اقتدار کی خاموشیاں

ہفتہ 20 نومبر 2021

Israr Ahmad Raja

اسرار احمد راجہ

نیاز ی حکومت قائم ہوئے کافی ماہ گزر چکے ہیں آزادکشمیر کے قیام کے بعد یہاں کی حکمرانی کا موروثی حق صرف سرداروں کو دیا گیا چونکہ پاکستانی حکمران طبقے نے سدھنوں یا سرداروں کو ہی اس خطہ زمین پرحکمرانی کے لیے موزوں اور مناسب سمجھا ۔ حقیقت کے برعکس قدرت اللہ شہاب اور دیگر اس پراپیگنڈے کا حصہ بن گئے کہ تحریک آزادی کشمیر کے اصل محرک سردا ر عبدالقیوم اور سردار ابراہیم خان تھے اور ان ہی دو  سرداروں کے قبیلوں ، سدھنوں اور عباسیوں ( ڈھونڈوں ) نے موجودہ آزادکشمیر  بزور شمشر آزاد کروایا۔

پاکستانی دانشوروں ، حکمرانوں اور اہل علم و قلم کی اس بد دیانتی یا لاعلمی کی وجہ سے آزادکشمیر میں برادری ازم کی لعنت کو تقویت ملی جس کی وجہ سے تحریک آزادی کشمیر کی اصل روح نہ صرف مجروح ہوئی بلکہ نفرت ، بغض اور بد اعمالی کی بیماریوں کا شکار ہو کر نیم مردہ ہوگئی۔

(جاری ہے)


جھوٹی کہانیوں ، قصوں اور افسانوں نے ایسے ایسے لوگوں کو میدان جنگ کا ہیرو بنا کر پیش کیا جو کبھی اپنے گھروں سے ہی نہیں نکلے تھے یا پھر ڈوگرہ سرکار کے تنخواہ دار ملازم او ر وفادار تھے۔


وزیراعظم عمران خان نیازی کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے آزادکشمیر میں بھی ایک نیازی ڈھونڈ نکالا اور انہیں وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھا کر اگلے حکم تک خاموش رہنے کی تلقین کی۔
دیکھا جائے تو آزادکشمیر میں نیازی حکومت کا ھنی مون اور اپوزیشن جماعتوں کی عدت پوری ہوچکی ہے ۔ تھانیدار اور پٹواری بھتہ خوری کی نئی لسٹ کے انتظار میں ہیں اور دیگر حکومتی عملہ جنگلات کاٹ کر بیچنے اور سرکاری زمینوں پر قبضے اور فروخت کے کسی نئے طریقہ کار سے لیکر سرکاری فنڈز ہضم کرنے کے فارمولے پر کام تو کر رہے ہیں مگر سرکار کی منظوری کو خاموش مجرمانہ غفلت سمجھ رہے ہیں۔

نیاز ی سرکارہر سطح کی بیور وکریسی اور کرپٹ سیاسی گھرانوں کے صبر کا امتحان لے رہی ہے اور اقتدار کے ایوانوں، اپوزیشن اور حکومت میں وارد ہوئے نئے چہرے فی الحال سکتے کے عالم میں ہیں کہ وہ دکانوں ، تھڑوں اور پرانے سیاستدانوں کی نوکریوں سے اُٹھ کر یکدم مظفرآباد کے شاہی مہمان خانوں میں کیسے پہنچ گئے ۔ پرانے اور گھات سیاستدانوں میں سے صرف بیرسٹر سلطان محمود ہی میدان میں ہیں اور حسب صابق صدر ریاست کا عہدہ جلیلہ سنبھالنے کے بعد یورپ اور امریکہ کی سیاحت کر رہے ہیں۔

ویسے تو وہ یورپی ماحول کو خوب سمجھتے ہیں مگر ہو سکتا ہے کہ سابق بیورو کریٹ صدر مسعود خان نے انہیں کچھ نئے گر بھی سکھلائے ہوں ۔ ہماری تو رائے تھی کہ سدھن قبیلے کے حق حکمرانی کو ہی اولیت دی جاتی اور محترمہ تسلیم اسلم کو صدر ریاست کے عہدے پر تعینات کیا جاتا ۔ تسلیم اسلم جناب مسعود خان سے بہتر سفارتکاراور سخت مزاج بیورکریٹ تھیں۔ محترمہ نے میاں نواز شریف کے کچھ احکامات ماننے سے انکار کیا تھا جس کا اظہار انہوں نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں بھی کیا۔

بیرسٹر سلطان محمود  سردار مسعود سے اس لیے بھی بہتر ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں اُن کی برادری مالدار بھی ہے اور منظم بھی۔ وہ جہاں جاتے ہیں جلسے جلوس بھی کرتے ہیں جبکہ مسعود خان صرف پریس کانفرنسوں ، میٹنگوں اور کھانے پینے تک ہی محدود تھے۔
حیرت کی بات ہے کہ آذادحکومت کے آزاد منش وزیروں ، مشیروں اور بیوروکریسی نے ابھی تک یورپ کے دوروں اور عمر ہ و  زیارت کے پروگرام شروع نہیں کیے۔

ورنہ پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور مسلم کانفرنس والے حلف برداری کے کے بعد پہلا کام یہی کرتے تھے۔ لگتا ہے پچھلی حکومت سارا زکوٰة فنڈ خرچ کرگئی ہے ورنہ آزاد حکومت کے آزاد حکمران کبھی اتنے صابر وشاکر نہیں تھے۔ لگتا ہے کوئی چوہدری غلام حسین بھی اس پروگرام میں ہے جس کی وجہ سے منڈی میں مندے کا رجحان ہے۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے اپنا تعارفی پروگرام تقریباً مکمل کر لیا ہے ۔

وہ وزیراعظم پاکستان ، صدر پاکستان کے علاوہ آرمی چیف، پنجاب کے بزدار ، سرحد کے محمود خان ، سپیکروں گورنروں سے مل کر فوٹو سیشن کرواچکے ہیں۔ آجکل وہ روحانی شخصیات کے آستانوں پر حاضری دے رہیں اور صاحبزدارگان اور شہزادگان سے مل کر اپنی روح کو گرما رہے ہیں۔ آخر ی خبر تھی کہ وہ موہڑہ شریف کے پیرزاہ شہزاد ہ دیدہ و ر نذیر صاحب کی شادی میں شرکت فرما رہے ہیں۔

اخباری رپورٹ کے مطابق فقیر کی شادی پر امیروں اور وزیروں کو دعوت دی گئی ۔ مرکزی حکومت  کے اعلیٰ عہدیداروں کے علاوہ سردار عتیق احمد خان پسر مجاہد اول مرحوم سردار عبدالقیوم خان بھی موجود تھے۔ اس شادی سے پتہ چلا کہ اب سیاست میں بھی تبدیلی آچکی ہے۔ ورنہ ایک دور میں پیر ہارون الرشید کے دربار پر پیپلز پارٹی کی حاضر ہوتی تھی۔ امام غزالی نے سیاست کے جو چار درجے لکھے ہیں اُن میں انبیا کے بعد اولیاء اور علما کی سیاست ہے۔

موجودہ دور میکاولین اور چانکیائی سیاست کا ہے جو انبیا ئ، اولیا اور عام لوگوں کی سیاست  کی ضد ہے۔ قائد اعظم اور علامہ اقبال کی سیاست عام لوگوں کی سیاست تھی مگر دور حاضر کی سیاست بے نام ، بے مقصد اور مفاد پرستانہ ہے۔ دیدہ ور اچھا نام ہے ۔  بقول اقبال  کہ  ' بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پید ا '۔  ہماری جانب سے حضرت پیر دیدہ ور نذیر صاحب کو شادی مبارک۔

حاضرین پر ہمار ا تحفظ محفوض ہے اور معاملہ حضرت نظام الدین آف کیناں شریف  اور حضرت پیر قاسم موہڑوی صاحب  پر چھوڑتے ہیں۔
شنید ہے کہ روحانی حدود کے بعد وزیراعظم آزادکشمیر ضیافتی دوروں کا سلسلہ شروع کرنیوالے ہیں جو طویل بھی ہوسکتا ہے۔ بہر حال فکر کی کوئی بات نہیں سینئر وزیر مظفرآبا دمیں ہی ہیں اور فائل واک ہو رہا ہے جو ستر سالوں سے جاری ہے۔


وزیراعظم پاکستان سینئر نیازی ہیںاور اُن ہی کا منشور آزادکشمیر اور گلگت  بلتستان پر بھی لاگو ہے۔ یاددلاتے چلیں کہ پی ٹی آئی کے منشور میں کرپشن سے پاک معاشرہ ، گوڈ گورننس ،عد ل و انصاف کی فراہمی اور سرسبز پاکستان شامل تھا۔ ہم مکانوں اور نوکریوں کی بات نہیں کرتے اور اسے محض سیاسی نعرہ سمجھ کر درگزر کرتے ہیں۔ پہلی حکومتیں بھی روٹی کپڑا مکان اور دیگر نعرے لگاتی رہی ہیں اور عوام اُن پر بھی اعتماد کرتے رہے ہیں۔


عمران خان کو چاہیے کہ وہ آزادکشمیر کی حد تک ہی کوئی کام کردے ۔آزاد کشمیر کا انتظامی ڈھانچہ زنگ آلودہ اور کرپشن زردہ ہے جسے بحال کرنا کوئی مشکل کام نہیں ۔ ایک ایماندار چیف سیکرٹری آئی جی ، فنانس سیکرٹری اور چیئرمین احتساب بیورو ایک ہی ماہ میں ساری غلاظت صاف کر سکتے ہیں ۔
خوش قسمتی سے آزادکشمیر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سیاسی دبائو قبول کرنے اور کسی دھونس میں آنیوالے نہیں۔

مگر شنید ہے کہ ایک قاتل وکیل سمیت کچھ لوگوں کو پاکستانی بیوروکریسی اور بوٹ برداری محض برادری ازم کی بنیاد پر عدلیہ اور دیگر عہدوں پر تعینات کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ پہلے ہی آزادکشمیر کے عوام ایسی حرکتوں کی وجہ سے نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ بہتر ہے کہ مزید گندگی نہ پھیلائی جائے اور پاکستان میں برادریوں کے سرخیل اپنا گند جہلم اور نیلم کے متبرک پانیوں میں نہ پھینکیں ۔


آزادکشمیر کے جنگلات پچھلی حکومتوں نے مہاراجہ کی ملکیت سمجھ کر تباہ کیے۔ وزیراعظم آزادکشمیر منگلا ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ دیکھ کر جنگل مافیا کے خلاف کارروائی کریں اور شجرکاری مہم کو ترجیع دیں۔ کشمیر ہائوسنگ سکیم پر ہونے والی انکوائری کا ٹھپ ہونا بھی معنی خیز ہے ۔ اور سنا ہے کہ اس پر بھی برداری سرخلیوں کا دبھائو ہے۔ ضروری ہے کہ کشمیر ہائوسنگ سکیم کے مجرمان اور جنگل مافیا کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور مجرموں کو اعلیٰ عہدوں اور اسمبلیوں میں بٹھانے کا کھیل بند کیا جائے ورنہ اقتدار کی خاموشیاں اقتدار کی محرومیوں میں بھی بدل سکتی ہیں۔ اقتدار کا اصل مالک اللہ ہے کاش بوٹوں اور سوٹوں والے سمجھ جائیں۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Iqtedar Ki Khamoshiyaan Column By Israr Ahmad Raja, the column was published on 20 November 2021. Israr Ahmad Raja has written 160 columns on Urdu Point. Read all columns written by Israr Ahmad Raja on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.