آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ اگست2019ءتا جون2021ء

Icc World Test Championship Starts

ٹیسٹ چیمپئن شپ اگست2019ءتا جون2021ءتک کھیلی جا ئے گی، 9 ٹاپ ٹیسٹ ٹیمیں حصہ لیں گی

Arif Jameel عارف‌جمیل ہفتہ اگست

Icc World Test Championship Starts
ایشز ٹیسٹ سیریز2019ءکے ساتھ ہی آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا یکم اگست کو آغاز ہو گیاہے ۔لیکن دلچسپ یہ ہے کہ عالمی کپ2019ءختم ہو ئے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا اور ابھی اُس ایونٹ کی ناقص امپائرنگ کی باز گشت جاری تھی کہ ٹیسٹ کے نئے فارمیٹ کے پہلے ہی دن امپائرز نے7غلط فیصلے کر ڈالے۔ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ: آئی سی سی ایک روزہ انٹرنیشنل عالمی کپ 2019ءکے متنازع اختتام کے بعد ابھی ایونٹ کے راﺅنڈ میچوں اور خصوصاً فائنل میچ کی امپائرنگ پر اُٹھنے والے سوالوں کے درمیان اچانک آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ اگست2019ءتا جون2021ءکا اعلان دُنیا کرکٹ میں ایک ٹھندی ہوا کا جھونکا سمجھا جا ر ہا ہے۔

کیونکہ بعض سابقہ و موجودہ شہرت یافتہ کرکٹرز عالمی کپ2019ءکے معاملات پر نالاں و مایوس نظر آرہے تھے ۔

(جاری ہے)

آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ اگست2019ءتا جون2021ءتک کھیلی جا ئےگی جس میں 9 ٹاپ ٹیسٹ ٹیمیں حصہ لیں گی۔آسٹریلیا،انگلینڈ،پاکستان ،بھارت،سری لنکا ، بنگلہ دیش ،نیوزی لینڈ ،جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز۔ اس 2سال پر محیط چیمپئین شپ کا فارمیٹ کچھ اسطرح ترتیب دیا گیا ہے: ﴿ دنیائے کرکٹ کی 9 ٹیسٹ ٹیمیں حصہ لیں گی۔

﴿ 27سیریز کھیلی جائیں گی جس میں مجموعی طور پر72ٹیسٹ میچوں کامیدان سجے گا۔ ﴿ ہرملک کی ٹیم 3 ملکی اور3غیر ملکی سیریز کھیلے گی۔6ٹیموں کے ساتھ۔کسی بھی ملک کی کسی بھی 2ٹیموں سے کوئی سیریز نہیں ہو گی۔ ﴿ اسطرح بعض ٹیسٹ ٹیموں کے درمیان اس چیمپئین شپ میں کوئی سیریز بھی نہیں ہوگی۔جو چیمپئین شپ کے اصول کا حصہ ہے۔مثلاً پاکستان کے ٹوٹل13ٹیسٹ میچ ہیں لیکن بھارت اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ کوئی ٹیسٹ میچ نہیں۔

﴿ دوسرا ہر ملک برابرٹیسٹ میچ نہیں کھیلے گا لیکن سیریز سب برابر 6,6 کھیلیں گے۔ ﴿ ہر سیر یز کے120پوائنٹس ہوں گے۔ ﴿ 2 ٹیسٹ پر مشتمل سیریز کے60،60پوائنٹس ہوں گے اور 3ٹیسٹ سیریز کے40پوائنٹ اور4ٹیسٹ پر مشتمل سیریز کے30 پوائنٹ فی ٹیسٹ ہوں گے ۔5ٹیسٹ پر مشتمل سیریز میں ایک ٹیسٹ جیتنے پر24پوائنٹس ملیں گے۔ ﴿ پوائنٹس 60،40،30اور24 فی میچ جیتنے والی ٹیم کے حصے میں آئیں گے۔

﴿ میچ ٹائی رہنے پر پوائنٹس دونوں ٹیموں میں برابر تقسیم ہوں گے:30،20،15اور 12۔ ﴿ میچ برابر ہونے پر فی ٹیم پوائنٹس ملیں گے: 20،13،10اور8۔ ﴿ ناقص وکٹ تیار کرنے پر میزبان ملک کے بورڈ کو سخت سزا ملے گی۔ ﴿ میچ خراب صورت ِحال کی نذر ہوا تو فاتح پوائنٹس مہمان ٹیم کے حصے میں جائیں گے۔ ﴿ سلو اوور ریٹ کا شکار ہونے والی ٹیم کو فی اوور 2پوائنٹس کی کٹوتی کا سامنا ہو گا۔

﴿ چیمپئین شپ کا آغاز یکم اگست 2019ءکو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان پہلے ٹیسٹ سے ہو چکا ہے ﴿ چیمپئین شپ کا آخری فائنل میچ10سے 14جون2021ءکو لارڈز ،لندن میں کھیلا جائے گا۔ ﴿ افغانستان، آئیر لینڈ اور زمباوے اس چیمپئین شپ کا حصہ نہیں ہو نگی۔ ﴿ یہ چیمپئین شپ لیگ کی بنیاد پر کھیلی جائے گی۔جسکے بعد فائنل میچ کھیلا جائے گا۔ انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ایشزسیریز سے چیمپئین شپ کا آغاز : ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کا درینہ خواب یکم اگست2019ءسے انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ایشزسیریز کے آغاز سے شرمندہ تعبیر ہو چکا ہے اور کرکٹ کے روایتی فارمیٹ کو نئی زندگی ملے گی۔

لہذا آئی سی سی احکام ہی نہیں موجودہ اور سابق کرکٹرز بھی چیمپئین شپ سے بہت سی اُمیدیں وابستہ کیئے ہو ئے ہیں۔لیکن ایشز سیریز کے پہلے ہی ٹیسٹ کے پہلے دِن آسٹریلیا بمقابلہ انگلینڈ کے د رمیان امپائرنگ پر سوال اُٹھنے شروع ہو گئے۔ امپائرز نے آسٹریلیا کی بیٹنگ کے دوران 7غلط فیصلے کر ڈالے جن میں سے متعدد فیصلے ریویو لینے کے بعد تبدیل کرنے پڑے۔

پاکستان کے امپائر علیم ڈار اور ویسٹ انڈیز کے جوئل ولسن کی امپائرنگ پر کرکٹرز اور شائقین ششدہ رہ گئے اور ایک موقع پر تو انگلینڈ کے کپتان جوئے روٹ کھکھلا کر ہنس پڑے۔ لہذا ان حالات میں اُمید رکھتے ہیں کہ آغاز میں ہی معاملات ٹھیک ہو جائیں تو آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کا انقعاد تاریخی حیثیت اختیار کر جائے گااور اسکے لیئے : "آگے کھیلتے ہیں دیکھتے ہیں اور ملتے ہیں "۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments