عوام کی طاقت کے سامنے زور اور جبر کرنے والے نہیں ٹھہر سکتے، بلاول بھٹو

یہ تحریک بھوک ، ظلم اور ناانصافی کیخلاف ہے، اس شخص کے غرورکو عوام مٹی میں ملا دے گی،جیلوں میں ڈالو گے تو حق کی صدائیں جیل کی دیواریں ہلا دیں گی، سلیکٹڈ نالائق وزیراعظم کو جانا ہوگا، ہمیں حقیقی جمہوریت چاہیے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کراچی میں عوامی جلسے سے خطاب

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اکتوبر 23:59

عوام کی طاقت کے سامنے زور اور جبر کرنے والے نہیں ٹھہر سکتے، بلاول بھٹو
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔18 اکتوبر2020ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوام کی طاقت کے سامنے زور اور جبر والے نہیں ٹھہر سکے،یہ تحریک بھوک ، ظلم اور ناانصافی کیخلاف ہے، اس شخص کے غرورکو عوام مٹی میں ملا دے گی،جیلوں میں ڈالو گے تو حق کی صدائیں جیل کی دیواریں ہلا دیں گی،سلیکٹڈ نالائق وزیراعظم کو جانا ہوگا، ہمیں حقیقی جمہوریت چاہیے۔

انہوں نے پی ڈی ایم کے پیپلزپارٹی کے زیراہتمام کراچی میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں 18اکتوبر شہداء کارساز کو اپنی طاقت میں بدلنا ہے، جس طرح شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے شہید ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے بعد اپنی طاقت میں بدلا۔ شہید محترمہ جانتی تھی کہ وہ اصل نشانہ ہے، اگر وہ جمہوریت، عوام ، سچائی اور پاکستان کا راستہ چھوڑ دے تو وہ قاتلوں سے بچ سکتی ہیں، لیکن شہید محترمہ اپنی ذات میں بے نظیر تھیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کبھی عوام کا ساتھ نہیں چھوڑا، پیپلزپارٹی نے جمہوریت کے دفاع اور ملک کی بقاء کیلئے اپنا خون دیا ہے ۔ ہم شہداء کا قرض ہے، وہ قرض ہم نے ادا کرنا ہے۔ انقلاب کی چاپ سنائی دے رہی ہے، جس صبح کیلئے شہدا نے جانیں دیں ، وہ صبح جلد آئے گی۔آج تاریخ کے اہم مو ڑ پر جو دفیصلے ہوں گے عوام کریں گے۔ ہم نے پاکستان میں حقیقی جمہوریت کے قیام کی جنگ لڑنی ہے۔

ایک ایک کرکے تمام ادارے کھوکھلے کیے جارہے ہیں، وہ دروازے بند کیے جا رہے ہیں ، ان تمام آوازوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے جو عوام کی بات کرتے ہیں، عدلیہ پر دباؤ پر ہے ، میڈیا پر دباؤ ہے۔ یہ اقتدار کی لڑائی نہیں ہے، جب بھی جمہوریت پر شب خون مارا جاتا ہے تو غریب اس کی زد میں آتا ہے۔ہمارے پاس 1973ء کا آئین موجود ہے، آئین کے تحت حکومت پر فرض ہے عوام کو حقو ق دیں۔

جبکہ حکمران اپنے فرائض پورے کرنے سے منکر ہیں۔ جمہوریت کی جنگ عوام کی جنگ ہے۔جب جمہوریت نہ ہو، تو فیصلے عوام کیلئے نہیں بلکہ چند لوگوں کیلئے جاتے ہیں، لوگ غریبت کی چکی میں پس رہے ہیں، ہائی ویز پر ہمارے بچیوں کی عزتیں محفوظ نہیں۔سلیکٹڈ وزیراعظم کو روپے کے گرنے اور مہنگائی کی خبر ٹی وی سے ملتی ہے،آزاد کشمیر کے وزیراعظم پر غداری کا مقدمہ، عوام کی بھوک نظر نہیں آتی۔

آٹا ، چینی ، پٹرول میں کرپشن، مخالفین کیلئے نیب کا اندھا قانون ہے، سلیکٹڈ وزیراعظم کے دوستوں کیلئے پیسے ہیں، پنجاب میں ڈمی وزیراعلیٰ لگا کر مذاق کیا گیا۔ پختونخواہ اور سندھ کے حقوق نہیں دیے جارہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں تین سو ارب سے نوجوانوں کو روزگار دیا جاسکتا تھا، لیکن این ایف سی کا حصہ نہیں دیا گیا، کے الیکٹرک عوام کا خون چوس رہا ہے۔کراچی کیلئے ایک ہزار ارب کا پیکج بھی یوٹرن اور دھوکا نکلا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس شخص کے غرورکو عوام مٹی میں ملا دے گی۔اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر ہیں، اس سلیکٹڈ حکومت کو ہمارے پیج پر آنا پڑے گا،اور نالائق وزیراعظم کوجانا پڑے گا۔ہمیں حقیقی جمہوریت چاہیے۔یہ تحریک بھوک ، ظلم اور ناانصافی کیخلاف ہے۔