Sooli Pey Jaan Atki Hai Marta Mareez HooN

سولی پہ جان اٹکی ہے مرتا مریض ہوں

سولی پہ جان اٹکی ہے مرتا مریض ہوں

زخموں سے لطف لیتا انوکھا مریض ہوں

باتیں محبتوں کی مرے سامنے نہ کر

تو جانتا بھی ہے کہ میں دل کا مریض ہوں

پاگل کیا ہے عشق نے آدھا جو رہ گیا

اب آدھے سر کے درد کا پورا مریض ہوں

پھر میرا ٹھیک ہونے کو دل ہی نہیں کیا

اس نے مجھے کہا تھا میں اچھا مریض ہوں

وہ خوش ہے میری ظاہری حالت کو دیکھ کر

اس کو خبر نہیں کہ میں کتنا مریض ہوں

تم دوستوں کے واسطے بے شک بڑا سہی

اس کی نظر میں میں ابھی چھوٹا مریض ہوں

بیمار کربلا کے ہے صدقے شفا ملی

مولا سے جا کے پوچھیں میں کیسا مریض ہوں

پہلے بھی میرے گاؤں میں گھائل ہیں تین شخص

آزار آگہی کا میں چوتھا مریض ہوں

اس نے حسیبؔ مجھ کو مسیحا سمجھ لیا

میں نے ہزار بار کہا تھا مریض ہوں

حسیب الحسن

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1150) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Haseebul Hasan, Sooli Pey Jaan Atki Hai Marta Mareez HooN in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 10 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Haseebul Hasan.