بھارت میں آنے والی حکومت ٹھیک ہوگی تو ہم بھی ٹھیک چلیں گے، وزیر خارجہ

19فروری کو سعودی عرب کے ولی عہد پاکستان تشریف لا رہے ہیں،جہاں وہ ایک بہت بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کریں گے، داعش خطے کو غیر مستحکم کرسکتی ہے، القاعدہ اور داعش کے خلاف ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا،کچھ قوتیں چاہتی ہیں جنوبی پنجاب صوبہ نہ بنے۔تحریک انصاف جنوبی پنجاب صوبے کو سیاست کی نظر نہیں ہونے دیگی،کہ ملک میں جمہوریت، آئین اور اٹھارہویں ترمیم کو کوئی خطرہ نہیں، اٹھارہویں ترمیم پر سیاسی جماعتوں کا واولا غیر ضرور ی ہے ، پاکستان میں فیصلہ کن قوت صرف اور صرف عوام ہیں اور وہ فیصلہ کرچکے ہیں، چاہتے ہیں عازمین حج کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کل تک آپس میں دست و گریباں تھے آج ایک ہوگئے،شاہ محمود قریشی کی میڈیا سے بات چیت

ہفتہ فروری 18:52

بھارت میں آنے والی حکومت ٹھیک ہوگی تو ہم بھی ٹھیک چلیں گے، وزیر خارجہ
ملتان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 فروری2019ء) وزیرخارجہ شاہ محمو د قریشی نے کہا ہے کہ بھارت میں آنے والی حکومت ٹھیک ہوگی تو ہم بھی اس کیساتھ ٹھیک چلیں گے،19فروری کو سعودی عرب کے ولی عہد پاکستان تشریف لا رہے ہیں،جہاں وہ ایک بہت بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کریں گے، داعش خطے کو غیر مستحکم کرسکتی ہے، القاعدہ اور داعش کے خلاف ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا،کچھ قوتیں چاہتی ہیں جنوبی پنجاب صوبہ نہ بنے۔

تحریک انصاف جنوبی پنجاب صوبے کو سیاست کی نظر نہیں ہونے دیگی،کہ ملک میں جمہوریت، آئین اور اٹھارہویں ترمیم کو کوئی خطرہ نہیں، اٹھارہویں ترمیم پر سیاسی جماعتوں کا واولا غیر ضرور ی ہے ، پاکستان میں فیصلہ کن قوت صرف اور صرف عوام ہیں اور وہ فیصلہ کرچکے ہیں، چاہتے ہیں عازمین حج کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کل تک آپس میں دست و گریباں تھے آج ایک ہوگئے ۔

(جاری ہے)

ہفتہ کو یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ہمارا ہندوستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں،وہ اپنے معاملات پاکستان پر نہ ڈالے ۔ میں نے اگر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے میر واعظ عمر فاروق سے رابطہ کیا ہے تو اس میں ایسی کوئی بات نہیں۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے جسے اجاگر کرنے سے بھارت خوامخواہ سیخ پا ہوتا ہے۔

برطانیہ کے ہائوس آف کومنس کے آل پارٹیز پارلیمانی گروپ کی جانب سے کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف منعقدہ عالمی کانفرنس میں پاکستان کا موقف بھرپور طریقے سے پیش کرتے ہوئے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھائیں گے۔ انہوکںنے کہاکہ انڈیا میں جو بھی حکومت آئیگی اگر وہ پاکستان کے ساتھ ٹھیک ہوگی تو ہم بھی اس کے ساتھ ٹھیک چلیں گے۔ پاکستانی عوام کی امنگوں اور ملکی مفاد کے مطابق خارجہ پالیسی تشکیل دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چند ماہ میں سفارتی سطح پر بے شمار کامیابیاں حاصل کیں ہیں۔ یہ ہماری بھرپور سفارتی کامیابی ہے کہ وہ لوگ جو پاکستان کی بات سننا پسند نہیں کرتے تھے وہ اب ہم سے ملنے کے خواہش مند ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میںبہتری آئی ہے۔ 19فروری کو سعودی عرب کے ولی عہد پاکستان تشریف لا رہے ہیں۔ جہاں وہ ایک بہت بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کریں گے اور اس دورے کے دوران تعلقات کو مزید فروغ دینے کیلئے ایک جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا پاکستان کے ساتھ قطر اور امارات کے ساتھ تعلقات میں بھی گرمجوشی پیدا ہوئی ہے۔ سعودی عرب امارات اور قطر تینوں دوست ممالک پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت ، اٹھارویں ترمیم اور ملک کے آئین کو کئی خطرہ نہیں ہے البتہ کئی سیاسی شخصیات کے مفادات کو خطرہ ہوسکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم پر کوئی ایشو نہیں ہے،ہم صوبوں کے اختیارات کل بھی تسلیم کرتے تھے اورآج بھی کرتے ہیں صوبوں کے آئینی حقوق کو کوئی خطرہ نہیں۔

ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے پر مقدمات قائم کئے۔کل تک جو دست وگریباں تھے آج شیر وشکر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہاپیپلز پارٹی کہہ رہی ہے کہ ہماری کسی کے ساتھ ڈیل ہو رہی ہے۔ میں واضح الفاظ میں کہتا ہوںکہ ہماری کسی کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی البتہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں کوئی ڈیل ہو رہی ہے وہ اپنی سیاسی بقاء کے چکر میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں بلاول زرداری کو لانگ مارچ کی ضرورت نہیں سندھ حکومت کو تحریک انصاف کی حکومت سے نہیں بلکہ اپنی ناقص حکمرانی اور بدعنوانی سے خطرہ ہے۔

پاکستان میں فیصلہ کن قوت صرف اور صرف عوام ہیں اور عوام نے تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ دیدیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت احتساب کے عمل کو شفاف طریقے سے آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ لیکن کچھ قوتیں احتساب کے عمل میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ہم شفاف اور بلا امتیاز احتساب پر یقین رکھتے ہیں ۔ آصف زرداری کی جانب سے حکومت گرانے میں میڈیا سے مدد مانگنے سے متعلق سوال کے جواب میںمخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صحافیوں کا کام حکومت بنانا گرانا نہیں بلکہ رپورٹنگ کرنا ہے۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ القاعدہ اور داعش کے خلاف ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا، داعش ایسی قوت ہے جو خطے کو غیر مستحکم کرسکتی ہے، یہ افغانستان اور شام میں موجود ہے، میں نے چین، روس، امریکا، ایران، عمان سمیت مختلف ممالک کے دورے اور مذاکرات کیے، سب کا اتفاق ہے کہ داعش کو بڑھنا نہیں چاہیے، اس کے خلاف سب کو مل کر صف آرا ہونا۔ حج کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے ایک جواب میں انہوں نے کہا ڈالر کی قدر میں اضافہ ہونے کی وجہ سے حج اخراجات میں اضافہ ہوا، ہماری خواہش ہے کہ پاکستانی زیادہ سے زیادہ حج کریں۔

انہوں نے کہا جنوبی پنجاب صوبے کی تشکیل ہماری ترجیح اور ہمارے منشور کا حصہ ہے۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں نے ہمیں الیکشن میں بھاری مینڈیٹ دیکر تحریک انصاف کے موقف کی تائید کی۔کچھ قوتیں چاہتی ہیں جنوبی پنجاب صوبہ نہ بنے۔تحریک انصاف جنوبی پنجاب صوبے کو سیاست کی نظر نہیں ہونے دیگی۔اس ایشو پرقومی یکجہتی پیدا کی جائیگی اور تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کیا جائے گا۔

اس موقع پر وفاقی پارلیمانی سیکرٹری مخدومزادہ زین حسین قریشی ، ملک واصف مظہر راں،دلیر خان مہار، دلبر خان مہار ، پیر مصدق شاہ سمیت پی ٹی آئی کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ قبل ازیں مخدوم شاہ محمود قریشی معروف سیاسی شخصیت مصری خان مہار (مرحوم) کی برسی میں شریک ہوئے اور اجتماعی دعا کروائی۔ برسی میں ہزاروں کی تعداد میں افراد شریک تھے۔