A Ghazal By Adam Gishkori

آدم گشکوری کی غزل

میرا ماضی میرے اندر رہنے دو

دھندلے دھندلے سے کچھ منظر رہنے دو

ترکِ الفت کا سوچو سوچے جاؤ

مجھ میں دھیما دھیما سا ڈر رہنے دو

تم چاہو تو رکھ لو دِن کی تابانی

شب کو لیکن میرے اندر رہنے دو

ان سے ہی تو شب بھر باتیں کرتا ہوں

پرچھائیوں کو دیواروں پر رہنے دو

تیرے ہی کوچے میں بھٹکا کرتے ہیں

میرے خوابوں کو یوں بے گھر رہنے دو

میں نے تم کو چھاہا میں ہی مجرم ہوں

یہ میٹھا الزام مرے سر رہنے دو

جب تک مجھ میں تاب ذرا سی باقی ہے

تم اپنے ہاتھوں میں پتھر رہنے دو

چاہے مجھ سے چھین لو روٹی مانی تم

لیکن میرے سر پر چادر رہنے دو

تم اپنی دُھن میں اپنا ہی کام کرو

وقت کے جیسے بھی ہیں تیور رہنے دو

یہ تو اِک معیار ہیں میرا آدم جی

میرے خستہ دیوارو در رہنے دو

عبدالباسط آدم گشکوری

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(355) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Poetry of Abdul Basit Adam Gishkori, A Ghazal By Adam Gishkori in Urdu. Also there are 41 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Abdul Basit Adam Gishkori.