وحشتِ ہجراں سے جب منسوب ہو جاتا ہوں میں

وحشتِ ہجراں سے جب منسوب ہو جاتا ہوں میں

اِک خیالی عکس کا محبوب ہو جاتا ہوں میں

تُجھ سے روحانی تعلق ہے سو تُجھ کو دیکھ کر

چند لمحوں کے لئے مجذوب ہو جاتا ہوں میں

تُو نہ ہو تو مجھ کو اپنی بھی خبر رہتی نہیں

تُو ملے تو خوب سے بھی خوب ہو جاتا ہوں میں

فاتحانہ مسکراہٹ اُس کو دینے کے لئے

وہ مقابل ہو تو خود مغلوب ہو جاتا ہوں میں

شعر کہتے وقت آجاتا ہے جب اُس کا خیال

خود بخود ہی صاحبِ اسلوب ہو جاتا ہوں میں

ہجر اُس کا مجھ کو سُولی پر چڑھا دیتا ہے روز

اور قمر چُپ چاپ ہی مصلوب ہو جاتا ہوں میں

جمیل قمر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(377) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments