طالبان کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی کے تمام ناموں کی قدر کرتے ہیں ، نواز شریف، مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے ، دعا ہے مذاکراتی عمل کامیابی اور خوش اسلوبی سے آگے بڑھے ، حکومت نیک نیتی اور سنجیدگی سے مذاکرات کی کوشش کررہی ہے، کوشش ہے کہ کسی خون خرابے کے بغیر ملک میں امن قائم ہوجائے،بھارت اور افغانستان سمیت تمام ملکوں سے مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے چاہتے ہیں،پی آئی اے کیلئے کچھ نئے طیارے خریدے جارہے ہیں، اگر سٹیل ملز پہلے پرائیویٹائز ہوجاتی تو شاید اس کی بہتر قیمت لگ جاتی لیکن اب بھی اس پر سوچ بچار جاری ہے،پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کی ملاقات کے بعد سرحد پر جاری جھڑپوں میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے اور یہ ایک اچھا قدم ہے، سینئر صحافیوں سے ملاقات میں بات چیت

منگل فروری 07:46

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔4فروری۔2013ء) وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی کے تمام ناموں کی قدر کرتے ہیں ، مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے ، دعا ہے مذاکراتی عمل کامیابی اور خوش اسلوبی سے آگے بڑھے ، حکومت نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ طالبان سے مذاکرات کی کوشش کررہی ہے ، کوشش ہے کہ کسی خون خرابے کے بغیر ملک میں امن قائم ہوجائے ، امن کے بغیر ملکی معیشت بہتر نہیں ہوسکتی ، آگے بڑھنا ہے تو دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہوگا ۔

بھارت اور افغانستان سمیت تمام ملکوں سے مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے چاہتے ہیں،پی آئی اے کیلئے کچھ نئے طیارے خریدے جارہے ہیں اور مستقبل کی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے ۔ سٹیل ملز کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر سٹیل ملز پہلے پرائیویٹائز ہوجاتی تو شاید اس کی بہتر قیمت لگ جاتی لیکن اب بھی اس پر سوچ بچار جاری ہے ۔

(جاری ہے)

ملک میں توانائی بحران کے حوالے سے میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کی سب سے پہلی ترجیح ملک میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہے اس کے بعد قیمتوں میں کمی کے حالے سے غور کرینگے،ڈی جی ایم اوز کی ملاقات کے بعد سرحد پر جاری جھڑپوں میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے اور یہ ایک اچھا قدم ہے۔

وہ پیر کو یہاں سینئر صحافیوں سے ہونے والی ملاقات میں بات چیت کر رہے تھے۔ لاہور میں چیئرمین الحمراء ہال میں معروف کالم نگار عطاء الحق قاسمی کی دعوت پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف الحمرال ہال پہنچے جہاں انہوں نے سینئر صحافیوں اینکر پرسنز اور مدیران سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں چیرمین الحمراء ہال عطاء الحق قاسمی ، حسن نثار ، ایاز محمود ، مجیب الرحمن شامی ، سہیل وڑائچ ، نذیر ناجی سمیت دیگر صحافی موجود تھے ، وزیر اعظم نے انہیں طالبان سے مذاکرات سمیت ملک کو درپیش دیگر چیلنجز اور اس کے حل کے لئے کئے گئے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیااس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ ملک کو دہشت گردی اور معاشی بدحالی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے اور معیشت کی بحالی کے لئے امن ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نیک نیتی اور سنجیدگی سے طالبان سے مذاکرات کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اس لئے اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر امن قائم کرنے کیلئے مذاکرات کو ترجیح دی اور حکومت طالبان سے مذاکرات پر پوری سنجیدگی سے کام کررہی ہے مذاکرات سے امن قائم ہوجائے تو اس سے بڑھ کر کوئی بات نہیں کوشش ہے کہ خون خرابے کے بغیر امن قائم ہوجائے انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری قوم کی نظریں دہشت گردوں سے مذاکرات کرنے پر لگی ہوئی ہیں اور حکومت قیام امن کیلئے تمام اقدامات بروئے کار لارہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ملک مزید دہشت گردی کا متحمل نہیں ہوسکتا امید ہے مذاکرات کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے ہمیں آگے بڑھنا ہے تو دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا امن کے بغیر ملکی معیشت کی ترقی ناگزیر ہے ۔وزیراعظم طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے کافی پرامید تھے اور کہا کہ میں صرف امید کا اظہار کروں گا فی الحال مذاکرات پر کام کرنا ہے ۔ بھارت ، افغانستان اور مغربی دنیا کے حوالے سے بات چیت کر نے کے حوالے سے نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی یہ ہے کہ دنیا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ا چھے کئے جائیں۔

برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون جب پاکستان آئے تو انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمن برطانیہ کے دشمن ہیں پاکستان کے دوست برطانیہ کے دوست ہیں ۔ صدر کرزئی کے ساتھ ہونے والی باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے بھارت کے حوالے سے وزیرا عظم کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ ہمارے اختلافات ہیں تاہم ان کے ساتھ تجارت جاری رکھنی چاہیے اور اختلافات کے حل کی کوشش بھی ہونی چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی ایم اوز کی ملاقات کے بعد سرحد پر جاری جھڑپوں میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے اور یہ ایک اچھا قدم ہے۔ ملکی اداروں کو پرائیویٹائز کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کافی سوچ و بچار کررہی ہے کہ ان کو پرائیویٹ کیا جائے یا ان کے اندر اور اضافی رقم لگائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کیلئے کچھ نئے طیارے خریدے جارہے ہیں اور مستقبل کی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے ۔

سٹیل ملز کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر سٹیل ملز پہلے پرائیویٹائز ہوجاتی تو شاید اس کی بہتر قیمت لگ جاتی لیکن اب بھی اس پر سوچ بچار جاری ہے ۔ ملک میں توانائی بحران کے حوالے سے میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کی سب سے پہلی ترجیح ملک میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہے اس کے بعد قیمتوں میں کمی کے حالے سے غور کرینگے ۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کا معاملہ آگے بڑھ رہا ہے دونوں جانب سے کمیٹیوں کے نام آچکے ہیں اور ہم دونوں جانب سے دیئے گئے ناموں کی قدر کرتے ہیں دعا ہے کہ مذاکرات اک یہ عمل آگے بڑھے ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت ، افغانستان سمیت تمام ممالک کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں اور پاکستان بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جانب سے قائم کی گئی کمیٹیاں مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھائیں میں اسمبلی میں کہہ چکا ہوں کہ میں اس کی خود نگرانی کروں گا اور خود کررہا ہوں آپ لوگوں کے ساتھ میری یہی خواہش ہے کہ مذاکرات کا یہ عمل جلد آگے بڑھے ۔

وزیراعظم پاکستان بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک سے بات ہوئی اور کہا کہ ملک کے اندر اور ملک سے باہر تمام ناراض بلوچوں کو منانیں اور جہاں میری ضرورت محسوس ہوئی میں بھی ہر ممکن تعاون کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں بہتری کے آثار نظر آرہے ہیں اس حوالے سے وزیر خزانہ نے بھرپور میڈیا بریفنگ دی ہے ۔

Your Thoughts and Comments