دہشت گردی اور انتہا پسندی کے لیے اچھے اور برے کی نہیں بلکہ مکمل خاتمے کی پالیسی بنائیں،ایمل ولی خان

دقسمتی سے سب کچھ ہائبرڈ ہو گیا، اس میں چچا آصف زرداری اور ان کی پارٹی بھی شامل ہے، صدر عوامی نیشنل پارٹی اگر ریاست نے طے کرلیا ہے کہ دہشت گرد خوارج اور فتنہ الہندوستان ہیں تو ماضی میں طالبان اور دہشت گردوں کو پاکستان میں لاکر آباد کرنے پر سابقہ جرنیلوں ،عارف علوی اور عمران خان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کو پھانسی دی جائے،باچا خان کی 38ویں اور عبدالولی خان کی 20ویں برسی کی مناسبت سے شاہراہ قائدین پر جلسہ عام سے خطاب

اتوار 25 جنوری 2026 22:20

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 جنوری2026ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ دقسمتی سے سب کچھ ہائبرڈ ہو گیا، اس میں چچا آصف زرداری اور ان کی پارٹی بھی شامل ہے،دہشت گردی اور انتہا پسندی کے لیے اچھے اور برے کی نہیں بلکہ مکمل خاتمے کی پالیسی بنائیں،اگر ریاست نے طے کرلیا ہے کہ دہشت گرد خوارج اور فتنہ الہندوستان ہیں تو ماضی میں طالبان اور دہشت گردوں کو پاکستان میں لاکر آباد کرنے پر سابقہ جرنیلوں،عارف علوی اور عمران خان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کو پھانسی دی جائے،آپریشن کے بجائے وفاق ،کے پی حکومتیں اور اسٹیک ہولڈرز خیبر پختونخوا میں قیام امن کے لیے مربوط پالیسی بنائیں،پختونوں کا ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے،پختون امن پسند ہیں،عوامی مسائل کا حل خود مختار بلدیاتی نظام اور 18 ویں آئینی ترمیم کی مضبوطی سے ممکن ہے،غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت سے پارلیمان کو اعتماد میں لیں،سانحہ گل پلازہ بوسیدہ نظام اور کرپشن کی داستان ہے،پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم الزام تراشی کے بجائے شہدا کے زخموں پر مرہم رکھیں،کراچی کی ترقی کے لیے اے این پی سب کے ساتھ مل کام کرنے کو تیار ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کوعوامی نیشنل پارٹی سندھ کے زیر اہتمام فخر افغان خان عبدالغفار خان(باچا خان)کی 38ویں اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی 20ویں برسی کی مناسبت سے شاہراہ قائدین پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی کے کارکنان کو سرخ سلام کرتا ہوں۔پختون قوم ایک پارٹی نہیں تحریک ہے۔باچا خان اور ولی خان کے فلسفہ اور امن کے مشن کو جاری رکھیں گے۔

کراچی کیپختونوں نے ثابت کردیا یے کہ وہ اے این پی کے ساتھ ہیں۔پختون قوم نے واضح کردیا یے کہ وہ ٹی ٹی پی ۔پی ٹی آئی اور انتہا پسندی کے ساتھ نہیں ہیں۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ ہم امن کے باسی ہیں۔پختونوں کا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ایمل ولی خان نے کہا کہ تیراہ میں آج پختون لاوارث ہیں۔تیراہ آپریشن سے پختون پریشان ہیں ۔

خیبر پختونخوا کے معاملے پروفاق سو رہا ہے ۔کے پی کے حکومت مسخرہ پن کرر ہی ہے۔کیا وفاق کے پی کے کو پاکستان کا حصہ نہیں سمجھتی یے ۔میاں نواز شریف صاحب ۔ زرداری صاحب ۔ حکومت۔ پارلیمان سیاست دان سب ہائبرڈ نظام کا حصہ ہیں۔پختون کا جرگہ یہ مطالبہ ہے کہ تیراہ میں آپریشن کے نام پر پختونوں کا انخلا بند کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وفاق اور کے پی کے حکومتیں دہشت گروں کو خلاف کارروائی کریں۔

تمام اسٹیک ہولڈرز خیبر پختونخوا قیام امن کے لیے عوامی امنگوں کے مطابق پالیسی بنائیں۔ایمل ولی خان نے کہا کہ پورے ملک میں امن قائم ہو۔سب کو برابری کے حقوق دیے جائیں۔آپریشن مسائل کا حل نہیں ہے ۔ہمارا مسئلہ دہشت گردی ہے۔54 آپریشنز کرکے بھی دہشت گردی ختم نہیں ہوسکی ہے۔یہ دہشت گرد کون ہیں ۔جو ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔اچھے اور برے دہشت گردوں اور طالبان کی تفریق بند کریں۔

ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ مجاہد ہیں یا فتنہ الہندوستان ہیں ۔طاقت کے رجیم پہلے ان کو اپنا بچہ اور پھر دہشت گرد کہتے ہیں۔اگر اس ریاست نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ دہشت گرد خوارج اور فتنہ الہندوستان ہیں۔ریاست ان دہشت گردوں کو ماضی مذہب سے جوڑنے اور لانے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سابق جرنیلوں باجوہ اور فیض حمید ۔

عمران خان اور عارف علوی جہنوں نے طالبان کو واپس لاکر پاکستان میں آباد کیا ہے۔ ان کے خلاف کارروائی کرکے سزائے موت دی جائے ۔ان ماضی کے جرنیلوں اور سیاست دانوں کی وجہ سے آج دہشت گردی ہے۔دہشت گردی کے خلاف یکساں اور دیرپا پالیسی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ سرحد بند نہ کریں بلکہ بارڈر دہشت گردوں کو روکیں۔پختون قوم کے لیے باجوڑ سے چمن تک تجارت کے لیے آسان قانون بنایا جائے۔

انہوں نیکہا کہ وفاق نے غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کے فیصلے پر پارلیمان کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا ۔اس فیصلہ سے پاکستان کو کیا فائدہ اور نقصان ہوگا۔اس سے غزہ کے لوگوں کو کیا فائدہ ہوگا ۔وفاقی حکومت اس معاملہ پر اپنی پالیسی واضح کرے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں غزہ کے بورڈ میں شامل ہونے کے بعد اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان کے اس بورڈ میں فیصلے فلسطین کے حق میں ہوں گے۔

ہم فلسطین کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے۔ملک کے لیے لڑائی لڑیں گے۔ہم کو اقتدار اور کرسی نہیں چاہیے۔ہم امن کے لیے لڑائی لڑیں گے۔قوم کو متحد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم مرنے سے نہیں ڈرتے۔فخر اور غیرت کے ساتھ مرنے پر یقین رکھتے ہیں۔غیرت اور بے غیرتی کے ساتھ مرنے میں واضح فرق ہے۔ہم آج بھی انسانیت، انصاف، امن اور جمہوریت کے اصولوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

صوبائی خودمختاری اور خدائی خدمت گاروں کے نظریات سیوابستگی کا اعادہ کرتے ہیں۔اختلافات کے باوجود ایک دوسرے پر قربان ہونے کا جذبہ موجود ہے۔کراچی میں مختلف قومیتیں آباد ہیں۔ نفرت کی سیاست افسوسناک ہے۔ایمل ولی خان نے کہا کہ گل پلازہ کا واقعہ ہمارے بوسیدہ نظام کی عکاسی اور کرپشن کی داستان ہے۔سانحات کے بعد الزام تراشی اور کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس معاملے پر غلطیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔پیپلز پارٹی اور مہاجروں نے کراچی میں حکومت کی یے۔آپ سانحہ گل پلازہ پر بلیم گیم اور سیاست کررہے ہیں۔پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم اس معاملے پر الزامات نہیں لگائیں۔الزام تراشی سے شہدا کے لواحقین کے زخم کیسے بھریں گی ۔بلیم گیم سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

گل پلازہ پر سیاست نہیں کریں بلکہ متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھا جائے۔اس شہر کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کریں اے این پی آپ کے ساتھ ہیں۔کراچی کو ترقی یافتہ بنائیں۔کچھ بیوقوف لوگ یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ کراچی کو وفاق حصہ بنائیں۔وفاق کا نظام کامیاب نہیں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔اگر صوبے بنانے ہیں تو قومیت کے لحاظ سے بنائیں۔

مربوط بلدیاتی نظام ملک میں نافذ کریں۔خود مختار بلدیاتی نظام میں عوام کے مسائل ہوں گے۔اس سے عوام بااختیار ہوں گے۔این ایف سی ایوارڈ کو بلدیاتی سطح تک لاگو کریں۔18 ویں آئینی ترمیم کی مضبوطی سے مسائل کا حل وابستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ طاقت کو نچلی سطح پر منتقل کرنا ہوگا۔ہم مطالبہ کرتا ہوں کہ پشتونوں پر کوئی ظلم نہیں ہونا چاہیے ۔کراچی میں پشتونوں کے ایک کثیر تعداد موجود تھے اور یہاں پر رہائش پذیر ہے۔

کراچی بھی ہمارا ہے۔ سندھ بھی ہمارا ہے پنجاب بھی ہمارا ہے اور بلوچستان بھی ہمارا ہے۔اگر ہمیں یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ کراچی میں پشتونوں کے لیے زندگی بسر کرنا مشکل ہے۔ پھر ہمیں بھی مجبور نہ کیا جائے۔پھر ہم بھی سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ پاکستان پختونوں کا نہیں ہے ۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان تمام اقوام کا ہے اور تمام اقوام کو اس پر حق حاصل ہے۔اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید نے کہا کہ باچا خان کا پیغام امن و محبت ہے۔اے این پی ہمیشہ پاکستان کی وفادار ہی ہے۔ہماری سیاست جمہوریت پر مبنی رہی ہے۔ہم نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے۔ملک آباد رہے۔ترقی کرے ۔