ٹینس کنگ ”راجرفیڈرر“نے دوبارہ بادشاہت سنبھال لی

Tennis King Roger Fedrer Ne Dobara Badshahat Sanbhal Li

ومبلڈن کے فائنل میں اینڈی مرے کو شکست دیکر برطانوی عوام کوآنسوؤں کے سمندر میں ڈبودیا فیڈرر نے ساتویں بار ومبلڈن جیت کر عالمی نمبر ایک کی پوزیشن بھی حاصل کرلی‘ ویمنز ٹائٹل سرینا ولیمز کے نام رہا

پیر جولائی

Tennis King Roger Fedrer Ne Dobara Badshahat Sanbhal Li
اعجازوسیم باکھری: سوئس ٹینس سٹار راجرفیڈرر نے ٹینس کی دنیا پر ایک بار پھر اپنی بادشاہت قائم کردی ہے۔ ومبلڈن اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے فائنل میں فیڈرر نے انگلش سٹار اینڈی مرے کو سخت مقابلے کے بعد شکست دیکر نہ صرف ساتویں بار ومبلڈن اوپن جیت کر پیٹ سمپرس کا ریکارڈ برابر کردیا ہے بلکہ کیرئیر میں17واں گرینڈ سلم بھی جیتا ہے اور اس سے بڑھ کر ایک طویل عرصہ بعد فیڈرر اس کامیابی کے ساتھ دوبارہ ورلڈنمبر ون بھی بن گئے ہیں۔

فیڈرر نے فائنل میں اپنی نچرل کھیل کھیلا اور اینڈی مرے کی ایک بھی نہ چلنے دی۔ فیڈرر گزشتہ دو سال سے مکمل طور پر آف کلر تھے اور انہیں ٹینس چھوڑنے کے مشورے بھی دئیے جارہے تھے لیکن سوئس سٹار نے ہمت اور جوانمردی سے نہ صرف حریف کھلاڑیوں کا مقابلہ کیا بلکہ ناقدین کی تنقید بھی برداشت کی اور آخرکار اپنی بادشاہت دوبارہ حاصل کرلی۔

(جاری ہے)

فیڈرر کیخلاف فائنل میں مدمقابل اینڈی مرے کو برطانوی عوام کی جانب سے فیورٹ قرار دیا جارہا تھا۔

فائنل میں مرے کی سپورٹ کیلئے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سمیت شہزادی کیتھرین میڈلٹن بھی آل انگلینڈ ٹینس کورٹ میں موجود تھیں۔ جیسے ہی فیڈرر کو کامیابی ملی تو برطانوی عوام سکتے میں آگئی ہے کیونکہ برطانوی عوام کو اس فائنل میچ کا شدت سے انتظار تھا کیونکہ اینڈی مرے1938ء کے بعد پہلے برطانوی کھلاڑی ہیں جو ومبلڈن کے فائنل میں پہنچے جبکہ آخری برطانوی کھلاڑی جو ومبلڈن جیتنے میں کامیاب ہوا تھا، فریڈ پیری تھے جنہوں نے1936میں یہ اعزاز جیتا تھا۔

اینڈی مرے فائنل کی اختتامی تقریب میں مسلسل روتے رہے اور انہیں روتا دیکھ کر شائقین بھی زاروقطار رو پڑے۔ برطانوی میڈیا نے اینڈی مرے کی فائنل تک رسائی پر شاندار کوریج دی اور فائنل میں شکست پر بھی انگلش میڈیا کئی گھنٹوں تک اینڈی مرے کو خراج تحسین پیش کرتا رہا۔ راجرفیڈرر نے حالیہ ومبلڈن میں اپنی ماضی کی کارکردگی کو دہراتے ہوئے شائقین کی توقعات کے مطابق کھیل پیش کیا۔

فیڈرر نے سیمی فائنل میں نوویک جاکووچ کو شکست دی حالانکہ فیڈرر گزشتہ تین گرینڈ سلم میں نوویک سے سیمی فائنل میں مات کھا گئے تھے ۔ ومبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ کے خواتین ایونٹ میں امریکی ٹینس سٹار سیرینا ولیمز نے پولینڈ کی اگنیئشکا راڈوانسکاکو شکست دے کر پانچویں مرتبہ گراس کورٹ میں گرینڈ سلم ٹائٹل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ سیرینا ولیمز کو پولینڈ کی سیرینا ولیمز ٹورنامنٹ کے دوران زوردار سروس کا سلسلہ جاری رکھا اور سبھی حریف کھلاڑیوں کو آسانی سے شکست دیکر فائنل تک پہنچی اور ٹائٹل جیتنے میں کامیاب رہیں۔

موجودہ ٹینس کھیل کی تاریخ میں سیرینا ولیمز نے تیس برس کی عمر میں پہلی مرتبہ ومبلڈن کا ٹائٹل جیتا ہے۔ ان سے قبل سن 1990 میں ایک اور امریکی ٹینس سٹار مارٹینا نیوراٹیلووا نے تیس برس سے زائد عمر میں ومبلڈن چیمپئن شپ جیتی تھی۔ سیرینا ولیمز اس سے قبل چار مرتبہ ومبلڈن چیمپئن شپ جیت چکی ہیں۔ انہوں نے 2010 ء میں آخری مرتبہ ومبلڈن میں کامیابی حاصل کی تھی۔

یہ ان کی چودھویں گرینڈسلیم چیمپئن شپ ہے۔ ان کی بہن وینس ولیمز اسی ٹورنامنٹ کے پہلے راوٴنڈ میں باہر ہو گئی تھیں۔ ومبلڈن ٹینس چیمپئن شپ میں خواتین کا فائنل مکمل ہونے پر عالمی درجہ بندی میں بھی تبدیلیاں رونما ہو گئی ہیں۔ رواں برس کے اوائل میں ڈنمارک کی کیرولین وزنیائیکی کو عالمی نمبر ایک کے مقام سے نیچے کرنے کے بعد بیلا روس کی وکٹوریا آزارینکا گزشتہ ماہ کے دوران ختم ہونے والے فرنچ اوپن کے اختتام تک عالمی نمبر ایک تھیں۔

فرنچ اوپن جیت کر روسی ٹینس کھلاڑی ماریا شاراپووا عالمی درجہ بندی میں پہلے مقام پر فائز ہو گئی تھیں۔ اب وکٹوریا آزارینکا ایک مرتبہ پھر عالمی نمبر بن رہی ہیں۔ ٹینس میں اب تک سب سے زیادہ گرینڈسلیم ٹورنامنٹ جیتنے کا اعزاز آسٹریلیا کی مارگریٹ کورٹ کو حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے کیریر میں کْل 24 گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ جیتے۔ دوسرے مقام پر جرمن کھلاڑی سٹیفی گراف ہیں۔ وہ 22 مرتبہ ایسے ٹورنامنٹس کو جیتنے میں کامیاب رہیں۔ تیسری پوزیشن پر چیک جمہوریہ سے تعلق رکھنے والی امریکی کھلاڑی مارٹینا نیوراٹیلووا ہیں اور وہ 18 گرینڈ سلیم چیمپئن شپ جیتنے کا اعزاز رکھتی ہیں۔ اس فہرست میں سیرینا ولیمز14ٹائٹل جیت کر چوتھے مقام پر موجود ہیں۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments