مشہور شاعر عاطف وحید یاسر کی شاعری ۔ نظمیں اور غزلیں

وہ آنکھیں

عاطف وحید یاسر

تری دوستی کا کمال تھا مجھے خوف تھا نہ ملال تھا

عاطف وحید یاسر

شریک جاں کےلیے

عاطف وحید یاسر

راہزنوں کے ہاتھ سارا انظام آیا تو کیا

عاطف وحید یاسر

لمس

عاطف وحید یاسر

لو ہم نے کچھ نہیں رکھا بچا کے ہاتھوں میں

عاطف وحید یاسر

خیال آیا ترا تو مر رہیں گے

عاطف وحید یاسر

خواب زادی

عاطف وحید یاسر

جس کی بنیاد میں بھر بھر کے وفا ڈالی ہے

عاطف وحید یاسر

جب تک کہ تیرے لطف کا سامان رہے گا

عاطف وحید یاسر

گفتگو کرنے لگے ریت کے انبار کے ساتھ

عاطف وحید یاسر

دل و نظر کے تقاضاوں سے ماورا نہ سمجھ

عاطف وحید یاسر

دل میں اک شہر خوش آثار کا نقشہ رکھے

عاطف وحید یاسر

اب بھی تیری یاد سنبھالی جا سکتی ہے

عاطف وحید یاسر

آنکھوں کو نقش پا ترا دل کو غبار کر دیا

عاطف وحید یاسر

آنکھیں قلزم جسم ہے شعلہ خیر ہو مولا

عاطف وحید یاسر