کشمیر اور امت مسلمہ !

ہمارے ہاں گزشتہ جمعے ریاستی سطح پر اہل کشمیر کے ساتھ ا ظہار یکجہتی کیا گیا ،ہر طبقہ فکر اور شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ اس میں شریک ہوئے ، ایک شہری کی حیثیت سے میں بھی سڑکوں پر نکلا، اس ہجوم میں مجھے جو قدر مشترک نظر آئی وہ شرکاء میں جذبہ جہاد کا عالمانہ اظہار تھا ، ان ریلیوں میں مجھے جہادی آیات بھی سننے کو ملیں

Muhammad Irfan Nadeem محمد عرفان ندیم بدھ ستمبر

Kashmir aur ummat e Muslima
کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ امت مسلمہ ماضی کے مغالطوں سے نکل آئے ۔مسئلہ کشمیر کے تناظر میں عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی اور ماضی میں مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کی عیسائی ریاستوں کا قیام ،کیا یہ دلائل کافی نہیں کہ امت مسلمہ اور اس کے دانشور اپنی دانش پر از سر نو غور کریں۔امت مسلمہ کا لفظ میں بالقصد استعمال کر رہا ہوں کہ آخری نتیجے کے طور پرہمیں اسی تصور امت کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔

امت مسلمہ کا مقدمہ امر واقع بننے کے لیے کچھ اسباب کا منتظر ہے، یہ اسباب جنگ عظیم کی صورت میں وقوع پذیر ہوں یا کسی علاقائی تنازع کی شکل میں ایسا مگر ہو کر رہے گا۔یہ موجودہ عصر اور عالمگیریت کا بدیہی تقاضا ہے ۔ایک گاوٴں میں کوئی بھائی ،اپنے بھائی سے بے خبر اور بے نیاز ہو کرکیسے رہ سکتا ہے ۔

(جاری ہے)


میں مستقبل میں کشمیر اورفلسطین کے تنازعات کے ضمن میں مسلم قوموں ریاستوں کے اتحاد کو امر واقع بنتے دیکھ رہا ہوں ۔

بین الاقوامی معاہدوں کے ضمن میں جس طرح مسلم ممالک کو بند گلی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے حالات کا یہ جبر انہیں ایک ہونے پر مجبور کر دے گا ۔ ممکن ہے کہ بعض اطراف سے غیر جانبداری کاظہور ہومگر آخری نتیجے کے طور پر انہیں اپنی اصل کی طرف رجوع کرنا پڑے گا ۔مودی اور نیتن یا ہوجیسے نسل پرستوں کی بڑھتی ہوئی قربتیں ،فلسطین و کشمیر پرقبضہ اور پاکستان کے خلاف سازشیں ، اس پر مستزاد حضرت ٹرمپ کی جانبداری اور یو این او کی بے بسی،یہ قرائن مستقبل کے ادراک میں کافی مدد گارثابت ہو سکتے ہیں شرط مگر بصارت و بصیرت کی ہے ۔

آر ایس ایس اور یہودی نظریے میں جو قدر مشترک ہے وہ اسلام دشمنی اور بالخصوص پاکستان کی تباہی ہے،یہ نظریاتی اشتراک کشمیر و فلسطین میں کسی نئے سانحے کو جنم دے سکتاہے ، بعید نہیں کہ یہ سانحہ جنگ عظیم کی صورت میں ظہور کرے، اس منظرنامے میں مسلم قومی ریاستوں کے پاس صرف ایک آپشن ہو گا ، ان دریں حالات میرا حسن ظن مجھے اس امت سے خیر ہی کی نوید سناتا ہے۔

 اکسیویں صدی میں جنم لینے والے تنازعات کے تناظر میں دنیا بظاہر تین حصوں میں منقسم ہے،اہل ایمان،اس سے مراد دنیا کے کسی بھی خطے میں بسنے والے مسلمان ہیں ۔معاندین اسلام،وہ طبقہ جو کسی بھی حوالے سے اسلام مخالف مزاج کا حامل ہے، اس کا تعلق یہودیت، عیسائیت ، ہندو مت یا کسی اور فرقے سے ہو سکتا ہے ۔ غیر جانبدار ہے ،یعنی وہ طبقہ جس نے ان تنازعات کے ضمن میں فقط خاموش کر دار ادا کیا ہے ، یا ذیادہ سے ذیادہ اس طبقے کی حمایت کی جس نے اپنے دلائل سے انہیں قائل کیا ۔

اس تقسیم کی نظری بنیادیں چند عالمگیر مسائل ہیں ، مثلا مسئلہ کشمیر، مثلا مسئلہ فلسطین ، مسئلہ افغانستان و عراق۔ اس کے متضاد مثلا مسئلہ مشرقی تیمور ، مثلا مسئلہ جنوبی سوڈان۔ان دو دہائیوں میں جو امر مترشح ہو کرسامنے آیا ہے وہ اہل ایمان کے ساتھ غالب تہذیب اور اس کے ہمنواوٴں کاانتہا پسندانہ رویہ اور امتیازی سلوک ہے، تہذیب کے فرزندوں اور قیام امن کے علمبرداروں نے ہمیشہ اہل ایمان کو مایوس کیا ، مایوسی جب بڑھ جائے تورد عمل میں ڈھل کر ایک نئی طاقت میں ظہور کرتی ہے ۔

امت مسلمہ کا از سرنو احیاء اسی نئی طاقت کی تجسیم ہو گی۔
کشمیر میں جو ہو رہا ہے دنیا کا باشعور طبقہ اس سے باخبر ہے، اگرچہ یہ خبریت کامل درجے کی نہیں کہ ایک قید خانے سے کوئی خبر کیسے نکال کر لائے مگر شہود واقعات پر قیاس کرتے ہوئے مستور حالات کا اندازہ تو کیا ہی جا سکتا ہے۔ اسی لاکھ کشمیری،نسل انسانی کے عظیم ترین دورارتقاء سے گزرتے ہوئے بھی ایک انتہا پسند اور جنونی شخصیت کے زیر عتاب ہیں، دنیا اس کا نوٹس کیوں نہیں لے رہی ۔

ٹرمپ اور مودی جب ملتے ہیں تو مودی اسے دو ملکوں کا ذاتی معاملہ قرار دیتاہے اور حضرت ٹرمپ ہمیشہ کی طرح ،منہ بسورکرفقط گردن ہلادینا کافی سمجھتے ہیں۔ کیا منصفانہ مزاج ہے ،موجودہ عہد میں غالب تہذیب کی منصف مزاجی اگر یونہی برقرار رہی تو میں کرہ ارض اور ساڑھے سات ارب انسانوں کے مستقبل کے بارے میں کچھ ذیادہ پر امید نہیں ہو ں ۔ 
ہمارے ہاں گزشتہ جمعے ریاستی سطح پر اہل کشمیر کے ساتھ ا ظہار یکجہتی کیا گیا ،ہر طبقہ فکر اور شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ اس میں شریک ہوئے ، ایک شہری کی حیثیت سے میں بھی سڑکوں پر نکلا، اس ہجوم میں مجھے جو قدر مشترک نظر آئی وہ شرکاء میں جذبہ جہاد کا عالمانہ اظہار تھا ، ان ریلیوں میں مجھے جہادی آیات بھی سننے کو ملیں ،الجہاد ماض الی یوم القیامتہ کی صدائیں بھی میری سماعتوں سے ٹکرائیں اور جہادی ترانے و جہادی نعرے بھی لگے ۔

 اگرچہ کچھ بدذوق ایسے بھی تھے جنہوں نے اس اہم موقعہ اپنا مسلکی چورن بیچنے سے گریز نہیں کیا ، البتہ مجموعی تاثر یہ تھا کہ میں کسی مذہبی جماعت کے جلسے میں شریک ہوں ، جیسے جیش محمد یا لشکر طیبہ ۔ دفعتا خیال گزرا کہ جس لفظ جہاد کو پچھلے بیس سالوں میں بدنام کیا گیا آج یہ امت اس کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہے ، جس جہاد کو عالمی امن کے علمبردار دہشت گردی سے معنون کرتے رہے اور ہمارے دانشور اس عنوان کو دلائل مہیا کرتے رہے، یہ امت جان گئی کہ مودی ایسے ہر معانداسلام کا علاج فقط جہاد ہے ۔

پاکستان کی سطح پر ،امت میں یہ بیداری اور جہاد کی درست تفہیم ایک خوشگوار ہوا کاجھونکاہے ۔
پچھلی دو دہائیوں کی تاریخ، تفہیم کے لیے سامنے پڑی ہے ، ان دو دہائیوں میں جو طبقہ زیر عتاب رہا وہ سوائے مسلمانوں کے اور کون ہو سکتا ہے ، تمام جنگ زدہ اور ستم رسیدہ خطے مسلمانوں سے منسوب ہیں ، افغانستان، عراق، فلسطین، میانماراور کشمیر ، کیا یہ محض اتفاقات ہیں ؟ایسے میں اگر کوئی جہاد کی بات کرے تو اسے دہشت گردی کا عنوان دیا جاتا ہے ۔

اسلامی شدت پسندی اور اسلامی ٹیررزم ، کیا دنیا کو یہودی، ہندواوربدھ شدت پسندی نظر نہیں آتی۔ پاکستان جیسے ملکوں کو ایف اے ٹی ایف کے شکنجے میں کسا گیا ، ان تمام کوششوں کا حاصل سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ ان تمام مسلم ممالک کو بند گلی کی طرف دھکیل دیا جائے ، لازم ہے کہ اہل دانش ان حالات کا ادراک کریں اور امت کو بھی اصل منظر نامے سے آگا رکھیں۔

معاندین اسلام ،مودی، نیتن یاہو، حضرت ٹرمپ یا کوئی اور اسلام دشمنی میں سب ایک ہیں ،اسلام اور مسلمانوں کا زوال ان کی مساعی کا نکتہ اشتراک ہے اور یہ اس مشن میں بدتریج آگے بڑھ رہے ہیں ۔اس منظرنامے میں مسلم ممالک کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ قابل فہم ہے ۔ مستقبل قریب میں یہ منظر مزید واضح ہو کر سامنے آجائے گا ، لازم ہے کہ یہ امت اور اس کے دانشور اپنے گرد بنے گئے جال اور شکاری کی چالوں کو سمجھیں، جس طرح پاکستان کی سطح پر، کشمیر ایشو کے تناظر میں ، امت نے جہاد کی درست تفہیم کو سمجھا ہے لازم ہے کہ دیگر ممالک میں بھی یہ احساس بیداری پیدا ہو ۔

یہ امت اور اس کے دانشور، ماضی کے مغالطوں سے نکل کر از سر نو اپنے لیے راہ عمل کا تعین کریں کہ آخری نتیجے کے طور پر انہیں انہی اعمال اور تصورات کی طرف رجوع کرنا پڑے گا ۔ 

Your Thoughts and Comments

Kashmir aur ummat e Muslima is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 04 September 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.