خالصتان کے قیام کا سنہری موقع

اب جبکہ پاک فوج نے بھارت کو دندان شکن سرپرائز دے کر دن کی روشنی میں آسمان کے تمام وہ تارے دکھادئیے ہیں جو ہندوؤں کو رات میں بھی نظر نہیں آتے تھے تو ایسے لمحے میں سکھوں کو بھی خالصتان کا ”ستارا“ کلیئر کر لینا چا ہئے

Muhammad Ijaz Haider Janjua محمد اعجازحیدرجنجوعہ ہفتہ مارچ

khalstan ke qayam ka sunehri mauqa
اتفاق سے جس دن میرا کالم بعنوان” جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ سے نوجوت سنگھ سدھو تک“ شائع ہوا اسی دن بھارتی فوج کے ہاتھوں سے زخم خوردہ ایک کشمیری مجاہد عادل احمد ڈار نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈین فوج کے ایک گشتی کانوائے پر خود کش حملہ کر کے کم و بیش 50عدد ہندوستانی سورماؤں کو جہنم واصل کر کے خود کو تاریخ حریت میں امر کر دیا۔ یہ وہ حملہ تھا جس کے وقوع پذیر ہونے سے آٹھ دن قبل بھارتی خفیہ ایجنسیاں جان کاری حاصل کر چکی تھیں مگر نواز شریف کے جگر ی دوست نر یندر مودی کی سرکار نے اس سال لوک سبھا کے انتخابات میں جیت کے لیے کوئی بھی حربہ ہاتھ نہ لگنے کی مایوسی سے چھٹکارا پانے کے لیے اس حملے کے ہونے کا خاموشی سے انتظار کیا اور جب کشمیر کا بہادر سپوت عقابی انداز سے ہندوستانیوں پر جھپٹا تو مودی سر کار پاکستان کو موردالزام ٹھہرا کر ہندوستانی عوام کو اشتعال میں مبتلا کر کے اپنا الو سیدھا کر نے کی کوشش کرنے لگی۔

(جاری ہے)

 افسوس اس بات کا ہے کہ انڈین آرمی کے اس مقتول کانوائے میں ہلاک ہونے والے تمام فوجی دلت ذات تھے۔ ہندو دھرم میں دلت،اچھوت اور شودر وغیرہ اقوام کی برہمن ،ویش، کھتری ،راجپوت وغیرہ اقوام کے پالتو کتوں کے برا بر بھی اہمیت نہیں ہوتی۔ اگر ان فوجیوں کو کوئی اعلیٰ ذات انڈین فوجی قتل کر دیتا تو شاید اتنا شوروغل نہ ہو تا مگر چونکہ مودی سر کار نے اس واقعہ کی آڑ میں انتخابات جیتنے کی تیاری کا پلا ن تشکیل دے رکھا تھا اس لیے ان دلت فوجیوں کی نعشوں کو مقدس بنا کر چبل چبل کا ایک عالمی بازار گرما رکھا ہے، عالمی ضمیر کے ہاتھوں سلامتی کونسل میں سفارتی ناکامی پر انڈیا نے 26فروری کی رات اپنی فطرت کے عین مطابق رات کے اندھیرے میں پاک سر ز مین پر ناپاک قدم رکھنے کی ناکام کوشش میں خود ہی اپنا ہر قسم کا بھرم ختم کر دیا ہے۔

انڈ یاکی اس حرکت سے میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستانی افواج اور ان کا دفاع اندرسے مکمل طور پر کھوکھلا ہے ۔ ہندوستانی معاشرہ آر ۔ایس ۔ایس کی شدت پسندی کی وجہ سے تباہی کی آخری حدوں کو چھورہا ہے،سیکولر کی آڑ میں ہندواسٹیٹ کا برہمن پردہ چاک ہو چکا ہے۔یہ شیطان چانکیائی ریاست ایک بار پھر اپنی کوتاہیوں کی بدولت کم از کم آٹھ عدد عظیم ٹکڑوں میں بٹنے جا رہی ہے، ایسے میں بابا گرونانک کے پیروکارسکھوں کے پاس 1947ء کے بعد ایک بار پھریقینی طورپرمگر آخری بار بابا گرونانک کی عظیم ترین خواہش کو عملی جامہ پہنانے کا سنہری موقع ہے ۔

 
مسلمانوں کے نزدیک غزوٴہ ہند آخری مراحل میں داخل ہو چکاہے۔ اس سنہری موقع سے اگر سکھ قوم نے فائدہ نہ اٹھایا تو با با گرونانک کی روح انہیں یوم محشر تک معاف نہیں کرے گی اور سکھ قوم کی آنے والی نسلیں اپنے بڑوں کو تا قیامت کو ستی رہیں گیں۔سکھوں پر فرض ہو چکا ہے کہ بابا گرونانک کے نظریات کی محافظ سلطنت خالصتان کے قیام کے لیے دیوانہ وار گھروں سے باہر نکلیں ،کشمیری مجاہد عادل احمد ڈار شہید نے کشمیر اور خالصتان کی آزادی کا راستہ ایک ہی سمت میں متعین کر دیا ہے ۔

اب یہ سکھوں کو طے کر نا ہے کہ وہ کشمیر کے ساتھ ہی خالصتان آزاد کرواتے ہیں یا ماضی کی بھول بھلکھیوں میں سر پٹاتے ہوئے بابا گرونانک کے نظریات سمیت برہمن پلید کی غلامی کا طوق گلے میں لٹکائے رکھنا چاہتے ہیں۔ آج عادل احمد ڈار شہید کے بہادرانہ فعل کی وجہ سے ہر کشمیری ماں فخر سے سر بلند کر کے کہہ رہی ہے کہ وہ برہان مظفر وانی ،مقبول بٹ، افضل گرو،عادل ڈار جیسے شیروں کی مائیں ہیں۔

کیا ببر خالصہ کی سکھ ماؤں نے بہادر مرد پیدا کر نے چھوڑدیئے ہیں ؟ سکھ عورتوں کے بطن سے برہمن پلید کے غلام جنم لیتے رہیں گے یا کبھی کوئی بابا گرونانک کا بالکا بھی پیدا کر یں گیں؟
کشمیری ماؤں نے اپنے لخت جگروں کے جوان خون سے کشمیر سمیت سکھوں کے خالصتان کی آزادی کی بنیاد رکھ دی ہے ۔ اب سکھ ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ زیادہ نہیں تو صرف ایک مرد سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کے جیسا پیدا کر دیں تاکہ بابا گرونانک کی غائب شدہ روح کو قیامت تک طویل قیام کے لیے خالصتان کی صورت میں اپنا وطن خوئے یار نصیب ہو سکے۔

انہی کالموں میں کئی بار لکھ چکا ہوں کہ بھارت بطور ریاست ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے جا رہا ہے ،اردگر د کے ہمسایہ ممالک سے چھیڑ چھاڑی اس کی بوکھلاہٹ اور شکستہ دلی کی واضح علامتیں ہیں۔کثیر الجثہ اور کثیر القومی ہندوستانی معاشرہ مختلف مگر عظیم مذاہب کے اٹل نظریات کے درمیان زبردست ٹکراؤ سے تباہی کی انتہاء کے قریب ٹہل رہا ہے ۔ برہمن کی شیطان پرست چانکیائی سیاست کو دلت، اچھوت ،شودر وغیرہ کمیونٹی اچھی طرح جا ن چکی ہے۔

” مہا بھارت“ اور ” کو ک شاستر“ کے مکروہ چہرے سے سیکو لر بھارت کی پلید چادر سرک کر بیچ چوراہے کشمیری مجاہدین کی قدم بوسی میں مگن ہے۔ برہمن پلید کی تعمیر کر دہ گرتی ہوئی بھارت کی نام نہاد سیکولر دیوار کو سکھوں کے صرف ایک دھکے کی ضرورت ہے ۔ اسی ایک دھکے سے ہی جنوبی ایشیاء میں رہتی دنیا تک امن لوٹ آئے گا۔
با با گرونانک کے روحانی فرزند سکھوں کو چاہیئے کہ تیر ، تلواروں ،کیل کانٹوں اور جدید دور کے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو کر ہندوستان کی گلیوں ،مارکیٹوں ، بازاروں ، شہروں، آبادیوں، میدانوں ،کوہساروں ،شاہراہوں پر فدائین بن کر ٹوٹ پڑیں تاکہ جلد از جلد خالصتان نامی بابا گرونانک کا خالص وطن دنیا کے نقشہ پر جگہ بنا پائے۔

اس مقدس مشن میں ہر با ضمیر اور غیر ت مند ہندوستانی و پاکستانی مسلمان سکھ قوم کے شانہ بشانہ ہوگا۔
سکھوں کو یاد رکھنا ہو گا کہ آزادی خون مانگتی ہے ،آزادی جوانیاں مانگتی ہے ،آزادی عزت مآب عورتوں کی عصمت کی پا مالی مانگتی ہے ، آزادی جان و مال کی تباہی مانگتی ہے،اور جو قوم یہ قربانیاں دینے کاراز پالے تو تب آزادی اس کے قوم چومتی ہے۔

سکھ بہادر قوم ہونے کا دعویٰ زور و شور سے کرتے ہیں اور یقینا سکھ قوم بہت بڑی بہادر قوم ہے،مگر جب ان کو صدیوں سے مسلمانوں کا غلام رہنے والے ہندوؤں کا غلام دیکھتا ہوں تو نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی بہادر ی پر شک ہونے لگتا ہے ۔ لیکن میرا پختہ یقین ہے کہ سکھ ماؤں کی کوکھ مرد پیدا کرنے سے ابھی بانجھ نہیں ہوئی۔
آج برہمن پلید کا ہندوستان ان مٹھی بھر کشمیری جانبازوں کے آگے اپنی عسکری طاقت کے عظیم حجم کے باوجود بے بس ہے تو یہ کشمیری مجاہدین کی لازوال قربانیوں کا قد آور ثمر ہے کہ جنوبی ایشیاء کا ہندوستان نامی اژدھا تڑپ تڑپ کرمر رہا ہے ،ا گر کشمیری جانبازوں کے ساتھ بھارتی پنجاب ،ہریانہ ،دہلی وغیرہ میں خالصتان کی آزادی کے لیے کارروائیوں کی ”ڈانگ“ بھی شامل ہو جائے تو برسوں کا کام مہینوں میں ، مہینوں کا کام ہفتوں میں اور ہفتوں کا کام دنوں میں سمٹ کر پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا ، سکھوں سمیت بھارت کی تمام محکوم اقوام اور مقبوضہ علاقوں کو آزادی مل جائے گی۔

ادھر لائن آف کنٹرول پر بزدل بھارتیوں نے بزدلانہ کارروائی کر کے اس قوم کو للکارا ہے جس قوم کے آباؤاجداد کی تلواریں برہمن کے آباوٴ اجداد کے سَروں سے کئی صدیاں کھیلتی رہی ہیں۔ہزار سال تک مسلمانوں کی غلامی پہ فخر کر کے جینے والی اکبر بادشاہ کی سسر قوم نے اپنے پرانے آقاؤں کے فرزندان کی ”بغاوت“ کر کے جس غلطی کا ارتکا ب کیا ہے اس کے بدلے اسے اب بھارت نامی ریاست سے ہاتھ دھونے ہی پڑیں گے،غوری،غزنوی،ابدالی  کے ہاتھوں شکست کھا کر ان کے تلوے چاٹنے والے پرتھوی راج اور رانگا سانگا کے ” سہمے ہوئے نا خلف بچوں“ کو اوقات یاد دلانی کشمیری جانبازوں، پاکستانی شاہینوں اور خالصتانی عقابوں کے ذمہ فرض کی صورت لازم ہو چکی ہے۔

ببر خالصہ انٹرنیشنل کے روح روا پرتاب سنگھ ،ہمت سنگھ،حکومت سنگھ، نوجوت سنگھ سدھواور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو اس مشترکہ کامیابی کے لیے ہم آہنگ ہو نا ہو گا، خصوصاً سکھوں کے لیے اس سے سنہری وقت اور موقع کبھی نہ ہو گا کہ وہ خالصتان کے قیام کے لیے خلوص نیت سے اٹھ کھڑے ہوں ،ورنہ جو وقت کو ضائع کرتے ہیں وقت ان کو ضائع کر دیتا ہے کے مصداق تمہاری داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں……
پاک بھارت کشیدگی کی فضاء میں قدرتی طور پر سکھوں کے لیے خالصتان کی علیحدگی کامقدس وقت آن پہنچا ہے اگر سکھ واقعی خالصتان اور خالصتان کے مفکر اعظم با با گرونانک سے مخلص ہیں تو اس مقد س وقت سے فائدہ اٹھائیں ایسے دلچسپ اور سنہری موقعے قدرت بار بار نہیں دیتی ۔

میرے نزدیک سکھ قوم بہادر،دلیر،غیرت مند ،عقل مند اور باضمیر قوم ہے اسی لیے میرے کالمز اکثر سکھوں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں کیونکہ میرے قارئین اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں نا چیز ،حقیر ،فقیر ناتواں کسی بے ضمیر قوم کے لیے کالم لکھنے کا وقت ضائع نہیں کرتا……اب جبکہ پاک فوج نے بھارت کو دندان شکن سرپرائز دے کر دن کی روشنی میں آسمان کے تمام وہ تارے دکھادئیے ہیں جو ہندوؤں کو رات میں بھی نظر نہیں آتے تھے تو ایسے لمحے میں سکھوں کو بھی خالصتان کا ”ستارا“ کلیئر کر لینا چا ہئے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

khalstan ke qayam ka sunehri mauqa is a international article, and listed in the articles section of the site. It was published on 02 March 2019 and is famous in international category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.