یوئیفا یورو کپ کی کہانی

ہفتہ جون
1904ء میں فرانس فُٹ بال کی تاریخ میں فیفا ( فُٹ بال ورلڈکپ) کی تنظیم کی بنیاد رکھنے والوں میں اہم ملک رہا اور پھر فرانس کے ہی رابرٹ گیورن فیفا کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔لہذا1927ء میں فرانس کے ہی فُٹ بال فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل" ہنری دولونہ" نے "پین یورپین" کی اصطلاح کے تحت

فرانس کانام کھیلوں کی دُنیا کے بورڈ پر بھی سرِفہرست ہی نظر آتا ہے ۔ابھی چند روز پہلے ہی وہاں فرنچ اوپن ٹینس کے بہترین مقابلے دیکھنے کو ملے تھے کہ 10ِجون2016ء کو یوئیفا یورو کپ میں فٹ بال کے بہترین مقابلوں کا آغاز ہو گیا۔ جو 10جولائی2016ء تک جاری رہیں گے۔الیکٹرونک میڈیا و سوشل میڈیا پر اس ایونٹ کی اعلیٰ ترین تشہیر نے شائقین کا مجبور کر دیا ہے کہ وہ صرف نہ کہ اس دفعہ پہلے سے مزید بڑھ چڑھ کر اسکو دیکھنے میں دلچسپی لیں بلکہ اسکی تاریخی اہمیت کو بھی جانیں۔


ہنری دولونہ ٹرافی:
1904ء میں فرانس فُٹ بال کی تاریخ میں فیفا ( فُٹ بال ورلڈکپ) کی تنظیم کی بنیاد رکھنے والوں میں اہم ملک رہا اور پھر فرانس کے ہی رابرٹ گیورن فیفا کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔

(خبر جاری ہے)

لہذا1927ء میں فرانس کے ہی فُٹ بال فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل" ہنری دولونہ" نے "پین یورپین" کی اصطلاح کے تحت فُٹ بال میں یورپین کی انفرادی پہچان کو اہمیت دیتے ہوئے یورپین فُٹ بال کپ کی تجویز پیش کر دی جس پر پیش رفت ہونے میں کم وبیش دو دہائیاں تو لگ گئیں لیکن ادارہ قائم کرنے میں ہنری کو نہ کہ صرف کامیابی حاصل ہوگئی بلکہ یورپین کپ کے پہلے جنرل سیکرٹری بھی منتخب ہو گئے۔


 ہنری کازندگی نے ساتھ نہ دیا اور1955ء میں اُنکا انتقال ہو گیا جسکے بعد اُنکے بیٹے پیئر دولونہ نے ادارے کے ساتھ قدم بڑھائے اور متفقہ طور پر فُٹ بال یورپین کپ کا نام" ہنری دولونہ ٹرافی" رکھ کر ایک طرف تو ہنری کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور دوسرا ٹورنامنٹ کے انعقاد کا فیصلہ کر لیا گیا۔ 1958ء میں ماسکو میں افتتاحی تقریب میں میچ سویت یونین اور ہنگری کے درمیان ہواجس میں سویت یونین نے 1-3سے کا میابی حاصل کی۔


فرانس پہلا میزبان:
اگلا مرحلہ تھا یورو کپ کا باقاعدہ ٹورنامنٹ جسکا فائنل جولائی 1960 ء میں پہلی دفعہ پیرس میں کھیلا گیا کیونکہ پہلی میزبانی کا شرف فرانس کو ہی حاصل ہوا تھا ۔ دلچسپ یہ تھا کہ اُس ایونٹ میں میں مشرقی بلاک کے ممالک نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیاجبکہ نیدر لینڈ، انگلینڈ،مغربی جرمنی اور اٹلی غیرحاضر رہے۔

سپین نے بھی سویت یونین کے خلاف سیاسی احتجاج کرتے ہوئے کواٹر فائنل کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔
 آغاز میں سپین اُن 17ٹیموں میں شامل تھا جن میں قرعہ ڈال کر یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ کونسی دو ٹیموں کے درمیان مقابلہ کروا کر باقاعدہ 16ٹیموں کے درمیان ٹورنامنٹ کھیلا جا ئے گا۔ قرعہ نکلا چیکو سلواکیہ اور آئر لینڈ کے ناموں کا اور میچ ہو نے کے بعد کامیابی حاصل ہو ئی چیکو سلواکیہ کو۔

بہرحال پیرس میں فائنل یورو فُٹ بال میچ سویت یونین اور یوگوسلاویہ کے درمیان ہو ا جو آخری وقت تک انتہائی دلچسپ رہا اور پھر مقررہ اوقات سے زائد وقت میں سویت یونین نے 1-2سے فتح حاصل کر کے یورو کپ کے پہلے ایونٹ میں اپنا نام لکھوا لیا ۔
 1964ء کا یورو کپ سپین میں:
منعقد ہوا اور اُس سال سوائے مغربی جرمنی کے 29 یورپی ممالک نے ایونٹ میں حصہ لیا۔

26 ممالک آگے آئے جن میں بہترین مقابلے ہوئے ۔ بعدازاں یونان بھی اُس وقت ایونٹ سے الگ ہو گیا جب اُسکا مقابلہ البانیہ سے ہو نا تھا۔ وجہ دونوں ممالک کے درمیان# جنگی صورت ِحال تھی۔ مشرقی یورپی بلاک اس دفعہ بھی ایونٹ پر چھایا رہا لیکن فائنل میزبان ملک سپین اور سویت یونین کے درمیان ہوا جو اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنے میں ناکام رہا اور سپین 1-2 سے جیت گیا۔

سپین پہلا ملک کہلایا جس نے میزبانی میں یورو ٹرافی جیتی۔
1968ء تا 2012ء تک مزید 12یورو فُٹ بال کپ
 کے ایونٹ ہر 4سال بعد منعقد ہوئے جن میں دلچسپ واقعات و فائنل مقابلے دیکھنے کو ملے۔
 ﴾ 1968ء میں سب سے پہلے تو یو ئیفا یورپین نیشنز کپ کا نام تبدیل کر کے یو ئیفا یورپین چیمپئین شپ رکھ دیا گیا۔
 یوئیفا مخفف ہے " یونین آف یورپین فُٹ بال ایسوسی ایشن" ۔


 ﴾ 1968ء میں میزبان ملک تھا اٹلی اور مغربی جرمنی پہلی فعہ اس ٹورنامنٹ میں شامل ہوا تھا گو کہ پہلے راؤنڈ میں ہی یوگوسلاویہ اور البانیہ سے ہار کر ایونٹ سے باہر ہو گیا۔ بہرحال 31ممالک نے حصہ لیا۔
﴾ 1968ء کا ایک سیمی فائنل جو اٹلی اور سویت یونین کے درمیان ہوا مقررہ زائد وقت میں بھی 0-0سے برابررہنے پر اُسکا فیصلہ پہلی و آخری دفعہ سکے کے اُچھانے(ٹاس) پر ہوا۔

جو اٹلی کے حق میں رہا۔8ِجولائی کو فائنل میں بھی اٹلی کا جب مقابلہ یوگوسلاویہ سے ہوا تو میچ 1-1سے برابر ہو گیا جسکے بعد10ِ جولائی کو میچ دوبارہ کھیلا گیا اور اٹلی نے بحیثیت میزبان ملک یوگوسلاویہ کو 0-2سے شکست دے کر ہنری دولونہ ٹرافی جیت لی۔
 ﴾ 1972ء کا یورو کپ کا میزبان ملک تھا بلجئیم اور شیر بن کر چھایا مغربی جرمنی ۔ فائنل میں شکست دی 0-3سے اُس سویت یونین کو جو 1964ء میں بھی فائنل میں سپین سے ہار گیا تھا۔

بہرحال اس ایونٹ میں مغربی جرمنی کو مستقبل کیلئے وہ اعلیٰ کھلاڑی مل گئے جنہوں نے1974ء کا فیفا فُٹ بال ورلڈ کپ بھی اپنے نام کر لیا۔
 ﴾ 1976 ء میں یوگوسلاویہ میں یورو کپ منعقد ہوا تو تمام ٹیموں میں ایک نیا ہی ولولہ نظر آیا ۔ فائنل میں پہنچے ورلڈ کپ چیمپئین اور یورپین دفاعی چیمپئین مغربی جرمنی اور چیکوسلواکیہ ۔ مقررہ وقت میں مقابلہ برابر رہا تو پہلی دفعہ ایونٹ میں متعارف کروائے گے اصول " پینلٹی شوٹ آؤٹ" پر فیصلہ چھوڑ دیا گیا۔

دونوں طرف سے پینلٹیس لگیں اور کُل 7گول ہوجانے کے بعد جب مغربی جرمنی کے کھلاڑی اولی ہونیس کی کک سے گول نہ ہو سکا تو چیکو سلواکیہ کے کھلاڑی انطونین پانیکا کی مشہور ِزمانہ کک سے گول ہو گیا اور فاتح کہلایا چیکوسلواکیہ۔
 ﴾ 1980ء میں یورو کپ کے 6ویں ٹورنامنٹ کی میزبانی ایک دفعہ پھر اٹلی کے پاس تھی۔ لیکن اس دفعہ ٹورنامنٹ کے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کر کے ٹیموں کے گروپ کی شکل میں مقابلے کروا کر 8 اہم ٹیموں کو سامنے لایا گیا۔

مغربی جرمنی اور بلجئیم کے درمیان فائنل ہوا جو دوسری دفعہ پھر مغربی جرمنی نے 1 کے مقابلے میں 2گول کر کے جیت لیا۔
 ﴾ 1984ء یورو کپ کا میزبان 1960ء کے بعد ایک دفعہ پھر فرانس بنا تو فائنل میں مقابلے میں سپین آیا ۔فرانس کے شائقین کی خواہش تھی کہ اس دفعہ اُنکا ملک فُٹ بال کی ہنری دولونہ ٹرافی جیت لے ۔ قسمت نے فرانس کا ساتھ دیا اور سپین کو 0-2 سے شکست دے کر پہلی دفعہ یورو کپ چیمپئین بن گیا۔


 ﴾ 1988ء میں مغربی جرمنی میں پہلی دفعہ یورو کپ منعقد ہوا لیکن فائنل میچ میں نید ر لینڈ نے سویت یونین کو 0-2سے شکست دے کر پہلی دفعہ ٹرافی اپنے ملک کے نام کر لی۔
 ﴾ 1992ء یورو کپ کی میزبانی کیلئے منتخب ہوا سویڈن۔ماحول ساز گار اور مقابلے کانٹے دار۔ یوگوسلاویہ کو اُنکے ملک میں سیاسی معاملے کی وجہ سے ایونٹ میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

لہذا فائنل تک رسائی حاصل کی ڈنمارک اور (مشرقی و مغربی جرمنی کے ایک ہو جانے کے بعد ایک وحدت کی صورت میں) جرمنی نے۔مقابلہ خوب ہوا اور ڈنمارک کی ٹیم نے جرمنی جیسی بڑی ٹیم اور ورلڈ چیمپئین کو 1کے مقابلے میں 2گول سے شکست دے کر پہلی دفعہ یورو کپ چیمپئین شپ کی نشست حاصل کرلی۔اسکے علاوہ پہلا اہم ٹورنامنٹ تھا جس میں کھلاڑیوں کے نام اُنکی ٹی شرٹ کے پیچھے لکھے گئے۔


 ﴾ 1996ء میں میزبانی کیلئے سامنے تھا انگلینڈ اور یورو کپ حاصل کرنا تھا اُنکا خواب ۔ پہلی دفعہ ٹورنامنٹ کو " یورو ائیر" کانام دیا گیا اور اس دفعہ 8 کی بجائے16 اہم ٹیموں کو سامنے لایا گیا۔جن میں سے انگلینڈ کو بھی سیمی فائنل تک رسائی حاصل ہو گئی۔ لیکن سیمی فائنل میں جرمنی سے مقررہ اوقات کے بعد پینلٹی ککز پر شکست کھا گیا۔1968ء میں بھی انگلینڈ نے یوگوسلاویہ سے سیمی فائنل میں شکست کھائی تھی۔

بس اس ہی لیئے فائنل میں پہنچا ایک دفعہ پھر جرمنی اور 1976ء میں اُن سے کامیاب ہونے والا مخالف چیک رِی پبلک۔
دونوں ممالک کے درمیان مقابلہ زوروں پر تھا کہ چیک کے کھلاڑی برگر پین نے 59منٹ میں پہلا گول کر دیا لیکن73ویں منٹ پر جرمنی کے متبادل کھلاڑی اولیو بیر ھوف نے سر سے بال گول میں پھینک کر مقابلہ برابر کر دیا۔مقررہ وقت پر برابری کی وجہ سے مزید وقت دیا گیا جسکا اصول تھا کہ پہلے گول کرنے والا کامیاب کہلائے گا ۔

95ویں منٹ میں یہ کارنامہ ایک دفعہ پھر اولیو بیر ھوف نے بیک کک کے تحت بال گول میں پھینک کر کر دکھایا جو تاریخ کا پہلا " گولڈن گول" بھی کھلایا۔کیونکہ اصول کے مطابق ساتھ ہی میچ ختم ہو گیااور جرمنی نے تیسری دفعہ ہنری دولونہ ٹرافی جیت لی ۔
 ﴾ 2000ء میں پہلی دفعہ 2ممالک بلجیئم اور نیدرلینڈ نے مشترکہ سطح پر یورو کپ فُٹ بال کی میزبانی کی اور فائنل تھا ورلڈ کپ چمپئین فرانس بمقابلہ اٹلی۔

جس میں دوسری دفعہ جیت کا تمغہ پہنا فرانس نے اٹلی کو 1-2سے شکست دے کر۔اٹلی 0-1سے جیت رہا تھا کہ آخری منٹ میں فرانس نے گول کر دیا۔ جسکے بعد فیصلے کیلئے زائد ٹائم ملنے پر فرانس نے دوسرا گول بھی کر دیا۔
 ﴾ 2004ء میں یورپ کے ایک اہم ملک پرتگال میں پہلی دفعہ یوئیفا فُٹ بال چیمپئین شپ منعقد ہوئی تو انتہائی زبردست میچوں کے بعد فائنل کیلئے کوالیفائی کر گیا میزبان ملک پرتگال اور مقابل آیا یونان۔

جو کہ ٹورنامنٹ کا اَپ سیٹ کہلایا اور پھر اگلا اَپ سیٹ یہ ہواکہ یونان نے میزبان ملک پرتگال کو ہی اُنکی زمین پر 0-1سے شکست دے کر ٹرافی ہاتھوں سے ہوا میں بلند کر دی۔
 ﴾ 2008ء میں دوسری دفعہ پھر یورو ٹورنامنٹ مشترکہ سطح پر اَسٹریا اور سوئیزر لینڈ میں کھیلا گیااور فائنل میچ میں فرنیڈس ٹورس نے سپین کی طرف سے جرمنی پر 1گول کر کے برتری حاصل کی اور وہی برتری سپین کو 1964ء کے بعد دوسری دفعہ یورو چیمپئین بنا گئی۔

اس سال ہنری دولونہ ٹرافی کی تزئین کر کے اُس کے سائز کو بڑا کر دیا گیا تھا۔
 ﴾ 2012ء یورو فُٹ بال کپ میں پولینڈو یوکرائن نے مشترکہ طور میزبانی کے فرائض انجام دیئے اور دلچسپ یہ رہا کہ دفاعی چیمپئین سپین ایک دفعہ پھر فائنل کھیلنے کیلئے تیا ر تھا اپنے مخالف اٹلی کے۔تاریخ کا یہ 14واں ٹورنامنٹ اس لیئے اہم رہا کیونکہ پہلی دفعہ کسی ملک کو اتنی بڑی شکست ہو ئی یعنی ایک تو سپین نے اٹلی کو 4۔

صفر سے شکست دی اور دوسرا کسی ملک نے پہلی دفعہ یورو کپ میں اپنے ٹائٹل کا دفاع کرتے ہوئے کامیابی بھی حاصل کی ۔ساتھ میں سپین نے جرمنی کا 3دفعہ یوئیفا فُٹ بال چیمپئین شپ جیتنے کاریکارڈ برابر کر دیا۔ 2010ء کا ورلڈ کپ حاصل کرنے کا اعزاز بھی سپین کے پاس ہی تھا ۔ جبکہ 2014ء کا ورلڈ کپ فاتح جرمنی ہے۔
 ﴾ 15 ویں یورو کپ 2016ء کا آغاز ہو چکا ہے اور فرانس تیسری دفعہ میزبانی کے فرائض انجام دے رہا ہے۔

ساتھ میں ایک دفعہ پھر ٹیمز کی تعداد میں تبدیلی کر کے 24 ٹیمز کو اسطرح شامل کیا گیا ہے کہ اُنکو چار چار کے چھ گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ہر گروپ کی دو کامیاب ٹیمز راؤنڈ آف16(پری کواٹرفائنلز) کیلئے کوالیفائی کریں گی ۔یعنی پہلے12ٹیمز اور پھر اُنہی گروپس میں سے تیسر ے نمبر پر آنے والی 6ٹیمز میں سے زیادہ پوائنٹس والی 4ٹیمز کو شامل کر کے 16کی گنتی پوری کی جائے گی۔

جنکے درمیان اگلے مقابلے ناک آؤٹ کی بنیاد پر ہوں گے۔ اس ٹورنامنٹ کے کیا نتائج آتے ہیں اسکو تاریخ کا حصہ بننے کا انتظا ر کرنا پڑے گا۔
14یورو کپ فُٹ بال کے فاتح:
 جرمنی اور سپین 3،3 دفعہ، فرانس2 دفعہ،چیک ری پبلک،ڈنمارک،یونان،اٹلی،نیدر لینڈاور سویت یونین(روس) 1،1دفعہ چیمپئین رہ چکے ہیں۔