قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث جاری، گزشتہ 70سالوں سے خلائی مخلوق ملک کا بجٹ بنا رہی ہے ،اپوزیشن

خلائی مخلوق کا مقصد صرف ایک ہے کہ امیروں کو چھوڑو اور غیریبوں کو نچوڑو،20دن کی مہمان حکومت 365 دن کا بجٹ دے رہی ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی آئے گی، ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی اور زرعی مشینری پر ٹیکسوں کی کمی، شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے لئے بلا سود قرضوں کے اجرا کے حوالے سے سینیٹ سفارشات کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے،سگریٹ پر جمع کئے جانے والے ٹیکسز کو صحت پر خرچ کیا جائے،بجٹ کے ذریعے وی آئی پی کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے، سمندر پار پاکستانیوں کے بھیجے گئے زر مبادلہ سے ملک چلایا جا رہا ہے تاہم انہیں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا قومی اسمبلی میں بجٹ پر سینیٹ کی جانب سے دی گئی سفارشات پر بحث اپوزیشن ارکا ن کا اظہار خیال بجٹ کو دہشت گردی غربت زدہ علاقوں میں پھیلتی ہے ،بجٹ میں ان عوامل کا خیال رکھنا ہوگا ،زراعت ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے ، صنعتوں کی طرح زراعت کو بھی پانچ سے سات فیصد شرح سود پر قرضہ دیا جائے، حکومتی اراکین

جمعہ مئی 18:36

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں بجٹ پر سینیٹ کی جانب سے دی گئی سفارشات پر بحث کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان نے کہا ہے کہگزشتہ 70سالوں سے خلائی مخلوق ملک کا بجٹ بنا رہی ہے جس کا مقصد صرف ایک ہے کہ امیروں کو چھوڑو اور غیریبوں کو نچوڑو،20دن کی مہمان حکومت 365 دن کا بجٹ دے رہی ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی آئے گی،ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی اور زرعی مشینری پر ٹیکسوں کی کمی، شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے لئے بلا سود قرضوں کے اجرا کے حوالے سے سینیٹ سفارشات کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے،سگریٹ پر جمع کئے جانے والے ٹیکسز کو صحت پر خرچ کیا جائے،،بجٹ کے ذریعے وی آئی پی کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے، سمندر پار پاکستانیوں کے بھیجے گئے زر مبادلہ سے ملک چلایا جا رہا ہے تاہم انہیں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔

(جاری ہے)

جبکہ حکومتی اراکین نے کہا ہے کہ بجٹ کو دہشت گردی غربت زدہ علاقوں میں پھیلتی ہے ،،بجٹ میں ان عوامل کا خیال رکھنا ہوگا ،زراعت ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے ، صنعتوں کی طرح زراعت کو بھی پانچ سے سات فیصد شرح سود پر قرضہ دیا جائے۔جمعہ کو قومی اسمبلی میں سینٹ سے موصول ہونے والی سفارشات پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا کہ وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے، سیکیورٹی معاملات پر حکومت کی گرفت مضبوط ہونی چاہیے، وزیر داخلہ پر حملہ اس بات کا عکاس ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے بیس نکات پر عمل نہیں کیا گیا، بلاول بھٹو نے احسن اقبال کی عیادت کر کے ایک اچھا پیغام دیا، دوسرے سیاسی رہنمائوں کو بھی ایسی روایات قائم کرنا ہوں گی، عدالت کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان سے تعلق رکھنے والے 5ملزمان کو رہا کیا گیا جو کہ بے نظیر بھٹو شہید کے قتل میں ملوث تھے، ان ارکان پر سنگین الزامات ثابت ہو رہے تھے، خود کش حملہ کرنے والوں کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، پاکستانی قوم ،،پیپلز پارٹی کے کارکان، جماعت کی قیادت اور بی بی شہید کی اولاد پر کیا گزر رہی ہو گی کہ جب عدالت قتل میں ملوث لوگوں کو رہا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بجٹ غیر آئینی طور پر پیش کیا گیا،،بجٹ پیش کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں تھا، تمام اپوزیشن جماعتیں بجٹ کو مسترد کر چکی ہیں، وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال میں شروع کی جانے والی ترقیاتی اسکیموں کیلئے رقم مختص کی گئی، پاکستان پیپلز پارٹی نے 2010میں صوبوں کے اتفاق رائے سے این ایف سی ایوارڈ دیا جو کہ ایک تاریخی کامیابی تھی، موجودہ حکومت نے اس کامیابی کو نظر انداز کیا، این ایف سی ایوارڈ کو تعطل کا شکار کیا گیا، وو ٹ کو عزت دو کا نعرہ کھوکھلا ہو رہا ہے، نیشنل اکنامک کونسل سے تین وزرائے اعلی نے بائیکاٹ کیا، تینوں صوبوں کے وزرائے اعلی کے استحقاق کو مجروح کیا گیا، سندھ کیلئے صحت، پانی اور دیگر شعبوں کیلئے انتہائی کم رقم مختص کی گئی،حکومت کی جانب سے بلاواسطہ ٹیکسز میں 13فیصد اضافہ کیا گیا، دیگر ٹیکسز میں 113فیصد کا اضافہ ہوا، لوگوں کو اپنے مسائل سے غرض ہے، لوگ نہیں جاننا چاہتے کہ آپ کو کیوں نکالا گیا، جب عدالت نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نا اہل کیا تو تب بھی ووٹ کا تقدس تھا،نیب کی جانب سے دوہرا معیار اختیار کیا جارہا ہے، شرجیل میمن کو الزامات ثابت نہ ہونے کے باوجود جیل میں ڈالا گیا جبکہ پنجاب میں سیاسی رہنمائوں کو گرفتار تک نہیں کیا گیا، انہوں نے کہا کہ جو ارکان اسمبلی خواتین کی عزت نہیں کرتے ان کے بیانات پر افسوس ہوتا ہے، ایک وزیر مملکت نے خواتین کے بارے میں جو تقریر کی اس پر دل دکھی ہوا۔

رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور نے سینیٹ کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے تیار کی جانے والی سفارشات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سینٹ کی سفارشات اچھی ہیں۔ ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی اور زرعی مشینری پر ٹیکسوں کی کمی کے حوالے سے سفارشات کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے۔اس کے علاوہ شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے لئے بلا سود قرضوں کے اجرا کے حوالے سے بھی سینٹ نے سفارش کی ہے۔

اسمبلی نے حلال فوڈ اتھارٹی کا بل منظور کیا تھا اس کو فعال کیا جائے۔ فاٹا کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بہت کم بجٹ رکھا گیا ہے۔ قومی امبلی کا ایک الوداعی سیشن لازمی ہونا چاہیے۔ ٹیکس سافٹ ویئر کو آسان بنایا جائے،،بلوچستان کے حوالے سے تمام بجٹ سفارشات پر عمل کیا جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی نے کہا کہ سینٹ کی 157 سفارشات خوش آئند ہیں۔

بجٹ میں وفاقی اکائیوں کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔حکومت نے چار ماہ کی بجائے پورے سال کا بجٹ پیش کیا، جو کہ غیر آئینی اور غیر اخلاقی اقدام ہے، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے کے باوجود چلایا گیا جو کہ قابل مذمت ہے، صوبوں پر وفاق اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتا ہے یہ جمہوری رویہ نہیں ہے، صوبوں کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ ان کی قسمت کا فیصلہ ہم کریں گے،،بجٹ کے ذریعے وی آئی پی کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے، سمندر پار پاکستانیوں کے بھیجے گئے زر مبادلہ سے ملک چلایا جا رہا ہے تاہم انہیں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔

رکن اسمبلی عثمان خان ترکئی نے کہا کہ ہم پانچ سال پورے کر رہے ہیں اور چھٹا بجٹ دے رہے ہیں، الیکشن وقت پر اور افہام و تفہیم سے ہو نا چاہیئے انہوں نے کہا کہ بجلی کے محکمے میں اتنی خرافات ہیں کہ وہ ڈلیور نہیں کر سکتے، آج اگر لوڈشیڈنگ ہے تواس میں زیادہ مسئلہ ٹرانسمیشن لائن کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پانی کے مسائل ہیں جن پر توجہ دینا بہت ضروری ہے، میرے صوبے میں گنا اور تمباکو کی فصل پر لوگوں کا دارومدار ہے، زمینداروں کا جینا حرام کردیا گیا ہے، ٹیکسوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جو ایک ظلم ہے، زمیندار پر 23 روپے ٹیکس کو ہٹایا جائے،گنے کی قیمت نہ ہونے کے برابر ہے، گڑ پر پابندی لگائی گئی ہے، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے، وہ پاکستانی ہیں ۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی رائو اجمل نے کہا کہ زراعت ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے ، زراعت کو بھی سنگل ڈیجٹ سود پر قرضہ دیا جائے، زراعت کو محفوظ رکھنے کیلئے کوئی رقم نہیں رکھی گئی، ہمیں بھکاری نہ بنایا جائے، بیرون ملک سے بیج منگوانے کی اجازت دی جائے ، انہوں نے کہا کہ سابقہ وزیر خزانہ کی 5مرلہ بھی زمین نہیں تھی آنے والے کو بھی شاید زمیندار ے کا پتہ نہ ہو۔

رائو اجمل نے کہا کہ معیشت کی پالیسیاں کمزور ہو چکی ہیں، ریسرچ کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے، ہم تین سال سے سنگل ڈیجٹ کیلئے درخواست کر رہے ہیں، کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، کسان کی بہتری کیلئے کوئی کام نہیں ہوا۔ پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شگفتہ جمانی نے کہا کہ بجٹ کو اپوزیشن نے مسترد کر دیا ہے، پی ایس ڈی پی میں فارن آفس کی ایک سکیم کیلئے 100ملین رکھا گیا ہے، اتنا بڑا کنونشن سنٹر موجود ہے، ایسی کیا ضرورت پڑ گئی ہے جس کیلئے 100ملین کی رقم رکھی ہے،70اسکیمیں صرف صوبہ پنجاب کیلئے رکھی گئی ہیں، باقی صوبے آپ کو نظر نہیں آتے، ہم نے سب کی تنقیدیں برداشت کی ہیں، آپ پر جتنا بھی مشکل وقت آیا ہم نے جمہوریت کیلئے اپنا کندھا پیش کیا، ہم نے جمہوریت کیلئے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کیا ہے، ہر جگہ آپ کی تنقیدوں کا رخ پیپلز پارٹی کی طرف کیوں ہوتا ہے، آج پاکستان کا ہر فرد ایک لاکھ پچیس ہزار کا مقروض ہے، انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کے 57سٹیشن کس کے پاس گروی رکھ دیئے ہیں، یہ پانامہ کیا ہے، یہ چیئرمین نیب کونسے پیسے بھارت بھیجے جانے کی بات کررہا ہے، چائنہ کی کمپنیوں کے ساتھ کک بیک کی داستانیں کیا ہیں۔

شگفتہ جمانی نے کہا کہ آج ملک کی ہر اکائی آپ سے ناراض ہے، بی بی کی شہادت کے بعد پاکستان کھپے کا نعرہ بھی ہم نے لگایا، انہوں نے کہا کہ نہ پانی ہے نہ گیس ہے آج سندھ سراپا احتجاج ہے، لوگ پانی کو ترس رہے ہیں۔ کالا باغ ڈیم دفن ہو چکا ہے، انہوں نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ فاٹا کے لوگ آپ سے ناراض ہیں۔۔جماعت اسلامی کے صاحبزادہ محمد یعقوب نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ تمام دشواریوں کے باوجود اسمبلی مدت پوری کر رہی ہے ، توقع ہے انتقال اقتدار کا مرحلہ احسن انداز میں سرانجام دیا جائے گا۔

انہوں نے شرح سود قرضوں اور اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی صورتحال غیر تسلی بخش ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ آئندہ کے لئے بجٹ سازی کا عمل پورا سال جاری رکھا جائے اور اس کے لئے ایوان کی کمیٹی قائم کی جائے۔۔ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی ایس اے اقبال قادری نے کہا کہ بجٹ آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے،،بجٹ میں نائن فائیلرز کو گاڑی اور پلاٹ خریدنے سے روکا جا رہا ہے، آئین کے تحت ملک کے شہری کو اپنی جائیداد کے تحفظ اور روزگار پیدا کرنے کے حوالے سے جو حقوق حاصل ہیں ان کا بجٹ میں خیال نہیں رکھا گیا،مسلم لیگ (ن)جب اپوزیشن میں تھی تو پیٹرولیم لیوی کو جگا ٹیکس قرار دیتی تھی مگر اقتدار میں آکر اسی لیوی ٹیکس میں اضافہ کر رہی ہے۔

ملک میںگزشتہ 70سالوں سے خلائی مخلوق ہی بجٹ بنا رہی ہے جس کا مقصد صرف ایک ہے کہ امیروں کو چھوڑو اور غیریبوں کو نچوڑو۔۔بجٹ میں لیوی ٹیکس میں اضافے سے مہنگائی کا طوفان آئے گا۔۔بجٹ میں کراچی کو اس کا حق نہیں دیا گیا۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر میاں رضا حسین پیرزادہ نے کہا کہ سی سی آئی نے اتفاق رائے سے پہلے بھی اور اب بھی واٹر پالیسی مرتب کی۔

فضلے اور انڈسٹریل ویسٹ کے حوالے سے صوبوں کو ہم نے بار بار خطوط لکھے کہ انسانوں اور جانوروں پر اس کے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تمام وزرا اعلی کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے اس معاملے کو واٹر پالیسی سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔دنیا کے کئی ممالک سمندر کا پانی صاف کرکے پینے کے لئے فراہم کر رہے ہیں۔ ہم نے بھی صوبوں کو اس حوالے سے لکھا ہے۔

دنیا کے کئی ممالک باہر سے کوڑا امپورٹ کرکے انرجی پیدا کر رہے ہیں۔ دیہاتوں میں بھی گندے پانی کو صاف کرنے کے پلانٹ لگائے جائیں یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی غربت زدہ علاقوں میں پھیلتی ہے۔ بجٹ میں ان عوامل کا خیال رکھنا ہوگا۔کپاس سمیت دیگر فصلوں کو سنڈیوں سے بچانے کے لئے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف اگر دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر نہ ہوتے تو آج حالات بہتر نہ ہوتے۔

اس کا تمام کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبوں کو آبادی میں اضافے کے حوالے سے بھی لکھا ہے کہ وہ صحت کی پالیسی کے ساتھ آبادی کے معاملے کو بھی منسلک کریں۔صوبوں کو آبادی کنٹرول کرنے کا موثر منصوبہ دینا چاہیے۔ پاپویشن بلاسٹ کو روکنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ میں نے ہمیشہ اصولوں کا ساتھ دیا ہے۔ عزت کے ساتھ قبر میں جانا چاہتا ہوں۔