Kab Lazzatoon Ne Zehen Ka Pecha Nahi Kiya

کب لذتوں نے ذہن کا پیچھا نہیں کیا

کب لذتوں نے ذہن کا پیچھا نہیں کیا

یہ میرا حوصلہ تھا کہ لب وا نہیں کیا

وہ کم نگاہ تھا مگر اس سے چرا کے آنکھ

میں نے بھی اپنے ساتھ کچھ اچھا نہیں کیا

تجدید ارتباط بھی ممکن تھی بعد میں

میں نے ہی اس روش کو گوارا نہیں کیا

پہلے تو اک جنون سا عرض طلب کا تھا

جب وہ ملا تو دل نے تقاضہ نہیں کیا

سورج رہا جو دن میں مرے گھر سے دور دور

پھر میں نے رات میں بھی اجالا نہیں کیا

کیا وہم تھا کہ کھلتے ہی لب بند ہو گئے

کیا بات تھی کہ لفظ بھی پورا نہیں کیا

میں نے بھی چلتے چلتے یوں ہی کر دیا سوال

کیا ہو گیا جو آپ نے پورا نہیں کیا

میں سادہ لوح سادہ بیاں سادہ آرزو

اور اس نے سادگی پہ بھروسہ نہیں کیا

جب میرا اشتیاق ہوا ضبط‌‌ آزما

پھر اس نے اپنے آپ ہی پردہ نہیں کیا

امرت سمجھ کے پی لیا انجمؔ نے زہر غم

لیکن تمہارے نام کو رسوا نہیں کیا

انوار انجم

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(404) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Anwar Anjum, Kab Lazzatoon Ne Zehen Ka Pecha Nahi Kiya in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 26 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Anwar Anjum.