امریکہ‘ایران کشیدگی اور خطے کی صورتحال؟

صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کو ایران کے ساتھ عالمی جوہری معاہدے سے الگ کئے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے

Rao Ghulam Mustafa راؤ غلام مصطفی منگل مئی

America Iran Kasheedgi
صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کو ایران کے ساتھ عالمی جوہری معاہدے سے الگ کئے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خصوصی دستے پاسدران انقلاب کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد وال سٹریٹ جنرل کے مطابق امریکی وزارت دفاع کے کچھ حکام اور امریکی فوج کے چےئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف ہوڈ نفرڈ نے اس پر تشویش کا اظہار کیا فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے مشرق وسطی میں تعینات امریکی فوجیوں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں ہونے کا خدشہ ہے۔

امریکہ نے اپنے اور اتحادیوں کے کیخلاف سخت گیر اور دھمکی آمیز رویے کے پیش نظر مشرق وسطی میں ایک جنگی بحری بیڑہ تعینات کر دیا ہے امریکہ کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن کا کہنا ہے کہ امریکہ کا اپنا ابراہم لنکن نامی جنگی بحری بیڑہ تعینات کرنے کامقصد ایران پر یہ واضح کرنا ہے کہ کہ اگر ایران نے امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے مفادات پر حملہ کیا تو اس کا جواب سخت قوت کے ساتھ دیا جائے گا۔

(جاری ہے)

ایران اس وقت اپنے جوہری پروگرام کے سبب عالمی اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے اور ایران موجودہ صورتحال میں امریکہ کے سامنے سر خم تسلیم کر نے کو تیار نہیں ہے۔2015ء میں ایرانی صدر حسن روحانی امریکہ اور پانچ دوسری بڑی عالمی قوتوں کے ساتھ ایک معاہدہ کرنے پر رضا مند ہو گئے تھے جس کے تحت بین الاقوامی پابندیوں کو اٹھائے جانے کے عوض ایران جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضا مند ہو گیا تھا اس معاہدے کے ایک سال بعد ہی ایران کی معشیت تیزی کے ساتھ مستحکم ہو نا شروع ہو گئی تھی اور مقامی پیداوار کی شرح نمو اس کے اپنے مرکزی بنک کے مطابق 12.3فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

امریکہ کی جانب سے گذشتہ سال اکتوبر 2018ء میں اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے سے تیل‘گیس‘جہاز رانی اور مالیاتی شعبوں میں ایران کی سرمایہ کاری تقریبا ختم ہو کر رہ گئی ہے اور ایران کی تیل برآمدات بھی متاثر ہوئی عالمی مالیاتی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کا جی ڈی پی گذشتہ سال کے مقابلے میں سکڑ کر 3.8فیصد رہ گیا مارچ2019ء تک ایران کی تیل برآمدات گر کر 1.1ملین بیرل یومیہ تک پہنچ چکی ہیں۔

عالمی اقتصادی پابندیوں کے باعث تائیوان‘یونان اور اٹلی نے مکمل طور پر ایران سے تیل کی خریداری بند کر دی جبکہ چین اور بھارت نے ایران سے تیل خریداری بلترتیب 39 سے 47فیصد تک کم کر دی امریکی حکام کے مطابق اس سے ایران کو تقریبا دس ارب ڈالر کی آمدن کم ہو گی۔اس وقت دنیا میں عالمی طاقتوروں کے درمیان وسائل پر قابض ہونے کی جنگ شروع ہو چکی ہے اور عالمی صیہونی دجالی قوتیں مسلم امہ کے وسائل پر دسترس حاصل کرنا چاہتی ہیں جن میں امریکہ اور اسکے حلیف ممالک پیش پیش ہیں اس وقت خلیجی اسلامی ممالک جن میں کویت‘عراق‘سعودی عرب اور ایران وغیرہ شامل ہیں یہ ممالک اپنی ضرورت سے زائد تیل نکال رہے ہیں اور اضافی تیل ایسے ممالک کو فروخت کرتے ہیں جہاں تیل کی پیداوار کم یا نہ ہونے کے برابر ہے۔

امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں تیل کے سب سے زیادہ ذخائر موجود ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی ضرویات کے لئے یہ ذخائر ناکافی ہیں اس لئے اس کو دیگر ممالک سے تیل خریدنا پڑتا ہے خلیجی ممالک کے بعد روس کے پاس بھی تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔دنیا میں معدنی تیل‘کوئلہ اور گیس توانائی کے بڑے ذرائع سمجھے جاتے ہیں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ جن ممالک کے پاس قدرتی وسائل کے ذخائر موجود ہیں ان سے استفادہ حاصل کیا جا سکے یا پھر ان ممالک میں ایسے حالات پیدا کر دئے جائیں جس سے آسانی کے ساتھ ان ذخائر پر قبضہ کیا جاسکے اور جو ممالک امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے مفادات کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں پھر ان کو عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شاہ ایران کی حکومت کے خاتمہ کے بعد امریکہ اور ایران کے تعلقات نشیب و فراز سے جڑے رہے اور ایران نے 1979ء کے انقلاب کے بعد ایرانی راہنماؤں کی جانب سے اسرائیل کو ختم کرنے کا دعوی سامنے آیا کیونکہ ایران سمجھتا ہے کہ اسرائیل مسلمانوں کی سرزمیں پر غیر قانونی طور پر قابض ہے 2011ء سے جاری اسرائیل اور شام کے درمیان جنگ میں مسلم تنظیموں حزب اللہ اور حماس کی پشت پر کھڑا ہے اور اسرائیل کو یہ بھی خطرہ لا حق ہے کہ ایران اس کے ہمسایہ ملک لبنان کو خفیہ طور پر جدید اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔

ایران نے عالمی اقتصادی پابندیاں لگنے کے باوجود اعلانیہ طور پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اقتصادی پابندیوں کی آڑ میں اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لے آئے پھر بھی ہم تیل اس انداز سے فروخت کرینگے کہ امریکی سٹیلایٹ اس کے تیل سپلائی کرنے والے بحری جہازوں کا کھوج نہیں لگا سکتا اور گرے مارکیٹ میں ہمیں تیل فروخت کرنے سے نہیں روک سکتا دوسری جانب امریکہ نے اپنی ائیر فورس کو ہائی الرٹ کردیا کہ کسی بھی وقت ایران پر حملے کا حکم دیا جا سکتا ہے ۔

امریکہ اور ایران کی بڑحتی کشیدگی کے تناظر میں خطے کی صورتحال کو دیکھا جائے تو اگر جنگ شروع ہوئی تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہونگے امریکہ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں امریکہ نے تیل کے کنوؤں پر قابض ہونے کے لئے کویت اور عراق کی جنگ کروائی اور اس جنگ میں سعودی عرب کو بھی شامل کر دیا اور پھر اپنے منصوبے کے مطابق خلیج میں اپنی فوج کو اتار دیا اور یوں کویت اور عراق کے تیل کے کنوؤں پر کنٹرول حاصل کر لیا ۔

پاکستان میں سی پیک منصوبہ چین کے اشتراک کے ساتھ پایہ تکمیل ہے اور یہ منصوبہ بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی آنکھ میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لئے پہلے پلوامہ حملے کی آر میں پاک بھارت جنگ مسلط کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی لیکن اس میں ناکامی کے بعد آج بھی درپردہ اس منصوبے کو ختم کرنے کے لئے صیہونی دجالی عالمی سازشیں عروج پر ہیں۔

اس لئے وزیر اعظم عمران خان کی ہدائت پر وازرت پٹرولیم نے موجودہ صورتحال کے تناظر میں دشمن کے ارادے بھانپتے ہوئے ایران کے ساتھ جاری تناؤ کو ختم کرتے ہوئے پاک ایران گیس منصوبہ کی تکمیل کے لئے ایران کو تحریری خط لکھا کہ پاکستان پاک ایران گیس منصوبہ مکمل کرنے کا پابند ہے دوسری جانب چین کا کہنا ہے کہ ایران سے تیل کی خرید و فروخت قانونی اور جائز ہے امریکہ کو اس میں مداخلت کرنے کا کوئی حق اور اختیار حاصل نہیں جبکہ ترکی کا بیان بھی سامنے آگیا کہ وہ اپنے ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ تعلقات نہیں بگاڑ سکتا۔

امریکہ ایران کے درمیان جاری کشیدگی اگر جنگ میں تبدیل ہو گئی تو کسی کے پاس ایسا کوئی پیمانہ نہیں کہ یہ جنگ محدود ہی رہیگی ایسا بھی ممکن ہے امریکہ اپنے ہاتھ سے سلگائی گئی آگ میں اسرائیل کو بھی جھونک دے اور یہ طے ہے کہ اگر چین ایران کیساتھ کھڑا نہ ہوا تو روس ہر حال میں ایران کا عملا ساتھ دے گا کیونکہ روس نے ایران میں تیل کی پیداوار میں بھاری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ یہ جنگ پوری انسانیت کے لئے بہت بڑا بحران ثابت ہوگی جس کا خمیازہ کرہ اض پر بسنے والے ہر فرد کو بھگتنا پڑے گا اس سے قبل کہ دیر ہو جائے عالمی برادری کو آگے بڑھ امن کے لئے کردار ادا کرتے ہوئے اکیسویں صدی کے انسان کو پتھروں کے زمانہ میں دھکیلنے سے بچانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

America Iran Kasheedgi is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 14 May 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.