ٰاقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ امتیاز عطا

صدر آصف علی زرداری نے اعزاز پیش کیا، گوتریس کا پاکستان کی مہمان نوازی، استقامت اور عالمی امن میں کردار کو خراجِ تحسین # سیکرٹری جنرل نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے عوام کو عزم، طاقت، ہمدردی اور دردِ دل سے مالا مال قوم قرار دیا

منگل 6 اکتوبر 2026 20:40

ؒ'اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 06 اکتوبر2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو عالمی امن و ترقی، اقوام متحدہ کی قیادت اور بین الاقوامی سطح پر ان کی خدمات کے اعتراف میں پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ امتیاز عطا کردیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے کسی سیکرٹری جنرل کو یہ اعزاز دیا گیا ہے۔

اعزاز دینے کی خصوصی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی کابینہ کے ارکان، ارکان پارلیمنٹ اور سفارتی نمائندگان نے شرکت کی۔اعزاز ملنے پر انتونیو گوتریس نے پاکستان کا گہرا تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اعلیٰ قومی اعزاز سے بے حد متاثر اور دل کی گہرائیوں سے مسرور ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وہ یہ اعزاز دنیا بھر میں خدمات انجام دینے والے اقوام متحدہ کے تمام اہلکاروں کی جانب سے قبول کرتے ہیں، جن میں پاکستان میں خدمات انجام دینے والے افراد بھی شامل ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ان کی مدتِ کار اختتام کے قریب ہے اور وہ بطور سیکرٹری جنرل پاکستان کا آخری دورہ کرنے کے لیے پرعزم تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے عوام کو عزم، طاقت، ہمدردی اور دردِ دل سے مالا مال قوم قرار دیا۔

اس سے قبل صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے دوران عالمی امن، سفارت کاری، تنازعات کے پرامن حل اور اقوام متحدہ کے کردار سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر مملکت نے اقوام متحدہ کی اصولی قیادت اور عالمی امن کے لیے انتونیو گوتریس کی کوششوں کو سراہا جبکہ پاکستان کے ساتھ ان کے تعمیری روابط اور ترقی پذیر ممالک کے مسائل پر توجہ کو بھی قابلِ قدر قرار دیا۔

صدر آصف علی زرداری نے فلسطینی عوام اور ان کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔جنوبی ایشیا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان برابری کی بنیاد پر مسلسل مذاکرات اور دیرینہ تنازعات، بالخصوص مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔

صدر زرداری نے سندھ طاس معاہدے کو ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور پاکستان کے آبی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔علاقائی امن اور سفارت کاری کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور انسانی جانوں کے تحفظ کے بنیادی اصولوں کے تحت جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جہاں بھی مفید ہو سفارت کاری میں سہولت کاری کے لیے تیار ہے کیونکہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا کوئی متبادل نہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک پرعزم شراکت دار ہے اور اس مقصد کے لیے بے پناہ قربانیاں دے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کی جانب سے مسلسل خطرات کا سامنا ہے اور افغان سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

صدر مملکت نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی خدمات کو بھی اجاگر کیا اور بتایا کہ 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد پاکستانی امن دستے دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے 48 امن مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے عالمی امن و سلامتی کے لیے اقوام متحدہ کی امن کوششوں کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے اقوام متحدہ کی اصلاحات کے لیے شروع کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اصلاحاتی عمل میں ترقی پذیر ممالک کے مفادات کا تحفظ، پائیدار ترقی کا فروغ، تنازعات کی روک تھام اور امن و سلامتی کی کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان جیسے موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ترقی پذیر ممالک کے لیے ماحولیاتی تبدیلی ایک وجودی چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے موسمیاتی اثرات سے نمٹنے، موافقت اور موسمیاتی مالی معاونت کے لیے عالمی سطح پر مزید مؤثر اقدامات پر زور دیا۔صدر مملکت نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد انتونیو گوتریس کی پاکستان کے ساتھ یکجہتی کو بھی سراہا۔

انہوں نے متاثرہ علاقوں کے دورے، عالمی امداد متحرک کرنے اور جنیوا میں امدادی وعدوں کے عمل کو آگے بڑھانے میں اقوام متحدہ کے کردار کا ذکر کیا۔انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے بعد تعمیر نو کے عمل کے تحت 1 لاکھ موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ گھر تعمیر کیے گئے، جن کی ملکیت متاثرہ مستحق خاندانوں کی خواتین ارکان کو دی گئی۔ صدر نے اس اقدام کو موسمیاتی لچک، تعمیر نو اور خواتین کے معاشی اختیار کو یکجا کرنے کی اہم مثال قرار دیا۔

اس موقع پر انتونیو گوتریس نے کہا کہ انہوں نے برسوں سے پاکستانی عوام کی مہمان نوازی دیکھی ہے، جنہوں نے لاکھوں افراد کو پناہ فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے دہشت گردی کی بربریت کا سامنا کرتے ہوئے پاکستانی عوام کی یکجہتی اور استقامت بھی دیکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ حقیقی پاکستان کو جانتے ہیں کیونکہ انہوں نے اسے قریب سے دیکھا ہے، اور اسی لیے وہ پاکستان کی جانب سے اپنے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کو دیے گئے اس اعزاز پر بھی شکر گزار ہیں۔

ملاقات کے موقع پر اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو اور قائم مقام ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر پرنیل آئرن سائیڈ بھی موجود تھیں، جبکہ پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سابق وفاقی وزیر سید نوید قمر نے شرکت کی۔