ یہ پلانٹ کرکے بھارت نے کروایا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا کشمیر پر کسی طرح بھی کوئی حق نہیں بنتا اس نے وہاں زبردستی قبضہ کررکھا ہے۔بعدازاں سندھ اسمبلی نے یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی جس کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔ واضح رہے کہ سندھ اسمبلی میں پیر کو یوم استحصال کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی اور بھارتی مظالم پر احتجاج کے باعث ایجنڈے کی تمام کارروائی معطل کرکے یہ قراردادمنظور کی گئی۔