بند کریں
شاعری مرتضی اشعر

کیا پتہ اب منتظر آنکھوں میں بینائی نہ ہو

-

kiya pata abb muntazir ankhooN main benai na hoo


(237) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان