Live Updates

ایف بی آر نے اراکین پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کر دی

جمعہ ستمبر 15:03

ایف بی آر نے اراکین پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کر دی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 ستمبر2020ء) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 30 جون 2018ء کو ختم ہونے والے مالی سال کی اراکین پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کر دی۔ وزیراعظم عمران خان نے 2 لاکھ 82 ہزار 449 روپے ٹیکس ادا کیا، قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے 87 لاکھ 5 ہزار 368 روپے، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے 24 کروڑ 20 لاکھ 98 ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے 2 لاکھ 16 ہزار 800 روپے، وزیر دفاع پرویز خٹک نے 18 لاکھ 26 ہزار 899 روپے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک لاکھ 83 ہزار 900 روپے، شیخ رشید احمد نے 5 لاکھ 79 ہزار 11 روپے، وزیر اطلاعات شبلی فراز نے 3 لاکھ 67 ہزار 460 روپے ٹیکس دیا۔ جمعہ کو ایف بی آر کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ کی جاری ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق سینیٹر اعظم خان سواتی نے 5 لاکھ 90 ہزار 916 روپے ٹیکس دیا، مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چوہدری تنویر نے 32 لاکھ 38 ہزار 733 روپے۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر اسد عمر نے 53 لاکھ 46 ہزار 342 روپے، حماد اظہر نے 5 کروڑ 94 لاکھ 42 ہزار 700 روپے، رانا ثناء الله نے 13 لاکھ 88 ہزار 275 روپے، فرخ حبیب نے ایک لاکھ 83 ہزار 727، ریاض فتیانہ نے 11 ہزار روپے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے 13 لاکھ 63 ہزار روپے، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے 2 لاکھ 67 ہزار 380 روپے، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے 15 لاکھ 91 ہزار روپے، فاروق ایچ نائیک نے 64 لاکھ 71 ہزار روپے، مصطفی نواز کھوکھر نے 41 لاکھ 22 ہزار روپے، پرویز الٰہی نے 20 لاکھ 71 ہزار 196 روپے، مصدق ملک نے 25 لاکھ روپے، سینیٹر محسن عزیز نے 12 لاکھ 30 ہزار روپے، ڈاکٹر اشوک کمار نے 69 لاکھ 98 ہزار روپے، سینیٹر امام دین شوقین نے 97 لاکھ 99 ہزار روپے، سینیٹر طلحہ محمود نے 2 کروڑ 92 لاکھ 10 ہزار روپے، سینیٹر فروغ نسیم نے 3 کروڑ 51 لاکھ 35 ہزار روپے، وفاقی وزیر فواد چوہدری نے 16 لاکھ 98 ہزار 651 روپے، علی زیدی 8 لاکھ 96 ہزار 191 روپے، نور عالم خان نے 30 ہزار 458 روپے، وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے 2018ء میں کوئی ٹیکس نہیں دیا۔

وفاقی وزیر مراد سعید نے 3 لاکھ 74 ہزار 728 روپے، غلام سرور خان نے 10 لاکھ 46 ہزار روپے، نجیب ہارون نے 14 کروڑ 36 ہزار روپے، مونس الٰہی نے 51 لاکھ 68 ہزار روپے، خالد مقبول صدیقی 1 لاکھ 83 ہزار 900 روپے، اختر مینگل نے 13 لاکھ 24 ہزار 375، سابق صدر آصف علی زرداری نے 28 لاکھ 91 ہزار 455 روپے، بلاول بھٹو زرداری نے 2 لاکھ 94 ہزار 117 روپے، مولانا اسعد محمود 7 ہزار روپے، علی امین گنڈا پور 3 لاکھ 78 ہزار 763 روپے، ملک انور تاج، جواد حسین، محسن داوڑ، عبدالشکور، شیخ راشد شفیق، عامر محمود کیانی، منصور حیات خان، چوہدری ذوالفقار بھنڈر، علی گوہر خان، صاحبزادہ محمد محبوب سلطان، امیر سلطان، ملک کرامت علی کھوکھر، سعد وسیم، احمد رضا مانیکا، ارادت شریف خان، رائے مرتضیٰ اقبال، ظہور حسین قریشی، مخدوم زین حسین قریشی، محمد ابراہیم خان، چوہدری فقیر احمد، نور الحسن تنویر، سید مبین احمد، محمد شبیر علی، رضا ربانی کھر، سید باسط سلطان، نیاز احمد جھکڑ، خواجہ شیراز محمود، زرتاج گل، نوید گھیرو، جمیل احمد خان، آغا حسن بلوچ، سید محمود شاہ، محمد اسلم بھوتانی، عاصمہ حدید، عالیہ حمزہ ملک، سیمی بخاری، فوزیہ بہرام، روبینہ جمیل، رخسانہ نوید، فرخ خان، شمیم آراء کنول، صائمہ ندیم، نصرت واحد، شمیم آفریدی، فیصل جاوید، رانا مقبول احمد، محمد بشیر خان، محمد سجاد نے مالی سال 2018ء میں کوئی ٹیکس نہیں دیا۔

میجر طاہر صادق نے 214 روپے، کنول شوذب نے 165 روپے، عطاء الله 517 روپے، ذوالفقار باچانی 388 روپے، مرزا محمد آفریدی 910 روپے ٹیکس دیا۔
اپوزیشن اتحاد کی تحریک سے متعلق تازہ ترین معلومات