Aatish Bagh Aisi Bharkii Hai Ke Jalti Hai Howa

آتش باغ ایسی بھڑکی ہے کہ جلتی ہے ہوا

آتش باغ ایسی بھڑکی ہے کہ جلتی ہے ہوا

کوچۂ گل سے دھواں ہو کر نکلتی ہے ہوا

گریۂ عشاق سے کیچڑ ہے ایسے جا بجا

تھام کر دیوار و در گلیوں میں چلتی ہے ہوا

گلشن عالم کی نیرنگی سے ہوتا ہے یقیں

پھر شگوفہ پھولتا ہے پھر بدلتی ہے ہوا

دیکھیے جا کر ذرا کیفیت جوش بہار

جھومتے ہیں پیڑ گر گر کر سنبھلتی ہے ہوا

نارسائی دیکھنا اڑتا ہے جب میرا غبار

یار کے کوٹھے کی کانس سے پھسلتی ہے ہوا

گرمیوں میں سیر گلزاروں کی بھاتی ہے مجھے

ہر قدم پر پنکھیا پھولوں کی جھلتی ہے ہوا

بحرؔ پنکھا ہاتھ سے رکھ دو نہایت زار ہوں

موج دریا کی طرح مجھ کو کچلتی ہے ہوا

امداد علی بحر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(564) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Imdad Ali Bahr, Aatish Bagh Aisi Bharkii Hai Ke Jalti Hai Howa in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 93 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Imdad Ali Bahr.