
- مرکزی صفحہ
- اردو کالم
- کالم نگار
- پیر محمد فاروق بہاوٴالحق شاہ
- کیا اپوزیشن اور حکومت کے درمیان برف پگھل رہی ہے؟
کیا اپوزیشن اور حکومت کے درمیان برف پگھل رہی ہے؟
جمعرات 15 جولائی 2021

پیر محمد فاروق بہاوٴالحق شاہ
(جاری ہے)
گزشتہ بجٹ اجلاس میں قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی اور ایک دوسرے پر حملوں کے علاوہ گالم گلوچ پر تمام حلقوں میں شدید دکھ اور تشویش کا اظہار کیا تھا جب کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی ہونے والی ہنگامہ آرائی کا نوٹس لیا تھا۔قومی اسمبلی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی پر بات چیت کے لئے وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو ملاقات کے لیے بلایا اور اس حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔
کیا ن لیگ اور حکومت کے مابین مفاہمت کا تاثر درست ہے؟
مسلم لیگ ن کا موقف
شہباز شریف کی عدم موجودگی پر تنقید کے بعد مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وضاحتی ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’شہباز شریف اپنے تایا زاد بھائی اور برادر نسبتی میاں طارق شفیع کی وفات کے باعث جنازے اور لاہور میں رسم قل کی وجہ سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے۔ ان کی عدم موجودگی پر پریشان ہونے والے اب ان سے تعزیت کر سکتے ہیں۔‘ن لیگ کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے بلاول بھٹو کے بیان کو غیر زمہ دارانہ قرار دیا۔
مریم اورنگزیب نے مزید کہا حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن کے تمام ارکان کے موجود ہونے کے باوجود بجٹ منظور ہونے سے نہیں روکا جا سکتا تھا۔ بجٹ 172 ووٹ سے منظورہوا، اختر مینگل اور جماعت اسلامی کی عدم موجودگی کے بعد اپوزیشن کے کل ووٹ 161 بنتے تھے جس سے فنانس بل پر کوئی اثر نہیں پڑنا تھا۔ سستی سیاسی بیان بازی لاحاصل مشق ہے۔
ن لیگ کی ترجمان نے کہا کہ اپوزیشن کا کام بجٹ نکات کی خامیوں اور نقائص کی نشاندہی ہوتا ہے۔ تاریخ کا پہلا بجٹ ہے جس میں اپوزیشن کی نشاندہی پر خاصی تبدیلیاں ہوئیں اور حکومت کو پے درپے اتنے یوٹرنز لینے پڑے۔ فنانس بل میں اپوزیشن کی تجویز کردہ 15 شقوں میں 35 سے زائد ترامیم کی گئیں۔ادھر سما ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے بلاول بھٹو کے بیان کو غیر زمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پیپلز پارٹی فنانس بل پر ہم سے شرارت کر رہی ہے۔ میں پیپلز پارٹی کے رویے کی مذمت کرتا ہوں۔‘اس سے قبل میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے ارکان مکمل تھے ’میں اپنی ہی جماعت کا ذمہ دار ہوں‘۔ان کا کہنا تھا کہ آج اپوزیشن کی تعداد پوری نہ ہونے کا معاملہ شہباز شریف کے سامنے اٹھاؤں گا۔
بجٹ سیشن پر وزیر اعظم کے ساتھ اپوزیشن کی کیا ڈیل ہوئی تھی؟
آزاد ذرائع اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین رابطہ بحال ہوگئے ہیں اور اپوزیشن نے ایک ڈیل کے تحت بجٹ پاس کرانے کیلے حکومت کو موقع دیا ہے۔بی بی سی اردو پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پیپلز پارٹی کی راہنما شازیہ مری کا موقف شائع کیا گیا ہے جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے حکومت اور اپوزیشن کو مقتدر حلقوں کی طرف سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ اپنے معاملات کو درست کریں۔شازیہ مری کے مطابق ان کی قیادت کو سپیکر چیمبر بلایا گیا اور وزیر اعظم کی تقریر سے متعلق بات کی گئی۔ ان کے مطابق ہم تو ویسے بھی کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کو اکھاڑا نہ بنایا جائے۔ ہم ایک عرصے سے سپیکر کو یاد دلاتے ہیں کہ پارلیمنٹ کو آئین اور قانون کی روشنی میں چلایا جائے۔ اس طرح پارلیمنٹ کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ جو مناظر 13 جون کو دیکھے وہ نہ صرف قابل غور ہیں بلکہ قابل شرم بھی ہیں۔شازیہ مری نے مزید کہا کہ سپیکر نے جس انداز میں فنانس بل رولز کی خلاف ورزی میں پاس کروایا ہے اس پر نہ صرف ان کی جماعت نے اعتراض کیا بلکہ سپیکر کو اس پر خط بھی لکھا گیا۔ تاہم ان کے مطابق حکومت کی طرف سے رابطے کرنے پر اس بات پر اتفاق ہوا کہ وزیر اعظم اپنی تقریر میں قومی مفاد پر بات کریں گے اور اپوزیشن قیادت پر الزام تراشی نہیں کریں گے ورنہ سیاسی کارکنان اس پر ردعمل دیں گے کیونکہ وہ اپنی قیادت پر اس طرح کیچڑ اچھالنے کو پسند نہیں کرتے۔شازیہ مری کے مطابق پارلیمانی روایات ہیں کہ پارلیمنٹ کا ماحول اچھا رکھنے کے لیے کوششیں کی جاتی ہیں مگر اس کے ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو آئندہ بھی سیدھے رستے پر رکھنے کے لیے پارلیمانی روایات کو یاد کراتے رہیں گے۔
حکومت اپوزیشن ڈیل پر آزاد تجزیہ نگاروں کی رائے
اس معاملے پر سیاسی تجزیہ کاروں کی آرا بھی منقسم نظر آ رہی ہیں۔ لمز کے شعبہ ابلاغیات کے سربراہ پروفیسر رسول بخش رئیس کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپوزیشن اور حکومت کو یہ بات سمجھائی ہے کہ خطے کے حالات کے سازگار نہیں ہیں اور ایسے میں اتفاق رائے پہلے سے بھی کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے مؤقف میں نرمی ضرور واقع ہوئی ہے۔ ان کے خیال میں پیپلز پارٹی سندھ حکومت تک ہی معاملات آگے بڑھا رہی ہے جبکہ مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے درمیان بیک ڈور رابطوں میں یہ بات طے پا گئی ہے کہ اب حالات کو سازگار بنانا ہے۔۔ازاد زرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیز فائر متوقع تھا کیونکہ وزیر اعظم کو اپنی بات کہنی تھی اور پھر اس کے بدلے میں انھوں نے اپوزیشن کو چور اور ڈاکو نہیں کہا۔ ان کے مطابق اس وقت مفاہمت ممکن نہیں ہے کیونکہ عمران خان جمہوریت میں بھی کرکٹ کے اصول لاگو کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ابھی تک عمران خان اسی ذہنیت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ اپوزیشن والے چور ڈاکو ہیں اور وہ ان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔
سینئر تجزیہ کار اور صحافی نسیم زہرا کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے خود کہہ دیا کہ انتخابی اصلاحات کی جائیں۔ ان کے مطابق کچھ نہ کچھ حالات سازگار ضرور ہو رہے ہیں اور اب حکومت کے رویے میں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
تاہم میرے خیال نسیم زہرا کا یہ کہنا کہنا قبل از وقت ہے حکومت اور اپوزیشن میں اگرچہ دوریاں کم ہو رہی ہیں لیکن یہ کہنا آسان نہیں کہ یہ مفاہمت اور ڈیل کس جماعت کے ساتھ ہورہی ہے۔
کیا وزیر اعظم کے رویے میں تبدیلی آ رہی ہے؟
راقم کی معلومات کے مطابق مقتدر حلقوں کی جانب سے وزیر اعظم کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ ہروقت سیاسی درجہ حرارت بلند رکھنا مناسب نہیں۔زرائع کے مطابق عمران خان کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ ان کے آفس کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ ہر وقت اپوزیشن کو ہی تنقید کا نشانہ بناتے رہیں۔اس لیے حکومت اور اپوزیشن میں مزید پش رفت ممکن ہے اور دونوں آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت کریں گے۔ تاہم یہ طے ہے کہ معاملات شہباز شریف کے ہاتھ میں نہیں ہیں اور ایسی کسی بھی ڈیل یا مفاہمت کی منظوری براہ راست نواز شریف ہی دیں گے۔
خلاصہ کلام
پاکستان مسلم لیگ کے صدر میاں شہباز شریف ملکی سیاست کے حوالے سے اپنی ایک الگ رائے رکھتے ہیں جس سے اختلاف کرنے والوں کی بھی ایک خاصی بڑی تعداد موجود ہے۔قائد حزب اختلاف کے زیر حراست عرصے کے دوران محترمہ مریم نواز نے جو بیانیہ اختیار کیا وہ اب خاموشی کا شکار نظر آ رہا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ نون نے مفاہمتی عمل کی حقیقت کو قبول کرلیا ہے۔فوجی قیادت کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ کے دوران مسلم لیگ ن کے راہ نماؤں کی گرم جوشی بتا رہی تھی کہ وہ اس امر کے خواہاں ہیں کہ مقتدر حلقے مفاہمت کی بات کو آگے بڑھائیں۔لیکن جس طرح کے اوپر عرض کیا یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئی ڈیل اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکے گی جب تک میاں نواز شریف کی تائید حاصل نہیں ہوگی۔آنے والے دو ماہ اس حوالے سے بہت اہمیت کے حامل ہیں ان میں سیاسی منظرنامہ بڑی حد تک واضح ہو جائے گا۔آنے والے مہینوں میں پی ڈی ایم کا مستقبل بھی مزید واضح ہو جائے گا اور یہ وقت فیصلہ کرے گا کہ اس کے تنِ مردہ میں جان پڑتی ہے یا نہیں۔لیکن اس حقیقت سے انکار کرنا ممکن نہیں کہ مسلم لیگ نون اس وقت مفاہمت کی کشتی پر سوار ہو چکی ہے۔اور آئندہ انتخابات کے لئے اپنی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
تازہ ترین کالمز :
پیر محمد فاروق بہاوٴالحق شاہ کے کالمز
-
آن لائن احتجاجی تحریک
جمعرات 17 فروری 2022
-
توجہ کا طالب
جمعرات 10 فروری 2022
-
یوم یکجہتی کشمیر
ہفتہ 5 فروری 2022
-
فوجداری قوانین: مجوزہ ترامیم اور حقائق
جمعرات 3 فروری 2022
-
سانحہ مری۔مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے؟
پیر 10 جنوری 2022
-
جمہوری روایات کو لاحق خطرات
بدھ 5 جنوری 2022
-
مولانا آرہے ہیں؟
منگل 28 دسمبر 2021
-
سانحہ اے پی ایس۔ جس کے زخم آج بھی تازہ ہیں
جمعہ 17 دسمبر 2021
پیر محمد فاروق بہاوٴالحق شاہ کے مزید کالمز
کالم نگار
مزید عنوان
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.