�راچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 مئی2026ء) معرکہ حق میں
پاکستان کی تاریخی فتح اور وطن عزیز دفاع کے لئے افواج
پاکستان کی قابل فخر کارکردگی پرسندھ
اسمبلی نے پیر کو اپنے اجلاس میں ایک
قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی
۔قرارداد قائد ایوان وزیر اعلی
سندھ سید مراد علی شاہ نے پیش کی تھی ۔سندھ
اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا ۔
کارروائی کے آغاز میں افواج
پاکستان کے ان شہدا کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی جنہوں نے وطن کے دفاع کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے
۔قرارداد پیش کرتے ہوئے وزیر اعلی
سندھ نے کہا کہ
پاکستان نے
بھارت کا غرور خاک میں ملادیا ہے پوری
دنیا قیام امن کے لئے
پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ہمارا برادر ملک ایران
پاکستان کے لوگوں کے لئے ترانے بنا رہا ہے، صدر
ٹرمپ کو اگر
دنیا میں امن کے لئے کوئی نام یاد ہے وہ
پاکستان کی لیڈرشپ اور
فوج یاد ہے، اللہ تعالی نے ہم کو عزت دی ہے، ہم کو اس پر شکر ادا کرناچاہئے۔
(جاری ہے)
اپنے خطاب میں سید مراد علی شاہ نے کہا کہ آج ہمارے لیئے تاریخی دن ہے ،ایک سال قبل پوری قوم ،ہماری
فوج، ہماری حکومت اور ہمارے میڈیا نے ایک ہوکر دشمن کو منہ توڑجواب دیا تھا۔انہوں نے کہاکہ 1947 میں
بھارت کہتا تھا کہ یہ ملک 6 ماہ نہیں چلے گا لیکن اللہ کے فضل و کرم سے
پاکستان قائم اور دائم ہے ۔مراد علی شاہ نے
پاکستان کے
ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کہا کہ اس کا آغاز 20 جنوری 1972 کو ہوا تھا جب
ذوالفقار علی بھٹو نے تمام نامورست دانوں کو
ملتان میںبلایا تھا۔
اسی روز بھٹو نے فیصلہ کیا تھا کہ
پاکستان کو
ایٹمی ملک بنایا جائے گامئی 1998 میں
پاکستان نے
ایٹمی دھماکے کئے اور وہ پہلا مسلمان
ایٹمی ملک بنا۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے موقع پر
پاکستان نے
بھارت پر جو کاری دفاعی ضرب لگائی ہے وہ کبھی فراموش نہیں کرسکے گا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ
بھارت ہمیشہ
پاکستان کو
نقصان پہچانے کی کوشش کی ، اس نے گزشتہ برس 22 اپریل کو اپنے ہی نہتے لوگوں پر پہلگام میں خودساختہ
حملہ کرایا اور اس حلمے کے کچھ ہی دیر بعد اس کا الزام
پاکستان پر لگادیا۔
حکومت
پاکستان اور ہماری لیڈرشپ فوری طور پر کہا کہ آپ پہلے اس کی تحقیقات کریں، ہم آپ سے تعاون کرنے لے لئے تیار ہیں۔ یہ
بھارت کا فالس فلیگ آپریشن تھا اورہمیں پتا تھا کہ
بھارت کے عزائم کچھ اور ہیں ، وزیراعلی
سندھ نے کہا کہ
بھارت نے
پاکستان پر پہلی بار 29 اپریل کو
حملہ کرنے کی کوشش کی جسے
پاکستان کی افواج نے
بھارت کا
حملہ ناکام بنایا،دوسری بار 7 مئی کو
بھارت نے ہمارے شہریوں پر
حملہ کیا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ
بھارت نے میزائل مارے ہمارے سویلین کی شہادت ہوئیں لیکن کچھ دیر بعد پاک فضایہ نے بے مثال انداز میں کارروائی کی، 7 اور 8 مئی کی درمیانی رات
پاکستان نے
بھارتی غرور کو ختم کر دیا۔وزیراعلی نے کہا کہ رافیل جہاز بہت اچھا ہے مگر اس کو چلانے کے لئے ہمت چاہئے،
بھارت کے 4 رافیل، ایک مڈ 29، ایک ایس یو 13، ایک مراج 2000 پلس اور ایک یو اے وی مار گرائے،یہ بڑے کر کی بات ہے کہ
پاکستان کے شاہینوں نے
بھارت کے 8 طیارے مارگرائے۔
مراد علی شاہ نے یاد دلایا کہ یہ ٹوٹل آپریشن 25 منٹس کا تھا،
بھارت کے 47 طیارے فضا میں تھے اور وہ سارے ہمارے ٹارگیٹ پر تھے،اگر ہم چاہتے تو تمام گرا دیتے، مگر جنہوں نے
حملہ کیا انہیں گرایا گیا، وزیراعلی
سندھ نے کہا کہ
پاکستان نے تحمل مزاجی کا مظاہرا کیا اور ہماری قوم متحد تھی
،بھارت نے ڈورن کے ذریعے حملے کے جو ہماری افواج اور شہریوں نے 77 سے زائد گرائے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ
بھارتی میڈیا پروپیگنڈا نے پورا
پاکستان اپنے قبضے میں لے لیا تھا، یہ لوگ
کراچی پورٹ تباہ کر چکے تھے،
لاہور کے اندر بیٹھے ہوئے تھے، وزیراعلی
سندھ نے کہا کہ
کراچی پورٹ پر حملے کے پروپیگنڈہ پر میں نے نیول اتھارٹیز سے رابطہ کیا ، جس پرنیول اتھارٹیز نے بتایا کہ ابھی وہ 200 کلومیٹر دور ہیں اور
بھارت کی
پاکستان پر
حملہ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ انڈین ایئرفورس اور بری
فوج نے کوشش کی مگر
بھارتی نیوی نے تو ہمت بھی نہیں کی، وزیراعلی کا کہنا تھا کہ ہم اپنے دفاع کے لئے بھرپور انداز میں تیار تھے، وزیراعلی
سندھ کہا کہ
بھارت نے 9 مئی کی رات کو دیر سے دوبارہ حملے شروع کئے۔نور خان ایئربیس، رحیم یار خان اور سکھر میں رات کو حملے ہوئے ، میں انتظامیہ سے رابطے میں تھا، فیلڈمارشل
عاصم منیر نے اجازت لی کہ اب ہمیں اپنا دفاع کرنا چاہئے
،بھارت کے آپریشن سندور کے جواب میں
پاکستان نے نماز فجر کے وقت آپریشن
بنیان مرصوص شروع کیا ۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ
پاکستان نے
بھارت کے 26 فوجی اہداف پر
حملہ کیا جن میں سورتھ گڑھ، سرسا، نالیہ، بھٹنڈہ، اونتی پور،
سری نگر، جموں، ادھم پور، آدم پور، امبالہ،
پٹھان کوٹ بھی شامل تھے ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ
بھارت نے ہمارے سویلین پر
حملہ کی تھا مگر ہم نے کسی
بھارتی شہری کو نشانہ نہیں بنایا
،بھارت کی بزدلی کی انتہا تھی کہ سیزفائر کے بعد بولاڑی پرحملہ کیاجس میں ہمارے ایئرفوس کے جوان
شہید ہوئے لیکن ہمارے شاہینوں نے مہارت سے جے ایف 17 سے بہترین انداز میں مقابلہ کیا یہ طیارے صدر
آصف زرداری نے اپنے پہلے دور صدارت میں چائنہ سے لئے تھے اوروزیراعظم
یوسف رضا گیلانی نے جے ایف 17 کا افتتاح کیا تھا ، وزیراعلی
سندھ نے کہا کہ پاکستان
پیپلز پارٹی کی ملک کے لئے جدوجہددیکھیں
شہید بھٹو کی وجہ سے ہم
ایٹمی قوت ہیں۔
اگر ہم
ایٹمی قوت نہیں ہوتے تو ہمارے خلاف کیا ہو رہا ہوتا،
شہید محترمہ
بینظیر بھٹو نے میزائل ٹیکنالاجی دی جس سے ہم نے
بھارتی حملے کو ناکام بنایا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ حال ہی میں صدر
آصف زرداری ہنگور سب مرین لائے ہیں
پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر کے لئے اہم ہیں، وزیراعلی
سندھ نے کہا کہ ہم نے
بھارت کے غرور کو نیست و نابود کردیا
پاکستان نے
بھارت کی سائبر سائیٹ کو جام کر دیا تھا جس پر وہ پریشان ہوگئے تھے، ہم
جنگ کو طول دے کر
بھارت کا زیادہ
نقصان کر سکتے تھے مگر ہم امن پسند ملک ہیں، اس لئے
بھارت کی سیز فائر کی پہلی درخواست پر ہم نے حملے بند کر دیئے۔
اس ضمن میں
بھارت کی جانب سے صدر
ٹرمپ کو کہا گیا اور
فیلڈ مارشل نے
وزیراعظم سے پوچھا کہ
بھارت سیزفائر کی بات کر رہا ہے
۔وزیراعظم نے کہا بالکل ہم سیزفائر کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین
بلاول بھٹو سے میری کئی بار ہوئی اور مجھے پتا چل گیا کہ
بھارت جنگ ہار چکا ہے۔ وزیر اعلی
سندھ نے کہا کہ
پاکستان کی قوم کے آگے
بھارت نے اپنے گھٹنے ٹیکنے ہیں۔
ہمیں خوشی ہے کہ ہر زندہ قوم ایسے موقعوں کو بھرپور طریقے سے مناتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان
پیپلز پارٹی اور
سندھ حکومت ہمیشہ ملک کے دفاع میں آگے رہے گی ہماری قیادت اور ہمارے جیالے
پاکستان کے لئے ہمیشہ حاضر ہیں،میں چاہتا ہوں سندھ
اسمبلی اس
قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرے۔اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی تقریر کر رہے ہیں . دشمن رات کے اندھیرے میں آیا مگر
بھارت کو پسپائی،شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ، افواج
پاکستان نے جس انداز میں جواب دیا وہ جواب پوری قوم کا جواب تھا ۔
انہوں نے کہا کہ افواج
پاکستان نے
بھارت کاسارا غرور خاک میں ملادیا
۔وزیر قانون ضیا لنجار نے کہا کہ ہماری افواج نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی ،ساری
دنیا آج
اسلام آباد کی طرد دیکھ رہی ہے ۔ معرکہ حق کی کامیابی پرپوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ معرکہ حق کی کامیابی کے بعداب ہر پاکستانی سر اٹھا کے چل رہا ہے ،
دنیا میں ہر طرف
پاکستان کا نام ہے ،پاک فوج
پاکستان کے انچ انچ کا دفاع کر رہی ہے اور قربانیاں دی رہی ہے۔
جنگ میں
فیلڈ مارشل سمیت سیاسی قیادت نے اہم کردار ادا کیا۔
ایم کیو ایم کے اقلیتی رکن مہیش کمار ہسیجا نے کہا کہ یہ ملک ہم سب کا ہے چاہے مسلمان ہو یا غیر مسلم
پاکستان کے نام پر ہم سب متحد ہیں۔
ایم کیو ایم کے رکن افتخار عالم نے کہا کہ ان کی جماعت اس قراداد کی حمایت کرتی ہے اورہم پاک
فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔انہوں نے
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قائد انہ صلاحیتوں کی تعریف کی ۔
پیپلز پارٹی کی سعدیہ جاوید نے کہا کہ
دنیا میں
پاکستان نے اپنی شناخت تسلیم کروائی ہے آج پوری دنیا
پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے
۔ایم کیو ایم کے رکن طحہ احمد خان نے کہا کہ افواج
پاکستان نے دن کی روشنی میں بڑی جرات کے ساتھ جواب دیا،
دنیا نے
پاکستان کی طاقت دیکھ لی۔
فیلڈ مارشل نے زبردست کام کیا۔
پیپلز پارٹی کے گیان چند ایسرانی نے کہا کہ
پاکستان کے ہندو۔
مسلم۔ سکھ۔ پارسی سب
پاکستان کے شہری ہیں ،وطن عزیز کے لئے سب کے جذبات ایک ہیں ۔اپنے شہدا م اور غازیوں کو سلام کہتا ہوں۔
جماعت اسلامی ک رکن محمد فاروق نے کہا کہ معرکہ حق میں
پاک فضائیہ نے
بھارت کا غرور خاک میں ملایا۔ ہمارا دشمن اپنے آپ کو عسکری طور پر ہم سے بالا سمجھتا تھا اس کو لگ پتا گیا۔ ہم جنگیں رکوانے والے لوگ ہیں، خون خراب والے لوگ نہیں۔
مسئلہ کشمیر بھی جلد از جلد حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ
جماعت اسلامی کی طرف سے عسکری اور سیاسی قیادت کو مبارکباد دیتا ہوں۔ بعدازاں ایوان نے
قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ایوان میں مجموعی طور پر 17ارکان نے تقاریر کیں جن میں امداد پتافی، سجاد سومرو، جام شبیر، شبیر قائم خانی، جمال احمد، سردار شاہ، جام خان شورو بھی شامل تھے
۔قرارداد کی منظوری کے بعد سندھ
اسمبلی کا اجلاس منگل کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔