بھارت نے” ثالثی“ کا جواب کلسٹربم سے دیا

خطے میں بڑی جنگوں کا آغاز ہونے جارہا ہے ا وآئی سی کا دروازہ کھٹکھٹانا کمزوری کی علامت ہے

جمعرات اگست

India ne salsi ka jawab cluster bomb se diya
محمد انیس الرحمن
کیا خطے میں بڑی جنگیں شروع ہونے جارہی ہیں؟خطے سے ہماری مراد وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے لیکر مشرق وسطیٰ تک کا علاقہ شامل ہے۔ایسا اس لئے ممکن ہوتا نظر آرہا ہے کہ امریکہ کی اسٹیبلشمنٹ وائٹ ہاؤس کے برخلاف افغانستان سے نکلنے کے لئے تیار نہیں ۔اگر ایسا ہے تو پھر امن مذاکرات کے نام پر امریکہ افغانستان میں کیا کھیل کھیلنا چاہتا ہے؟امریکی فوج،سی آئی اے اور اسلحہ کمپلیکس اگر افغانستان سے جانے کے لئے راضی نہیں تو پھر زلمے خلیل زاد یہاں کیا کررہا ہے؟اس صورتحال کو سمجھنے کے لئے مشرق وسطیٰ کے حالات کا بغور جائزہ انتہائی ضروری ہے۔


دوسری جانب بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ریاست دہشت گردی کی نئی لہر شروع کی جا چکی ہے جس میں مظلوم کشمیری مسلمانوں کے خلاف کلسٹربموں کا آزادانہ استعمال کیا جارہا ہے ۔

(جاری ہے)

کلسٹر بموں کا استعمال بین الالقوامی طور پر جنگی جرائم میں شمار کیا جاتا ہے لیکن بھارت کے اس جنگی جرم کے خلاف تاحال بین الالقوامی سطح پر آواز بلند نہیں کی گئی ہے۔

جہاں تک دنیا میں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا معاملہ ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معلومات کے اس دور میں انسانیت کا عمل دخل ختم ہوتا جارہا ہے
۔مقبوضہ فلسطین میں اسرائیل کے صہیونی مظالم پر دنیا نے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔
عرب حکومتوں کی خاموش تائید پر اسرائیل بے دھڑک فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے،مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کی املاک کو گراکر انہیں اس مقدس سر زمین سے بے دخل کیا جارہا ہے لیکن دنیا خاموش ہے ،اقوام متحدہ خاموش ہے،عرب لیگ بے حرکت ہے ،او آئی سی بے حس ہو چکی ہے۔

ظلم کا ہاتھ روکنے والا کوئی نظر نہیں آتا ۔یہی حال مقبوضہ کشمیر ہے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو عروج بین الالقوامی خاموشی کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے۔بھارت نے مسئلہ کشمیر پر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کو پھر مسترد کر دیا ہے بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر نے گزشتہ دنوں بنکاک میں ہونے والے آسیان اجلاس کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیوکوواضح کر دیا تھا کہ بھارت کسی صورت مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر تیسرے ملک کی ثالثی قبول نہیں کرے گا ۔

جے شنکر کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے دو فریق ہیں بھارت اور پاکستان اس لئے کشمیر کے مسئلے پر صر ف پاکستان کے ساتھ ہی بات چیت ہو گی اس لئے کسی تیسرے فریق کی مداخلت بھارت کو قبول نہیں۔
ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کے معاملے میں کسی غلط فہمی میں نہ رہا جائے۔اول تو خود امریکی صہیونی دجالی اسٹیبلشمنٹ کو بھی اس بات کا یقین ہے کہ ثالثی کی پیشکش صرف بیانات کی حد تک ہی رہے گی اس پر کبھی عملد ر آمد نہیں کیا جا سکتا۔

درحقیقت اس ثالثی کی پیشکش کے ذریعے امریکہ کی جانب سے بھارت کو جھنجھوڑنا مقصود تھا جو افغانستان میں اپنی ناکامی دیکھنے کے بعد اب دوبارہ سے روس کی جانب ہاتھ بڑھا رہا تھا۔بھارت کی برہمن اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک امریکہ خود افغانستان میں اپنے مفادات کا تحفظ نہیں کر سکا جبکہ اس کے ساتھ نیٹو کی بھر پور قوت تھی تو پھر اکیلا بھارت وہاں کیا کرلے گا۔


بالفرض محال اگر امریکہ کسی بھی معاہدے کے ذریعے کا بل پر جزوقتی طور پر اپنا کوئی کٹھ پتلی بٹھانے میں کامیاب ہو بھی جاتا ہے تو وہ خود افغان طالبان کے رحم وکرم پر ہو گا۔ایسی صورت میں بھارت کے حصے سوائے شکست اور رسوائی کے کیا آئے گااس کا اندازہ لگا کر بھارتی برہمن اسٹیبلشمنٹ نے دوبارہ ماسکو کی جانب دیکھنا شروع کیا اور دوستی کے پیشگی ثبوت کے طور پر روس سے اسلحے کی خریداری کا ایک بڑا معاہدہ بھی کر لیااس صورتحال نے واشنگٹن میں خطرے کی گھنٹی بجادی امریکہ کسی طور بھی نہیں چاہتا کہ روس اور چین کا سامنا کرتے ہوئے وہ بھارت جیسے بڑے اتحادی سے محروم ہو اسی لئے روس کی جانب بڑھتے ہوئے بھارت کو جھنجھوڑنے کے لئے ٹرمپ نے ترپ کا پتہ پھینکتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ثالثی کی پیشکش کردی کیونکہ امریکہ جانتا ہے کہ کشمیر بھارت کی دکھتی رگ ہے وہ کسی صورت بھی ثالثی کے نام پر کسی تیسرے ملک کی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔

یہی وجہ ہے کہ جیسے امریکی صدر نے ثالثی کی پیشکش کی بھارت نے وادی کشمیر میں ریاستی دہشگردی میں مزید اضافہ کردیا اور کلسٹر بموں جیسے ممنوعہ ہتھیار کا کھلے عام استعمال شروع کر دیا۔
اس سارے دورانیے میں بڑی طاقتوں کے ایما پر اقوام متحدہ نے انتہائی منافقانہ کردار ادا کیا ہے۔ماضی میں جب یہ طے پا چکا تھا کہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر عوام کے استصواب رائے کے ذریعے ہو گا تو اس سلسلے میں کبھی بھارت پر بین الاقوامی دباؤ نہیں بڑھایا گیا بلکہ بھارت کی ریاست دہشت گردی کو خاموشی سے دیکھا گیا ہے ۔

اس کے علاوہ خود اقوام متحدہ کے منشور میں یہ درج ہے کہ کسی قوم کو اپنی آزادی کے لئے مسلح جدوجہد کرنے کا پورا حق ہے۔لیکن جس وقت وادی کشمیر کے مظلوم مسلمانوں نے اپنی آزادی کی خاطر ہتھیار اٹھائے تو اسے مسلح دہشت گردی سے تعبیر کیا جانے لگا۔
کافی عرصے تک کشمیری مسلمان پاکستان سے سفارتی اور اخلاقی مدد پر بھروسا کرتے رہے لیکن نائن الیون کے ڈرامے کے بعد بڑی قوتوں خصوصاً امریکہ نے پاکستان پر دباؤ ڈال کر مظلوم کشمیر یوں کو اخلاقی اور سفارتی امداد سے بھی محروم کروادیا۔

ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ مقبوضہ کشمیر کا سودا امریکہ نے افغانستان میں بھارتی حمایت کی شکل میں کیا تھا یہی وجہ ہے کہ نائن الیون کے ڈرامے کے بعد جس وقت امریکہ اپنے جدالی صہیونی لاؤ لشکر کے ساتھ افغانستان پر وارد ہوا تھا تو اسے بھارت کی مکمل عملی مدد درکار تھی اور جس طویل المدتی منصوبے کے تحت امریکہ افغانستان میں وارد ہوا تھا اس کیلئے اسے افغانستان میں اس کی بھر پور معاونت درکار تھی کیونکہ افغانستان میں امریکہ کی آمد صرف افغانستان کے لئے نہیں تھی بلکہ اس کا اصل نشانہ پاکستان اور اس کے جو ہری اثاثے تھے ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد ہی امریکہ اور اسرائیل مشرق وسطیٰ میں اپنا کھیل کھل کر کھیل سکتے تھے۔

لیکن افغان طالبان کو مسلح جدوجہد نے سارے کھیل پر پانی پھیر دیا۔
امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں اس لئے اپنے ساتھ شامل کیا تھا کیونکہ معاملہ صرف افغانستان کا نہیں بلکہ پاکستان کا تھا اور بھارت کی پاکستان کے خلاف چیرہ دستیوں سے امریکہ اور برطانیہ اچھی طرح واقف تھے انہیں پاکستان کو کاؤنٹر کرنے کے لئے بھارت کو افغان سر زمین کھل کر استعمال کرنے کی اجازت دی جس کے بعد بھارت نے پاکستانی سرحد کے قریب قونصل خانوں کے نام سے راکے دہشت گردی کے اڈے بنائے اور پاکستانی علاقوں میں دہشت گردی کی فضا پیدا کی ۔

اس تمام پس منظر کو سامنے رکھ کر اندازہ لگا یا جائے تو کیا یہ بات ہضم ہوتی محسوس ہوتی ہے کہ امریکہ محض خطے میں کشیدگی کم کرانے کیلئے ثالثی کی پیشکش کررہاہے؟اگر نہیں تو اس ثالثی کے بیان کا ایک ہی مقصد ہے کہ بھارت زیادہ روس سے قریب ہونے کی کوشش نہ کرے ورنہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر ثالثی کا پتہ کھیلے گا۔۔۔۔
دوسری جانب اطلاع ہے کہ پاکستان وزیرخارجہ نے او آئی سی سے بھی رابطہ کیا ہے کہ وہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور ممنوعہ کلسٹر بموں کے استعمال کا نوٹس لے اورمسلم دنیا میں بھارت کی مذمت کا ماحول پیدا کرے تو اس سلسلے میں افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کیونکہ او آئی سی ایک ایسا مردہ گھوڑا ہے جس میں اب جان باقی نہیں رہی اسے کسی واقعے کے حوالے سے بھی جگانا پڑتا ہے ورنہ خود سے اسے کچھ معلوم نہیں۔


دوسری جانب او آئی سی کے ممبراہم عرب ملک جو بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں کیا اس سلسلے میں پاکستان کا ساتھ دیں گے؟یقینا نہیں ۔
ان ”اہم عرب ملکوں“نے اپنی حکومتوں کی سلامتی اور مستقبل اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں تلاش کر لیا ہے جبکہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارت خطے میں اسرائیل کی فرنٹ لائن ہے اب اگر ان عرب ملکوں کو بھارت کا خوف نہیں تو پھر اسرائیل کی ناراضگی کا خوف ہو گا وہ بھلا مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم کی کیوں مذمت کریں گے جبکہ وہ فلسطین کے معاملے میں اسرائیل کے ساتھ سازباز کر چکے ہیں فلسطینی مسلمان اب کھل کر ان عرب حکومتوں کی مذمت کررہے ہیں کہ انہوں نے محض اپنی حکومتوں کے تحفظ کیلئے مسئلہ فلسطین صہیونیوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہے ۔

اس لئے او آئی سی جو پہلی ہی اپنا وجود ختم کر چکی ہے کسی طور بھی اس سے مدد طلب کرنا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہو گا۔
جو حلقے سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان”امن معاہدہ“ہو جانے سے خطے میں امن آجا ئے گا وہ بڑی غلط فہمی میں ہیں ممکن کہ معاہدے نام کی کوئی چیز دونوں فریقوں کے درمیان ہو جائے لیکن حقیقت میں افغانستان ایک بڑی جنگ کا میدان بننے جارہا ہے اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان اس بڑی جنگ کا مرکز ثقل ہو لیکن حقیقت میں یہ جنگ تمام خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ۔

اس بڑی جنگ کا ایک مقصد چین کی معاشی پیش قدمی کے سامنے آگ کی دیوار کھڑی کرنا ہے دوسرے روس کی عسکری قوت کے بڑے حصے کو اس خطے میں الجھانا ہے تیسرے پاکستان جیسے نظر یاتی اساس پر قائم ملک کی جوہری صلاحیت کو ختم کرانا ہے ۔
اس سارے عمل میں بھارت امریکہ اور اسرائیل کا فرنٹ مین ہے بھارت کی برہمن اسٹیبلشمنٹ کو باور کرادیا گیا ہے کہ اگر اسرائیل اور امریکہ نے بھارت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا تو چین اور پاکستان مل کر اس کا بھر کس نکال دیں گے۔

یہ ففتھ جنریشن بھی نہیں اب نجانے اس سے بھی آگے کی جنگی حکمت عملی کا دور آچکا ہے جس میں ہر ملک کی پر اکسیاں جنگوں میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔دہشت گردی کے نام پر مسلم ملکوں کی جہادی تنظیموں کو خود ان ملکوں کی سرکاری فوجوں کے ذریعے ختم یا محدود کرادیا گیا تاکہ آنے والے وقت میں مسلم دنیا کو مزید نہتا کیا جا سکے ورنہ بھارت جیسے ملک کے لئے بیس ہزار مسلح جنگجوہی کافی ہیں لیکن جب مغرب کے دجالی مالیاتی اداروں کو خوش کرنے کے لئے ہم خود اپنے ہاتھوں اپنی طاقت کا گلا گھونٹنے پر تل جائیں تو نتائج پھر اسی قسم کے برآمد ہوں گے۔

Your Thoughts and Comments

India ne salsi ka jawab cluster bomb se diya is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 08 August 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.