سپیکر ثنا اللہ اور سعد رفیق کو پی اے سی کا ممبر بنائیں

وزیر اعظم پی پی ،(ن) کی جانب سے کرپشن کا پیسہ واپس دینے کی افواہوں پر قوم کو اعتماد میں لیں مفت کی ڈیل اور ڈھیل قبول نہیں، شریف برادران نے تو اسامہ بن لادن کا مال نہیں چھوڑا ، آرمی چیف شہباز شریف کی سکیورٹی سے رینجرز کی گاڑیاں ہٹائیں لانگ مارچ اور لونگ گواچے میں فرق ہے ، بلاول بھٹو کرپشن کے خلاف لانگ مارچ کرنے نکلیں میں ہاتھوںمیں ہاتھ ڈال کر ساتھ دوںگا وزیر اعظم 12فروری کو تھل ایکسپریس کا افتتاح کرینگے ‘ وزیر ریلوے کی پریس کانفرنس

ہفتہ فروری 15:20

سپیکر ثنا اللہ اور سعد رفیق کو پی اے سی کا ممبر بنائیں
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 فروری2019ء) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی جانب سے لوٹ مار اور کرپشن کا پیسہ واپس دینے کی افواہوں پر قوم کو اعتماد میں لیں ، مفت کی ڈیل اور ڈھیل قبول نہیں ، شریف برادران نے تو اسامہ بن لادن کا مال بھی نہیں چھوڑا ، آرمی چیف سے اپیل ہے کہ شہباز شریف کی سکیورٹی پرتعینات رینجرز کی گاڑیاں ہٹائی جائیں ، سپیکر قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ اور سعد رفیق کو فی الفور پبلک اکائونٹس کمیٹی کا ممبر بنائیں ،لانگ مارچ اور لونگ گواچے میں فرق ہے ، بلاول بھٹو کرپشن کے خلاف لانگ مارچ کرنے نکلیں میں ہاتھوںمیں ہاتھ ڈال کر ساتھ دوںگا،وزیر اعظم 12فروری کو تھل ایکسپریس کا افتتاح کریںگے جبکہ پہلی وی آئی پی ٹرین کے افتتاح کے لئے 30مارچ کی تاریخ فائنل کی گئی ہے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں ریلوے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ فریٹ کمپنی کا ہیڈ کوارٹر لاہور سے کراچی شفٹ کر دیاگیاہے اور میں نے اسی دفتر میں اپنے لئے ایک کمرہ مختص کیا ہے ،وزیر اعظم کی اجازت سے ریڈیمکو کا محکمہ ختم کر دیا، مارچ میں لاہور ، راولپنڈی ٹریک کو بہتر کرنے جارہے ہیں جس سے مجموعی سفر آدھا گھنٹہ کم ہو جائے گا ، تین ماہ میں بغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں سے 32کروڑ روپے جرمانہ وصول کیا ہے اور آج سے پولیس کو بھی اختیار دیدیا ہے کہ وہ چھاپہ مار سکتے ہیں ۔

انہوںنے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان 12فروری کو تھل ایکسپریس کا افتتاح کریں گے۔ پہلی وی آئی پی ٹرین کے افتتاح کے لئے 30مارچ کی تاریخ فائنل کی ہے اور اس کا نام جناح ایکسپریس رکھا ہے جبکہ دوسری وی آئی پی ٹرین سر سید احمد خان کے نام سے چلے گی تاہم ابھی اس پر کام شروع نہیں کیا ۔ دو نئی فریٹ ٹرینیں چلا دی ہیں اور مارچ تک مزید دو ٹرینیں چلائی جائیںگی ، ٹینڈرنگ کے مراحل مکمل ہونے پر کوچز منگوائیں گے اور انشا اللہ پورے ملک میں ریل کا جال بچھا دیں گے ۔

انہوںنے بتایا کہ ایم ایل ون کے حوالے سے اسی ہفتے میٹنگ ہو گی اور وزیر اعظم فیصلہ کریں گے کہ اس کا موڈ آف انویسٹمنٹ کیا ہوگا،وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار مارچ میں نا لہ لئی کے حوالے سے حتمی اعلان کریں گے اور یہ دونوں منصوبے مکمل ہو جائیں تو میں سیاست سے عزت سے ریٹائر ہو جائوںگا ۔ انہوںنے بتایا کہ ہر ٹرین میں ایک ٹرین مینیجر لگا رہے ہیں جس کا ہر جگہ نمبر درج ہوگا او رلوگ اپنی کسی بھی شکایت سے متعلق براہ راست رابطہ کر سکیں گے ،میںخود بھی جب اسلام آباد میں موجود ہوں گا تو صبح 9سے 10 ایک گھنٹہ لوگوں کی براہ راست شکایات سنوں گا۔

شیخ رشید نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھاکہ شریف برادران بزدل سیاستدان ہیں یہ کرپشن کیسز میں ہیرو بننے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ انہیں 20 سال پہلے جو بیماری تھی وہ آج پکڑے جانے پر دوبارہ لا حق ہو گئی ہے ، یہ بیماریاں صرف اپنی ضمانت کیلئے سنبھال کر رکھتے ہیں تاکہ ضمانت میں آسانی ہو ۔ بیماری کی بنیادی وجہ ڈیل سے ناکامی کے بعد ڈھیل کی طرف سفر ہے اور ڈیل اور یہ ڈھیل کو اپنا حق سمجھتے ہیں ، یہ بزنس مین سیاستدان ہیں او رانہیں ڈیل کرنے کا طریقہ آتا ہے ۔

انہوںنے کہا کہ شہباز شریف پہلی مرتبہ قومی اسمبلی میں منہ اٹھا کر آرہا ہے اورمیں آٹھ مرتبہ کا تجربہ ہے ، اس کی پٹواری اور تھانیدار لگانے اور بیورو کریٹس کے گھر وںمیں داخل ہونے کے سوا کیا اہلیت ہے ،تجربے کے لحاظ سے ان کا میرے ساتھ کوئی موازنہ نہیں،مجھے رولز اینڈ پروسیجر زبانی یاد ہیں ،آپ تو پہلی مرتبہ منسٹر انکلو میں آئے ہیں ،یہ جیلوں میں نہیں بلکہ ہالیڈے پر ہیں اورسنوفال انجوائے کر رہے ہیں۔

میں سپیکر سے درخواست کرتا ہوں کہ رانا ثنا اللہ خان اور خواجہ سعدرفیق کو فی الفور پبلک اکائونٹس کمیٹی میں لیا جائے ۔ شہباز شریف صرف سپیکر کو یہ کہنے گئے تھے کہ آپ کو واسطہ ہے شیخ رشید کو پی اے سی میں نہ لایا جائے ، اب انشا اللہ دو پی اے سیز ہوں گی ،پی ٹی آئی نے ریاض فتیانہ کی جگہ میرا نام دیدیا ہے ۔ اگر اللہ راستہ نہ روکے تو میرے ممبر بننے میں کوئی رکاوٹ نہیں لیکن معلوم نہیں سپیکر کیوں تاخیر کر رہے ہیں ،میں اس وقت فل فارم میں ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے پاس چیئرمین پبلک اکائونٹس بننے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں اور یہ غیر اخلاقی طور پر بیٹھے ہیں اگر ان میں ذرا سی بھی اخلاقی جرات ہو تو اس عہدے کو چھوڑ دیں ۔ انہوںنے عمران خان کی جانب سے شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانے کے سوال کے جواب میں کہا کہ میں سب کے سامنے کہہ رہا ہوں کہ عمران خان نے بہت بڑا ’’بلنڈر ‘‘ کیا ہے ۔

انہوںنے کہا کہ سنا ہے کہ بلاول صاحب لانگ مارچ کرنے جارہے ہیں ، لانگ مارچ اور لونگ گواچے میں فرق ہے ،یہ کرپشن کے خلاف لانگ مارچ کریں میں ان کے ہاتھوںمیں ہاتھ ڈال کر نکلوں گا ۔ آصف زرداری نے تو فالودے والے اور مردوں کوبھی نہیں بخشا ، لیکن میں زرداری کو ایک کریڈٹ دوں گا کہ وہ نواز شریف کی طرح بزدل نہیں لیکن وہ چور ان جیسا ہی بڑاہے ۔ انہوںنے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کو دولت ٹھکانے لگانے کا ہنر آتا ہے جبکہ زرداری کو صرف گول گپے ، فالودے والا ہی ملا ، آصف زرداری نے تو مرے ہوئے کے اکائونٹ سے دو ارب روپے باہر بھجوائے لیکن آج یہ لوگ جمہوریت کے چمپئن بن رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی کسی جمہوریت میں ایسا ہوتا ہے کہ اربوں ،کھربوں کے 23کیسوںں میں مطلوب شخص کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین بنا دیاجائے اور پھر وہ آٹھ آٹھ گاڑیوں کے پروٹوکول میںآئے ۔ میں آرمی چیف سے اپیل کرتا ہوں کہ شہباز شریف سے رینجرز کی گاڑیاں ہٹائی جائیں ،کیا فوج ان چوروں کی حفاظت کے لئے ہے اس سے بہت غلط پیغام جائے گا ۔

انہوںنے کہا کہ آرمی چیف نے بہت زبردست کام کئے ہیں ، کرتا رپور کے معاملے پر بھارت کو ہلا کر رکھ دیا ہے ، جٹ کے ایک جپھے نے جو کام کیا ہے وہ پورا فارن آفس نہیں کرسکا ۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران نے تو اسامہ بن لادن کا مال نہیں چھوڑا تھا، یہ وہ خاندان ہے جوقطر اور کویت سے مال پکڑتے تھے اور یہ کسی کامال نہیںچھوڑتے لیکن یہ ان کے نصیب میں نہیںہے ۔

جب سیاسی وقت نزاع ہے تو حرام کمائے اور کھائے ہوئے مال کا بتانا چاہیے کہ میں اس کی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہوں ۔انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں اسامہ بن لادن کے اس وقت کی بات کر رہا ہوں جب وہ سب کو عزیز تھا ،میں یہ بھی کہتا ہوںکہ اسامہ بن لادن کے بارے میں حکومت کو اطلاع دینے میں پاک فوج نے اپنی ذمہ دریاں نبھائی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اگر عمران خان ناراض نہ ہوں تو میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر دونوں جماعتیں کرپشن اور لوٹ مار کے پیسے واپس کر رہی ہیں جو آج کل افواہیں ہیںتو قوم کو اعتماد میں لیا جائے ۔

مفت کی ڈیل اور ڈھیل قبول نہیں اور نہ ایسے جانے دیں گے۔ انہوںنے کہا کہ ڈیل میںناکامی کے بعد ڈھیل کا ففٹی فٹی کا پروگرام چل رہا ہے ۔ مجھے بتایا جائے دنیا کی کون سی میڈیکل ہے جو کہتی ہے کہ دل کے مریض کو کھلی چھت کے نیچے رکھا جائے ،ایسا ہے تو پھرشہباز شریف کو لال حویلی لے آئیں اور چھت پر رکھیں ۔ انہوں نے پرویز مشرف کی واپسی بارے کہا کہ وہ نکل گئے ہیں ، پرویز مشرف صاحب واقعی ہی بیمار ہیں ۔ میں نواز شریف کا نہیں کہتا اگر وہ بیمار ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے حال پر رحم کرے لیکن شہباز شریف بہت بڑا ٹوپی ڈرامہ ہے ۔